سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ سے کسی موضوع پر گفتگو کی اور اسی دوران بولا : جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں (وہی ہوتا ہے)۔ لہذا آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیا تم نے مجھے اللہ کے برابر بنا دیا؟ اس کے بجائے یہ کہا کرو : جو اکیلے اللہ چاہتا ہے (وہی ہوتا ہے)۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ، فَقَالَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشِئْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا؟ قُلْ: مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ سے کسی موضوع پر گفتگو کی اور اسی دوران بولا : جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں (وہی ہوتا ہے)۔ لہذا آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیا تم نے مجھے اللہ کے برابر بنا دیا؟ اس کے بجائے یہ کہا کرو : جو اکیلے اللہ چاہتا ہے (وہی ہوتا ہے)۔"
رواه ابن ماجه والنسائي في الكبرى وأحمددرجہإسناده حسن
تشریح

ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ سے کسی مسئلے پر گفتگو کی اور اس کے بعد کہا : "ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔" لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی اس بات کی تردید کر دی اور بتایا کہ بندے کی مشیت کو اللہ کی مشیت پر واو کے ذریعے عطف کرنا شرک اصغر ہے۔ کسی مسلمان کے لیے اس طرح کی بات کہنا جائز نہيں ہے۔ بعد ازاں ان کی رہ نمائی اس طرف کر دی کہ کیا کہنا چاہیے۔ انسان کو بس "ہوگا وہی جو بس اللہ چاہے" کہنا چاہیے۔ بات بس اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کر کے کرنی چاہیے۔ کسی بھی حرف عطف کے ذریعے اس کے ساتھ کسی اور کی مشیت کو جوڑنا نہيں چاہیے۔

فوائد
  1. "ما شاء الله وشئت" یعنی ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں, اور اس طرح کا کوئی دوسرا جملہ کہنے کی ممانعت، جس میں بندے کی مشیت کو اللہ کی مشیت پر واو (اور) کے ذریعے عطف کیا گیا ہو، کیوں کہ یہ شرک اصغر ہے۔
  2. منکر کا انکار ضروری ہے۔
  3. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے توحید کے چشمۂ صافی کو تحفظ فراہم کرنے اور شرک کے راستوں کو بند کرنے کا پورا انتظام کیا ہے۔
  4. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے منکر کے انکار کے وقت مدعو کی رہنمائی کسی مباح بدل کی جانب کر دینی چاہیے۔
  5. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں "ہوگا وہی جو بس اللہ چاہے" کہنے کی رہنمائی کی ہے۔ جب کہ دوسری حدیث میں فرمایا : "تم کہو : ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور پھر آپ چاہیں۔" ان دونوں کے درمیان تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ "ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور پھر آپ چاہیں" کہنا جائز ہے اور "ہوگا وہی جو بس اللہ چاہے" کہنا افضل ہے۔
  6. "ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور پھر آپ چاہیں" کہنا جائز تو ہے، لیکن افضل یہ ہے کہ "ہوگا وہی جو بس اللہ چاہے" کہا جائے۔
حوالہ

السنن الكبرى للنسائي (9/ 362) (10759). سنن ابن ماجه (3/ 252) (2117). مسند أحمد (5/ 297) (3247). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص373). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص335). القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (2/ 230).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توحیدِ اُلوہیت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com