سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کیا میں تمہیں اس مشن پر نہ بھیجوں، جس پر مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا تھا؟ (آپ نے مجھے یہ ہدایت دے کر بھیجا تھا کہ) تم سے ایسا کوئی مجسمہ نہ چھوٹنے پائے، جسے تم نے مٹا نہ دیا ہو اور کوئی اسی اونچی قبر نہ چھوٹنے پائے، جسے تم نے برابر نہ کر دیا ہو۔

عن أبي الهيَّاج الأسدي قال: قَالَ لِي ‌عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ.
ابو الہیّاج اسدی کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمہیں اس مشن پر نہ بھیجوں، جس پر مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا تھا؟ (آپ نے مجھے یہ ہدایت دے کر بھیجا تھا کہ) تم سے ایسا کوئی مجسمہ نہ چھوٹنے پائے، جسے تم نے مٹا نہ دیا ہو اور کوئی اسی اونچی قبر نہ چھوٹنے پائے، جسے تم نے برابر نہ کر دیا ہو۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر بھیجتے تھے کہ جب انھیں کسی ذی روح کی صورت ملے، چاہے مجسم ہو یا غیر مجسم، تو ہٹا دیں یا مٹا دیں۔ اسی طرح جب کوئی اونچی قبر ملے، تو زمین کے برابر کر دیں اور اس پر جو بھی عمارت ہو اسے گرا دیں۔ یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس طرح سطح زمین کے برابر کر دیں کہ زمین سے ایک بالشت سے زیادہ اٹھی ہوئی نہ ہو۔

فوائد
  1. ذی روح چیزوں کی تصویر بنانا حرام ہے، کیوں کہ یہ شرک کی جانب لے جانے والی چیز ہے۔
  2. ارباب اقتدار اور طاقت رکھنے والوں کے لیے زور بازو سے منکر کا ازالہ کرنا مشروع ہے۔
  3. تصویریں، مجسمے اور قبروں پر بنائی گئی تعمیرات جو جاہلیت کے آثار پر دلالت کرنے والی چیزیں ہیں‘ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کے ازالے کے حریص تھے۔
حوالہ

صحيح مسلم (2/ 666) (969). القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (2/ 446). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص402). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص447). كتاب التوحيد، للإمام محمد بن عبد الوهاب (ص138).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توحیدِ اُلوہیت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com