سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔

عن عبد الله بن عكيم رضي الله عنه مرفوعاً: «مَنْ تَعَلَّقَ شيئا وُكِلَ إليه».
عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

جو اپنے دل یا اپنے عمل یا پھر دونوں ہی کے ساتھ کسی چیز کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے حصولِ منفعت یا دفعِ مضرت کی امید لگائی، اللہ تعالیٰ اسے اسی چیز کے سپرد کر دیتا ہے جس سے اس نے تعلق جوڑا ہو۔ پس جس نے اللہ سے ناطہ جوڑا، اس کے لیے اللہ کافی ہو جاتا ہے اور ہر مشکل کو اس کے لیے آسان کر دیتا ہے اور جو اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اسی چیز کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔

فوائد
  1. اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے لو لگانے کی ممانعت۔
  2. تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کا واجب ہونا۔
  3. شرک کے نقصان اور اس کے برے انجام کا بیان۔
  4. انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا اس کے پاس عمل ہوتا ہے۔
  5. عمل کا اچھا یا برا نتیجہ عامل کے اعتبارسے نکلتا ہے۔
  6. اس شخص کی نامرادی، جو اللہ سے روگردانی کرے اور کسی اور سے نفع طلب کرے۔
حوالہ

الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م. الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. غاية المرام في تخريج أحاديث الحلال والحرام، للألباني، المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثالثة - 1405.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توحیدِ اُلوہیت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com