کرسی عرش کے مقابلہ میں یوں ہے جیسے لوہے کا چھلّا زمین کے کسی وسیع و عریض صحراء میں پڑا ہو۔
عن أبي ذر الغفاري رضي الله عنه مرفوعاً: "ما الكرسي في العرش إلا كحلقة من حديد ألقيت بين ظهري فلاة من الأرض".
ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(اللہ تعالی کی) کرسی عرش کے مقابلے میں یوں ہے جیسے لوہے کا چھلّا زمین کے کسی وسیع و عریض صحراء میں پڑا ہو“۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے اپنی کتاب ”العرش“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے امام ذھبی نے اپنی کتاب ”العلو“ میں روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بتا رہے ہیں کہ کرسی باوجود اپنی وسعت اور عظمت کے عرش کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے زمین کے کسی وسیع و عریض صحراء میں پڑا لوہے کا ایک چھلّا ہوتا ہے۔ اس سے عرش کے خالق کی عظمت اور اس کی قدرت تامہ کا علم ہوتا ہے۔
حوالہ
1- فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، مطبعة السنة المحمدية، القاهرة، مصر، الطبعة: السابعة، 1377هـ - 1957م.
2- القول المفيد على كتاب التوحيد، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم، 1424ه.
3- الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م.
4- الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م.
5- التمهيد لشرح كتاب التوحيد، دار التوحيد، تاريخ النشر: 1424هـ.
6- شرح العقيدة الطحاوية، المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت الطبعة: الثانية، - 1414ه.
7- العرش وما روي فيه، المؤلف: محمد بن عثمان ابن أبي شيبة العبسي، تحقيق: محمد بن حمد الحمود، الناشر: مكتبة المعلا – الكويت، الطبعة الأولى، 1406ه.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com