جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
عن طارق بن أشيم الأشجعي رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ».
طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : "جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اپنی زبان سے گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں ہے اور اللہ کے علاوہ پوجی جانے والی تمام چیزوں کا انکار کیا اور اسلام کے علاوہ تمام ادیان سے اپنی براءت ظاہر کر دی، اس کا مال اور اس کا خون مسلمانوں پر حرام ہو گیا۔ کیوں کہ ہمیں دیکھنا صرف اس کے ظاہری عمل کو ہے۔ چنانچہ نہ تو اس کا مال چھینا جائے گا اور نہ اس کا خون بہایا جائے گا۔ ہاں! اگر وہ کوئی ایسا گناہ یا جرم کر بیٹھے، جس کی بنا پر اسلامی احکام کی رو سے اس کی جان یا اس کا مال حلال ہو جاتا ہو، تو بات الگ ہے۔
جب کہ اس کا حساب قیامت کے دن اللہ لے گا۔ اگر وہ مخلص اور سچا ہے، تو ثواب دے گا اور اگر منافق ہے، تو عذاب دے گا۔
فوائد
زبان سے لاالہ الا اللہ کہنا اور اللہ کے علاوہ پوجی جانے والی چیزوں کا انکار کرنا دخول اسلام کے لیے شرط ہے۔
لا الہ الا اللہ کا معنی: اللہ کے علاوہ پوجی جانے والی تمام چیزوں، جیسے بتوں اور قبروں وغیرہ کا انکار کرنا اور بس ایک اللہ کی عبادت کرنا ہے۔
جس نے اللہ کے ایک ہونے کا اقرار کیا اور اسلام کے ظاہری احکام کی پابندی کی، اس سے دست کش رہنا ضروری ہے، جب تک کہ اس کی جانب سے اس کے مخالف رویے کا اظہار نہ ہو۔
مسلمان کی جان، مال اور عزت و آبرو کے ساتھ ناحق چھیڑ چھاڑ حرام ہے۔
دنیا میں ظاہری بنیاد پر اور آخرت میں نیتوں اور مقاصد کی بنیاد پر حکم صادر کیا جائے گا۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 53) (23).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص68).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص77).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com