سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهمُ الرَّحمنُ، ارحَمُوا أهلَ الأرضِ يَرْحْمْكُم مَن في السّماء».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔
رواه أبو داود والترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں، ان پر نہایت رحم والا اللہ رحم کرتا ہے، جس کی رحمت نے ساری چیزوں کو اپنے دائرے میں لے رکھا ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے روئے زمین کے اوپر رہنے والی تمام چیزوں، جیسے انسانوں، جانوروں اور پرندوں وغیرہ پر رحم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا بدلہ یہ ہے کہ اللہ آپ پر آسمانوں کے اوپر سے رحم کرے گا۔

فوائد
  1. اسلام دین رحمت ہے، جو اللہ کی اطاعت گزاری اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک پر مبنی ہے۔
  2. اللہ عز وجل رحمت کی صفت سے متصف ہے۔ وہ رحمن و رحیم ہے، جو اپنے بندوں کے ساتھ رحمت کا معاملہ کرتا ہے۔
  3. انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا اس کا عمل رہتا ہے۔ اسی اصول کے مطابق رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 297) (4941). سنن الترمذي (3/ 483) (1924). مسند أحمد ط الرسالة (11/ 33) (6494). تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، لمحمد المباركفورى (6/ 43). سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، للألباني (2/ 594). معارج القبول بشرح سلم الوصول إلى علم الأصول، حافظ الحكمي (1/ 156).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توحيدِ اسماء وصفات

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com