سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور وقار (یعنی جلد بازی نہ کرنا)۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضيَ اللهُ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: «إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اشج عبد القيس سے کہا کہ ”تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور وقار (یعنی جلد بازی نہ کرنا)‘‘۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے قبیلہ بنی عبد قیس کے اشج نامی شخص سے کہا کہ تمہارے اندر دو خصلتیں یعنی عادتیں ایسی ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں۔ وہ دو عادتیں بُردباری اور عدم عجلت ہیں۔اس لیے کہ اشج نے متانت اور وقار اختیار کرکے اپنے قرین مصلحت امور میں غور وفکر کیا اور اپنی قوم کے ساتھ آپ ﷺ کے پاس آنے میں جلدبازی سے کام نہیں لیا۔ ان کی بُردباری آپ ﷺ کے ساتھ گفتگو سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان کی گفتگو ان کی سلامتِ عقل اورانجام کار پر گہری نظر کے حامل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم (1/ 48) (17). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 681). تطرز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص414). المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي (1/ 189).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توحيدِ اسماء وصفات

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com