عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ ہی اپنے آبا و اجداد کی۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم طواغی کی قسم کھانے سے منع فرما رہے ہیں۔ طواغی طاغیۃ کی جمع ہے۔ مراد وہ بت ہیں، جن کی اللہ کے بجائے مشرکین پوجا کیا کرتے تھے۔ یہ بت دراصل ان کی سرکشی اور کفر کا سبب تھے۔ اسی طرح آپ آبا واجداد کی قسم کھانے سے منع فرما رہے ہیں۔ کیوں کہ عرب کے لوگ اپنے آبا واجداد کی قسم ان پر فخر اور ان کی عزت کے طور پر کھایا کرتے تھے۔
فوائد
قسم بس اللہ اور اس کے اسما وصفات کی کھانا جائز ہے۔
طاغوتوں، آبا واجداد، پیشواؤں، بتوں اور ان جیسی باطل چیزوں کی قسم کھانا جائز نہيں ہے۔
غیراللہ کی قسم کھانا ویسے تو شرک اصغر ہے، لیکن دل میں اس کی اللہ کی جیسی تعظیم بس جائے یا اسے عبادت کا سزاوار سمجھ لیا جائے، تو یہ شرک اکبر ہو جاتا ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم.
نزهة المتقين، مجموعة من الباحثين (2/ 1166).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 451).
سبل السلام، لمحمد الصنعاني (2/ 545).
المنهاج شرح صحيح مسلم، للنووي (11/ 108).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com