اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔
- دونوں گواہیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور پر جڑی ہوئی ہيں۔ ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا جائے، تو دوسری صحیح نہیں ہوگی۔ اسی لیے دونوں کو ایک رکن بنایا گیا ہے۔
- یہ دونوں گواہیاں دین کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر کوئی قول اور عمل قبول نہیں ہوگا۔
صحيح البخاري (1/ 11) (8). صحيح مسلم (1/ 45) (16)، و(1/ 88) (82). فتح الباري لابن رجب (1/ 22). جامع العلوم والحكم (1/147). شرح الأربعين لابن العطّار (ص 62). شرح الأربعين النووية لعبد الكريم الخضير (ص 87). فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 29). شرح الأربعين النووية لصالح آل الشيخ (ص 91 - 95). التحفة الربانية لإسماعيل الأنصاري (ص 12).