سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

توحیدِ ربوبیت

8 احادیث

کرسی عرش کے مقابلہ میں یوں ہے جیسے لوہے کا چھلّا زمین کے کسی وسیع و عریض صحراء میں پڑا ہو۔

عن أبي ذر الغفاري رضي الله عنه مرفوعاً: "ما الكرسي في العرش إلا كحلقة من حديد ألقيت بين ظهري فلاة من الأرض".
ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(اللہ تعالی کی) کرسی عرش کے مقابلے میں یوں ہے جیسے لوہے کا چھلّا زمین کے کسی وسیع و عریض صحراء میں پڑا ہو“۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے اپنی کتاب ”العرش“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے امام ذھبی نے اپنی کتاب ”العلو“ میں روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بتا رہے ہیں کہ کرسی باوجود اپنی وسعت اور عظمت کے عرش کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے زمین کے کسی وسیع و عریض صحراء میں پڑا لوہے کا ایک چھلّا ہوتا ہے۔ اس سے عرش کے خالق کی عظمت اور اس کی قدرت تامہ کا علم ہوتا ہے۔

حوالہ

1- فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، مطبعة السنة المحمدية، القاهرة، مصر، الطبعة: السابعة، 1377هـ - 1957م. 2- القول المفيد على كتاب التوحيد، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم، 1424ه. 3- الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م. 4- الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م. 5- التمهيد لشرح كتاب التوحيد، دار التوحيد، تاريخ النشر: 1424هـ. 6- شرح العقيدة الطحاوية، المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت الطبعة: الثانية، - 1414ه. 7- العرش وما روي فيه، المؤلف: محمد بن عثمان ابن أبي شيبة العبسي، تحقيق: محمد بن حمد الحمود، الناشر: مكتبة المعلا – الكويت، الطبعة الأولى، 1406ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک بنائے، حالاں کہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے

عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قال: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قُلْتُ: إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ؛ تَخَافُ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ».
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک بنائے، حالاں کہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے"۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "تو اپنے بچے کو اس ڈر سے مار دے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہو گا"۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سب سے بڑے گناہ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: سب سے بڑا گناہ شرک اکبر ہے۔ شرک اکبر یہ ہے کہ کسی کو الوہیت، ربوبیت یا اسما و صفات میں اللہ کے جیسا مان لیا جائے۔ یہ ایسا گناہ ہے، جو توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتا۔ اگر انسان یہ گناہ کرتا ہوا مر جائے، تو ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اس کے بعد دوسرا بڑا گناہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا ہے کہ وہ ساتھ میں کھائے گی۔ ویسے تو کسی بھی انسان کی جان لے لینا حرام ہے، لیکن گناہ اس وقت اور بڑا ہو جاتا ہے، جب مقتول کا قاتل سے رشتہ ہو۔ گناہ اس وقت بھی بڑا ہو جاتا ہے، جب قتل کے پیچھے یہ ڈر چھپا ہوا ہو کہ مقتول اللہ کی دی ہوئی روزی کھانے میں قاتل کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔ تیسرا بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے پڑوسی کی بیوی کو بہلا پھسلا کر راضی کر لے اور اس کے ساتھ منہ کالا کرے۔ ویسے تو زنا حرام ہے، لیکن اس کا گناہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے، جب زنا پڑوسی کی بیوی کے ساتھ کیا جائے، جس کے ساتھ شریعت نے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔

فوائد
  1. گناہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں، جس طرح کہ اچھے اعمال کی فضیلت میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
  2. سب سے بڑا گناہ اللہ کا شریک ٹھہرانا، پھر ساتھ میں کھانا کھانے کے ڈر سے اولاد کا قتل کرنا اور پھر پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرنا ہے۔
  3. روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ نے ساری مخلوقات کو روزی دینے کی ذمے داری خود اپنے اوپر لے رکھی ہے۔
  4. پڑوسی کے حق کی اہمیت اور اس بات کی وضاحت کہ پڑوسی کو اذیت دینا دوسرے کو اذیت دینے سے بڑا گناہ ہے۔
  5. صرف خالق ہی عبادت کا حق دار ہے۔ کوئی اور نہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (6/ 18) (4477). صحيح مسلم (1/ 90) (86). شرح النووي على مسلم (2/ 79). فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 288). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 335).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤمنينَ رضي الله عنها قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ هَتَكَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللهِ» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَقَطَعْنَاهُ فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ».
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم میرے یہاں آئے تو دیکھا کہ میں نے اپنے ایک طاق پر ایک کپڑا ڈال رکھا ہے، جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ اس پر نظر پڑتے ہی آپ نے اسے کھینچ کر ہٹا ڈالا، آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور فرمایا : "اے عائشہ! قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔" عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہيں : لہذا ہم نے اسے پھاڑکر اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، تو دیکھا کہ انھوں نے ایک طاق پر ایک پردہ لگا رکھا ہے، جس پر جان دار چیزوں کی تصویریں بنی ہوئی ہيں۔ یہ دیکھ کر غصے سے آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے اسے کھینچ کر ہٹا دیا اور فرمایا : قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو اپنی تصویروں کے ذریعے عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : چنانچہ ہم نے اسے پھاڑ کر ایک یا دو تکیے بنا لیے۔

فوائد
  1. غلط کام دیکھتے ہی بلا تاخیر اس کی تردید ہو جانی چاہیے، جب تک کہ اس کی تردید اس سے زیادہ بڑی برائی کی وجہ نہ بنے۔
  2. قیامت کے دن گناہ کے مطابق عذاب میں بھی تفاوت ہوگا۔
  3. جان دار چیزوں کی تصویر بنانا کبیرہ گناہ ہے۔
  4. تصویر بنانے کی حرمت کے پیچھے کارفرما ایک حکمت یہ ہے کہ یہ عمل تخلیق میں خود کو اللہ کے مشابہ بتانا ہے۔ چاہے تصویر بنانے والے کے دل میں یہ بات ہو یا نہ ہو۔
  5. شریعت کی کوشش ہے کہ اموال کے ناجائز پہلوؤں سے بچتے ہوئے ان سے استفادہ کیا جائے اور اس طرح ان کی حفاظت کی جائے۔
  6. جان دار چیزوں کی تصویر بنانا ممنوع ہے۔ چاہے اس کی شکل جو بھی ہو۔ خواہ حقير سی شے ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 168) (5954). صحيح مسلم (3/ 1668) (2107). القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (2/ 442). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص399). الجديد في شرح كتاب التوحيد، للقرعاوي (ص441). كتاب التوحيد لمحمد بن عبد الوهاب (ص138).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کی طرف سے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر ہے، جو کہتا ہے کہ اے رب! یہ نطفہ ہے۔ اے رب! اب یہ علقہ (جما ہوا خون) بن گیا ہے۔ اے رب! اب مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالی چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری كر دے، تو وہ پوچھتا ہے: اے رب! یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ بدبخت ہو گا یا نیک بخت؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہو گی؟ اس طرح یہ سب باتیں اس کی ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «وكَّلَ اللهُ بالرَّحِم مَلَكًا، فيقول: أيْ ربِّ نُطْفة، أيْ ربِّ عَلَقة، أيْ ربِّ مُضْغة، فإذا أراد اللهُ أن يقضيَ خَلْقَها، قال: أيْ ربِّ، أذكرٌ أم أنثى، أشقيٌّ أم سعيدٌ، فما الرزق؟ فما الأَجَل؟ فيكتب كذلك في بطن أُمِّه».
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی طرف سے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر ہے، جو کہتا ہے کہ اے رب! یہ نطفہ ہے۔ اے رب! اب یہ علقہ (جما ہوا خون) بن گیا ہے۔ اے رب! اب مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالی چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری كر دے تو وہ پوچھتا ہے: اے رب! یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ بدبخت ہو گا یا نیک بخت؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہو گی؟ اس طرح یہ سب باتیں اس کی ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے۔ یعنی اللہ کی طرف سے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ رحم مادر کے امور کو سنبھالتا ہے۔ رحم سے مراد وہ جگہ ہے، جہاں ماں کے پیٹ میں بچہ پرورش پاتا ہے۔ وہ فرشتہ کہتا ہے: ”أي ربّ نطفة“ یعنی یہ نطفہ ہے۔ نطفہ سے مراد مرد کا مادہ منویہ ہے۔ یہی مفہوم اس کے بعد والے جملے کا بھی ہے کہ: ”أي ربّ علقة“ یعنی اے رب! یہ علقہ بن چکا ہے۔ علقہ سے مراد گاڑھا خون ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: ”أي ربّ مضغة“ یعنی اے رب یہ مضغہ بن چکا ہے۔ مضغہ گوشت کے ٹکڑے کو کہا جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ان ادوار میں سے ہر ایک کی مدت چالیس دن ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ اس کی پیدائش کو مکمل کرنا چاہتا ہے“ یعنی اس مضغہ کی پیدائش کو، کیوںکہ ان ادوار میں سے آخری دور یہی ہوتا ہے۔ 'القضاء' سے مراد ہے اس کی پیدائش کو پورا کرنا، بایں طور کہ اس میں روح پھونک دی جائے۔ جیسا کہ اس کی وضاحت ایک اور روایت سے ہوتی ہے۔ ایسا ایک سو بیس دن کے مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ پھر فرشتہ پوچھتا ہے: ”أي رب أذكر أم أنثى“ یعنی اے رب! میں اسے مرد لکھوں یا عورت؟ ”أشقي أم سعيد“ یعنی آیا میں اسے اہل دوزخ میں سے ایک بدبخت لکھوں یا پھر جنتیوں میں سے ایک خوش بخت؟ ”فما الرزق“ یعنی اس کا رزق کم ہے یا زیادہ اور کتنا ہے؟ ”فما الأجل“ یعنی اس کی عمر کتنی ہے، لمبی ہے یا مختصر؟ ”فيكتب كذلك في بطن أمه“ یعنی بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے کہ یہ سب ذکر کی گئی اشیا اللہ تعالی کے حکم کے مطابق لکھ دی جاتی ہیں۔

حوالہ

صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. شرح صحيح البخاري لابن بطال، تحقيق: أبي تميم ياسر بن إبراهيم، نشر: مكتبة الرشد، الرياض-السعودية، الطبعة: الثانية 1423ه، 2003م. التنوير شرح الجامع الصغير، لمحمد بن إسماعيل بن صلاح بن محمد الحسني، الكحلاني الأمير الصنعاني، المحقق: د. محمَّد إسحاق محمَّد إبراهيم، الناشر: مكتبة دار السلام، الرياض، الطبعة: الأولى، 1432 هـ - 2011 م. تاج العروس من جواهر القاموس، للزبيدي، نشر: دار الهداية. فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين للنووي وابن رجب رحمهما الله، لعبد المحسن بن حمد العباد البدر، دار ابن القيم، الدمام المملكة العربية السعودية -الطبعة: الأولى، 1424هـ/2003م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ جہنم پر حرام کر دیتا ہے

عن أنس بن مالك رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ قَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ»، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «يَا مُعَاذُ»، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، ثَلَاثًا، قَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حَرَّمَهُ اللهُ عَلَى النَّارِ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا؟ قَالَ: «إِذًا يَتَّكِلُوا». وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے، جب کہ معاذ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اس طرح تین بار خطاب کیا۔ پھر فرمایا: ”جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ جہنم پر حرام کر دیتا ہے“۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی اطلاع نہ دے دوں، تا کہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے“۔ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت (کتمانِ علم کے) گناہ سے بچنے کے لیے اس حدیث کو بیان کر دیا۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے ان کا نام لے کر تین بار کہا : اے معاذ! آپ کے ان کو تین بار پکارنے کا مقصد دراصل آگے کہی جانے والی بات کی اہمیت کو واضح کرنا تھا۔ چنانچہ ہر بار معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ کی ہر آواز پر کھڑا ہوں اور اسے اپنے لیے سرمايۂ افتخار سمجھتا ہوں۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جو بندہ سچے دل سے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں اور پھر وہ اسی حالت میں مر جاتا ہے، تو اللہ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔ یہ سننے کے بعد معاذ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بات کی اجازت طلب کی کہ وہ یہ حدیث لوگوں کو سنا دیں، تاکہ لوگوں میں مسرت کی لہر دوڑ جائے۔ لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ نہ جائیں اور عمل کے میدان میں پیچھے رہ جائیں۔ لہذا معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث کسی کو نہیں بتائی۔ موت سے پہلے اس ڈر سے بتا دی کہ کہیں علم چھپانے کا گناہ سر پر لد نہ جائے۔

فوائد
  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا تواضع دیکھیے کہ معاذ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا۔
  2. یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تعلیم دینے کا ایک طریقہ سامنے آتا ہے کہ آپ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک سے زیادہ بار پکارا، تاکہ وہ پوری توجہ کے ساتھ آپ کی بات سنیں۔
  3. اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینے کی ایک شرط یہ ہے کہ گواہی دینے والا سچے دل اور پورے یقین کے ساتھ گواہی دے۔ اس میں جھوٹ یا شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔
  4. اہل توحید جہنم کی آگ میں ہمیشہ نہيں رہيں گے۔ اپنے گناہوں کے سبب اس میں داخل ہو بھی جائیں، تو پاک صاف ہونے کے بعد وہاں سے نکال لیے جائیں گے۔
  5. سچے دل سے مذکورہ دونوں گواہی دینے والے کی فضیلت۔
  6. بعض حالات میں کسی حدیث کو بیان نہ کرنا بھی جائز ہے، جب اسے بیان کرنے کے نتیجے میں کوئی برائی سامنے آئے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 37) (128). صحيح مسلم (1/ 61) (32). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين (1/ 377). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 487). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 496).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’(اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ) میرے کچھ بندوں نے مجھ پر ایمان کے ساتھ صبح کی اور کچھ بندوں نے کفر کے ساتھ صبح کی

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الجُهَنِيِّ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ».
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں نماز فجر پڑھائی۔ اس دن رات کو بارش ہوئی تھی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے فرمایا: ’’تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’(اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ) میرے کچھ بندوں نے مجھ پر ایمان کے ساتھ صبح کی اور کچھ بندوں نے کفر کے ساتھ صبح کی۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی وہ تو میرا مؤمن بندہ اور ستارے کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی وہ میرا منکر اور ستارے پر ایمان لانے والا ہے۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں، جو کہ مکہ سے قریب ایک گاؤں ہے، صبح کی نماز پڑھائی۔ اس دن رات میں بارش ہوئی تھی۔ جب سلام پھیر چکے اور نماز سے فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے ربنے کیا فرمایا؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا کہ بارش کے وقت لوگوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ایک وہ لوگ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و رحمت سے ہم پربارش نازل ہوئی اور نزول بارش کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتا ہے، تو ایسا شخص اللہ پر ایمان لانے والا ہے، جو اللہ اس جہان کا خالق اور کائنات میں تصرف کرنے والا ہے۔ ایسا شخص ستارے کا منکر ہے۔ اس کے برخلاف جو یہ کہتا ہے کہ فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی، وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کفر اصغر ہے۔ کیوں کہ اس نے نزول بارش کو ستارے کی طرف منسوب کیا، جب کہ اللہ نے ستارے کو نہ تو بارش کا شرعی سبب بنایا ہے اور نہ تقدیری سبب۔ البتہ جو شخص نزول بارش اور دیگر زمینی حوادث کو ستاروں کے طلوع ہونے یا ٹوٹ کر گرنے جیسی حرکات کی طرف منسوب کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ وہی حقیقی فاعل ہیں، تو وہ شخص کفر اکبر کا مرتکب ہے۔

فوائد
  1. نزول بارش کے بعد یہ کہنا مستحب ہے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش نازل ہوئی۔
  2. جس نے نزول باراں وغیرہ کو ستارے کی طرف اس حیثیت سے منسوب کیا کہ وہی اس کی تخلیق کرتا اور اسے وجود میں لاتا ہے، تو وہ کفر اکبر کا مرتکب ہے۔ لیکن منسوب اس بنیاد پر کرے کہ ستارہ نزول باراں کا سبب ہے، تو وہ کفر اصغر کا مرتکب ہے، کیوں کہ ستارہ نزول باراں کا نہ تو شرعی سبب ہے اور نہ حسی۔
  3. جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے تو وہ کفر کا سبب بن جاتی ہے اور اگر اس پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے، تو وہ ایمان کا سبب بن جاتی ہے۔
  4. یہ کہنے سے منع کیا گیا ہے کہ "ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی۔" خواہ اس کا مقصد بارش کا وقت بتانا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ممانعت دراصل شرک کا دروازہ بند کرنے کے لیے ہے۔
  5. نعمتوں سے فیض یاب ہونے اور مصائب ومشکلات سے دور رہنے کے لیے دل کو اللہ تعالی سے وابستہ رکھنا واجب ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 169) (846)، صحيح مسلم (1/ 83) (71)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (2/ 484)، المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (1/ 260).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟

عَنْ ‌قَتَادَةَ رحمه الله قال: حَدَّثَنَا ‌أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ؟ قَالَ: «أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» قَالَ قَتَادَةُ: بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا.
قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن اپنے چہرے کے بل کیسے چلائے جائیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟‘‘ حضرت قتادہ نے کہا: یقینا ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ اس پر قادر ہے)۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کافر کو قیامت کے دن چہرے کے بل کیسے چلایا جائے گا؟! تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات جس نے اسے دنیا میں دو پاؤں پر چلایا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے چہرے کے بل چلائے؟! یقینا اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔

فوائد
  1. قیامت کے دن کافر کی رسوائی ظاہر ہوگی اور وہ منہ کے بل چلے گا۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 109) (6523)، صحيح مسلم (4/ 2161) (2806)، الإفصاح عن معاني الصحاح (5/200)، فتح الباري (11/382)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (23/ 105)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (43/ 454).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”اے لڑکے! میں تجھے چند (اہم) باتیں بتلاتا ہوں (انھیں یاد رکھ): تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر! وہ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب تو مانگے تو صرف اللہ سے مانگ، اور جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر

عَنْ أَبِي العَبَّاسِ، عَبْدِ الله بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْت خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: «يَا غُلَامِ! إنِّي أُعَلِّمُك كَلِمَاتٍ: احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ الله تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاَللهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ؛ رُفِعَتِ الأَقْلَامُ، وَجَفَّتِ الصُّحُفُ». وَفِي رِوَايَةِ غَيْرِ التِّرْمِذِيِّ: «احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إلَى اللهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَمَا أَصَابَك لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنْ الفَرَجَ مَعَ الكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ العُسْرِ يُسْرًا».
ابو العباس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ایک دن میں اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا کہ آپ نے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تجھے چند (اہم) باتیں بتلاتا ہوں (انھیں یاد رکھ): تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر! وہ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب تو مانگے تو صرف اللہ سے مانگ، اور جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر۔ اور یہ بات جان لے کہ اگر ساری امت بھی اکٹھا ہو کر تجھے کچھ نفع پہنچانا چاہے تو اس سے زیادہ کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تجھے کچھ نقصان پہنچانے کے لیے اکٹھا ہو جائے، تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی، جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہيں۔“ جب کہ ترمذی کے علاوہ ایک دوسری روایت میں ہے: ”تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ تو خوش حالی میں اللہ کو پہچان اور اس کی طرف توجہ رکھ، وہ تجھے سختی اور مصیبت میں پہچانے گا، جان لے کہ جو کچھ تجھ سے چوک گیا وہ تجھے پہنچنے والا نہ تھا، اور جو کچھ تجھے پہنچ گیا وہ تجھ سے چوکنے والا نہیں تھا۔ نیز جان لے کہ (اللہ کی) مدد صبر کے ساتھ ہے‘ کشادگی تکلیف کے ساتھ ہے اور دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔“
اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔درجہصحيح
تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہيں کہ ایک دن وہ اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے کہا: میں تمھیں کچھ باتیں سکھاؤں گا، جن سے اللہ تمھیں فائدہ پہنچائے گا: اللہ کے احکام کی حفاظت کر کے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہ کر اس طرح اللہ کی حفاظت کرو کہ وہ تم کو نیکی اور اللہ سے قریب کرنے والے کاموں میں مشغول اور نافرمانیوں اور گناہوں سے دور پائے۔ اگر تم ایسا کروگے، تو بدلے میں اللہ دنیا وآخرت کی ناخوش گوار چیزوں سے تمھاری حفاظت کرے گا اور تم جہاں بھی جاؤگے، ہر کام میں تمھاری مدد کرے گا۔ جب تم کچھ مانگنا چاہو، تو صرف اللہ سے مانگو۔ کیوں کہ وہی مانگنے والوں کی مرادیں پوری کرتا ہے۔ جب مدد طلب کرنی ہو، تو بس اللہ سے طلب کرو۔ تمھارے دل میں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اگر روئے زمین پر موجود سارے لوگ تمھارا بھلا کرنا چاہيں، تو اتنا ہی کر سکتے ہيں، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے اور اگر روئے زمین پر بسنے والے سارے لوگ تمھارا برا کرنا چاہيں، تو اس سے زیادہ نہیں کر سکتے، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے۔ ان ساری باتوں کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی حکمت اور علم کے تقاضے کے مطابق لکھ رکھا ہے اور اللہ کے لکھے ہوئے میں کوئی تبدیلی ممکن نہيں ہے۔ جو اللہ کے اوامر کی بجا آوری اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے اللہ کی حفاظت کرتا ہے، اللہ سبحانہ و تعالی ایسے بندے کے سامنے ہوتا ہے۔ اس کے حالات سے واقف ہوتا ہے اور اس کی مدد اور تائید کرتا ہے۔ اگر انسان خوش حالی کے وقت اللہ کی فرماں برداری کرتا ہے، تو اللہ مشکلات کے وقت اس کے لیے کشادگی اور نکلنے کا راستہ مہیا کر دیتا ہے۔ لہذا ہر انسان کو راضی بہ رضا رہنا چاہیے اور مشکلات کا سامنا ہو تو صبر سے کام لینا چاہیے۔ کیوں کہ صبر کشادگی کی کنجی ہے۔ مشکلات جب سوا ہو جائيں تو اللہ کی جانب سے آسانیاں آتی ہیں۔

فوائد
  1. چھوٹے بچوں کو توحید و آداب اور اس طرح کے دین کی دیگر باتیں سکھانے کی اہمیت۔
  2. انسان کو بدلہ اسی نوعیت کا دیا جاتا ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل ہوتا ہے۔
  3. اللہ پر بھروسہ رکھنے اور اس پر توکل کرنے کا حکم، کیوں کہ وہ سب سے بہترین کار ساز ہے۔
  4. قضا و قدر پر ایمان اور اس سے رضامندی اور یہ کہ اللہ نے ساری چیزیں پہلے ہی مقدر کر رکھی ہے۔
  5. جو اللہ کے حکم کو ضا‏ئع کرے گا، اللہ اسے ضائع کرے گا اور اس کی حفاظت نہیں کرے گا۔
  6. یہ عظیم بشارت کہ انسان کو جب مشکل حالات کا سامنا ہو، تو آسانی کا انتظار کرے۔
  7. محبوب چیز کے فوت ہونے اور مصیبت لاحق ہونے کے وقت بندے کو تسلی دینی چاہیے۔ جیسا کہ آپ کے اس فرمان میں ہے: ’’جان لو کہ جو چیز تمہیں مل گئی وہ تم سے خطا کرنے والی نہیں تھی اور جو چیز تمھیں نہیں ملی وہ تمھیں ملے بغیر رہنے والی نہیں تھی۔‘‘ پہلے جملہ میں تکلیف پہنچنے پر اور دوسرے جملے میں محبوب چیز کے فوت ہونے پر تسلی دی گئی ہے۔
حوالہ

سنن الترمذي (4/ 284) (2516). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص42). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص200). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص69).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com