اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے ان گناہوں کا ذکر کیا جو کبیرہ گناہ شمار ہوتے ہیں اوروہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت یا عبودیت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کو پہلے ذکر کیا اس لئے کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا،اس لئے کہ یہ اللہ کے بارے میں بدگمانی ہے اور اس کی وسیع رحمت سے نا واقفیت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے بندے کو نعمتوں کے ذریعہ ڈھیل دینے اور حالت غفلت میں اچانک پکڑلینے سے بے خوف رہنا۔ اس حدیث سے مُراد یہ نہیں کہ کبیرہ گناہ صرف یہی ہیں۔ اس لئے کہ کبیرہ گناہ بہت ہیں۔ تاہم یہاں ان میں سے سب سے بڑے گناہوں کا ذکر کیا ہے۔
- گناہوں کا کبائر و صغائر میں منقسم ہونا۔
- شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔
- اللہ سبحانہ کے مکر سے مامون ہونا اور اس کی رحمت سے مایوس و ناامید ہونا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
- اللہ تعالی کو مکرکرنے والوں کے مقابلے میں صفت مکر سے متصف کرنا جائز ہے۔ یہ دراصل صفت کمال ہے۔ مذموم مکر وہ ہے، جو اس شخص سے کیا جائے، جو مکر کا مستحق نہ ہو۔
- بندے پر واجب ہے کہ وہ خوف و رجا کے درمیان رہے۔ جب وہ خوف کرے، تو مایوس نہ ہو اور جب امید رکھے، تو مامون نہ رہے۔
- اللہ تعالیٰ کے لیے صفت رحمت کا اثبات، جو اس کی عظمت کے شایان شان ہو۔
- اللہ عزوجل سے اچھا گمان رکھنا واجب ہے۔
كتاب التوحيد، محمد بن عبد الوهاب، تحقيق: دغش العجمي، مكتبة أهل الأثر، الطبعة: الخامسة 1435هـ. الجديد في شرح كتاب التوحيد، محمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي، تحقيق: محمد بن أحمد سيد، مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة 1424هـ، 2003م. الملخص في شرح كتاب التوحيد، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ، 2001م. جامع معمر بن راشد، معمر بن أبي عمرو راشد الأزدي، نزيل اليمن، تحقيق: حبيب الرحمن الأعظمي، الناشر: المجلس العلمي بباكستان، وتوزيع المكتب الإسلامي ببيروت، الطبعة: الثانية 1403 هـ.