سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک بنائے، حالاں کہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے

عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قال: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قُلْتُ: إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ؛ تَخَافُ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ».
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک بنائے، حالاں کہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے"۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "تو اپنے بچے کو اس ڈر سے مار دے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہو گا"۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سب سے بڑے گناہ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: سب سے بڑا گناہ شرک اکبر ہے۔ شرک اکبر یہ ہے کہ کسی کو الوہیت، ربوبیت یا اسما و صفات میں اللہ کے جیسا مان لیا جائے۔ یہ ایسا گناہ ہے، جو توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتا۔ اگر انسان یہ گناہ کرتا ہوا مر جائے، تو ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اس کے بعد دوسرا بڑا گناہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا ہے کہ وہ ساتھ میں کھائے گی۔ ویسے تو کسی بھی انسان کی جان لے لینا حرام ہے، لیکن گناہ اس وقت اور بڑا ہو جاتا ہے، جب مقتول کا قاتل سے رشتہ ہو۔ گناہ اس وقت بھی بڑا ہو جاتا ہے، جب قتل کے پیچھے یہ ڈر چھپا ہوا ہو کہ مقتول اللہ کی دی ہوئی روزی کھانے میں قاتل کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔ تیسرا بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے پڑوسی کی بیوی کو بہلا پھسلا کر راضی کر لے اور اس کے ساتھ منہ کالا کرے۔ ویسے تو زنا حرام ہے، لیکن اس کا گناہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے، جب زنا پڑوسی کی بیوی کے ساتھ کیا جائے، جس کے ساتھ شریعت نے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔

فوائد
  1. گناہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں، جس طرح کہ اچھے اعمال کی فضیلت میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
  2. سب سے بڑا گناہ اللہ کا شریک ٹھہرانا، پھر ساتھ میں کھانا کھانے کے ڈر سے اولاد کا قتل کرنا اور پھر پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرنا ہے۔
  3. روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ نے ساری مخلوقات کو روزی دینے کی ذمے داری خود اپنے اوپر لے رکھی ہے۔
  4. پڑوسی کے حق کی اہمیت اور اس بات کی وضاحت کہ پڑوسی کو اذیت دینا دوسرے کو اذیت دینے سے بڑا گناہ ہے۔
  5. صرف خالق ہی عبادت کا حق دار ہے۔ کوئی اور نہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (6/ 18) (4477). صحيح مسلم (1/ 90) (86). شرح النووي على مسلم (2/ 79). فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 288). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 335).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توحیدِ ربوبیت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com