اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، تو دیکھا کہ انھوں نے ایک طاق پر ایک پردہ لگا رکھا ہے، جس پر جان دار چیزوں کی تصویریں بنی ہوئی ہيں۔ یہ دیکھ کر غصے سے آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے اسے کھینچ کر ہٹا دیا اور فرمایا : قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو اپنی تصویروں کے ذریعے عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : چنانچہ ہم نے اسے پھاڑ کر ایک یا دو تکیے بنا لیے۔
- غلط کام دیکھتے ہی بلا تاخیر اس کی تردید ہو جانی چاہیے، جب تک کہ اس کی تردید اس سے زیادہ بڑی برائی کی وجہ نہ بنے۔
- قیامت کے دن گناہ کے مطابق عذاب میں بھی تفاوت ہوگا۔
- جان دار چیزوں کی تصویر بنانا کبیرہ گناہ ہے۔
- تصویر بنانے کی حرمت کے پیچھے کارفرما ایک حکمت یہ ہے کہ یہ عمل تخلیق میں خود کو اللہ کے مشابہ بتانا ہے۔ چاہے تصویر بنانے والے کے دل میں یہ بات ہو یا نہ ہو۔
- شریعت کی کوشش ہے کہ اموال کے ناجائز پہلوؤں سے بچتے ہوئے ان سے استفادہ کیا جائے اور اس طرح ان کی حفاظت کی جائے۔
- جان دار چیزوں کی تصویر بنانا ممنوع ہے۔ چاہے اس کی شکل جو بھی ہو۔ خواہ حقير سی شے ہی کیوں نہ ہو۔
صحيح البخاري (7/ 168) (5954). صحيح مسلم (3/ 1668) (2107). القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (2/ 442). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص399). الجديد في شرح كتاب التوحيد، للقرعاوي (ص441). كتاب التوحيد لمحمد بن عبد الوهاب (ص138).