سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جس نے تعویڈ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ، فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا؟ قَالَ: «إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً»، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا، فَبَايَعَهُ، وَقَالَ: «مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ».
عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک جماعت آئی، جن میں نو لوگوں سے آپ نے بیعت لی اور ایک شخص سے بیعت نہیں لی۔ لہذا انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ماجرا ہے کہ آپ نے نو لوگوں سے بیعت لی اور اسے چھوڑ دیا؟ آپ نے جواب دیا : "اس نے تعویذ باندھ رکھا ہے۔" چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ اندر ڈالا اور اسے کاٹ دیا۔ تب جاکر آپ نے اس سے بیعت لی اور فرمایا : "جس نے تعویڈ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔"
رواه أحمددرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک جماعت آئی۔ کل دس لوگ تھے۔ نو لوگوں سے آپ نے اسلام اور تابع داری کی بیعت لی اور دسویں کو چھوڑ دیا۔ جب اس کا سبب پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : اس کے جسم پر تعویذ بندھا ہوا ہے۔ تعویذ موتی وغیرہ کو کہتے ہیں، جن کو نظر بد یا نقصان سے بچنے کے لیے باندھا یا لٹکایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس شخص نے تعویذ کی جگہ پر ہاتھ ڈالا اور اسے کاٹ کر پھینک دیا۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے بیعت لی اور تعویذ وغیرہ سے خبردار کرتے ہوئے اور اس کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا: "جس نے تعویذ لٹکایا، تو بلا شبہ اس نے شرک کیا۔"

فوائد
  1. جو غیر اللہ پر بھروسہ کرے گا، اللہ اس کے ساتھ اس کے ارادہ کے برعکس معاملہ کرے گا۔
  2. یہ عقیدہ رکھنا کہ تعویذ لٹکانا اذیت اور نظر بد سے بچنے کا سبب ہے، شرک اصغر ہے۔ جب کہ ان کو بذات خود نافع ماننا شرک اکبر ہے۔
حوالہ

مسند أحمد (28/ 636) (17422). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص74). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص85).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توحیدِ اُلوہیت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com