معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک دن نماز فجر کے لیے نبی کريم ﷺ نے نکلنے میں تاخير کردی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ تیزی کے ساتھ باہر تشریف لائے اور اقامتِ نماز کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں مختصر نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کو حکم دیا کہ وہ صفوں میں اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں بتلايا کہ آپ ﷺ کو کس وجہ سے نماز فجر میں تاخیر ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ رات کو نماز تہجد کے لیے اٹھے، وضو فرمایا اور جتنی رکعتیں اللہ کو منظور تھیں اتنی ادا کیں اور پھر اپنی نماز کے دوران ہی سو گئے۔ خواب میں آپ ﷺ نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ مقرب فرشتے کس شے کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں تو کچھ نہیں جانتا۔ یہ سوال و جواب تین دفعہ ہوا۔ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی نبی ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین رکھ دی یہاں تک کہ آپ ﷺ کو اپنے سینے میں اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔ نبی ﷺ نے جن اوصاف سے اپنے رب عز و جل کو متصف کیا ہے وہ حق اورسچ ہيں اور اللہ تعالی نے جن اوصاف سے اپنے آپ کو متصف کیا ہے ان پر جوں کا توں بغیر کسی تمثیل کے ایمان لانا اور ان کی تصدیق کرنا واجب ہے۔ جسے اسے سمجھنے میں کچھ اشکال یا اشتباہ ہو تو وہ ویسے ہی کہہ دے جیسے وہ پختہ علم والے لوگ کہتے ہیں جن کی اللہ تعالی نے تعریف فرمائی اور ان کے بارے میں بتایا کہ ان کے سامنے جب کوئی مشتبہ بات آتی ہے تو وہ کہتے ہیں: (آمنّا به كُلٌّ من عند ربِّنا۔) ترجمہ: ’’ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ اس شخص کو چاہیے کہ جس بات کا اسے علم نہ ہو اس کے درپے نہ ہو، کیونکہ اس سے اس کے ہلاکت میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ مومن لوگ تو جب بھی اس طرح کی بات سنتے ہیں وہ کہہ دیتے ہیں کہ ایسا اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں بتلایا ہے اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ ہی کہا ہے۔ ایسا کہنا ان کے ایمان اورجذبۂ اطاعت گزاری میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی نبی ﷺ کے کندھوں کے مابین رکھی تو آپ ﷺ کے سامنے ہر بات کھل گئی اور آپ ﷺ کو جواب کا علم بھی ہو گیا چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ فرشتے ایسی خصلتوں کے بارے میں گفتگو، بحث اور جھگڑا کر رہے ہیں جو گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں۔ ان کےجھگڑنے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان اعمال کے اثبات اور انہیں لے کر آسمان کی طرف چڑھنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اس سے مراد ان کا ان کی فضیلت اور شرف کے بارے میں گفتگو کرنا ہے۔ یہ خصلتیں یہ ہیں: نماز باجماعت کے لیے پیدل چل کر جانا، نمازوں کے ختم ہو جانے کے بعد ذکر، تلاوتِ قرآن اورعلم سیکھنے اور سکھانے کے لیے مساجد میں بیٹھنا، پورے طریقے سے وضو کرنا اور وضو کے پانی کوان تمام جگہوں تک پہنچانا جہاں تک پہنچانا شرعاً ضروری ہو، ان حالات میں بھی جن ميں وضو کرنا ناگوار محسوس ہوتا ہو جیسے سخت سردی میں۔ رب تعالی شانہ نے پھر پوچھا: مقرب فرشتے اور کن باتوں میں جھگڑ ا کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کھانا کھلانے میں، لوگوں سے اچھے انداز اور نرم لہجے میں بات کرنے میں اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مجھ سے جو چاہتے ہو مانگو۔ اس پر نبی ﷺ نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اسے ہر نیکی کو کرنے، ہر برائی کو ترک کرنے اور فقراء اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق دے اور یہ کہ اللہ آپ کو بخش دے اور آپ پر رحم فرمائے اور جب اللہ کا کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنے اور انہیں راہ حق سے گمراہ کرنے کا ارادہ ہو تو وہ آپ ﷺ کو فتنے اور گمراہی سے بچاتے ہوئے اس سے پہلے ہی موت دے دے اور یہ کہ اللہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے اور ہر اس شخص سے محبت کرنے کی توفیق دے جو اللہ سے محبت کرتا ہو اور ہر اس عمل کو آپ ﷺکے لیے محبوب بنا دے جو اللہ کی قربت کا ذريعہ ہو۔ پھر نبی ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام کو بتایا کہ یہ خواب برحق ہے اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس پر غور کریں اور اس کے معانی اور احکامات کو سیکھیں۔
مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. المفردات في غريب القرآن، لأبي القاسم الحسين بن محمد المعروف بالراغب الأصفهانى، المحقق: صفوان عدنان الداودي، الناشر: دار القلم، الدار الشامية - دمشق بيروت، الطبعة: الأولى - 1412 هـ. مختار الصحاح، لزين الدين أبو عبد الله محمد بن أبي بكر بن عبد القادر الحنفي الرازي، تحقيق: يوسف الشيخ محمد، نشر: المكتبة العصرية - الدار النموذجية، بيروت – صيدا، لطبعة: الخامسة، 1420هـ / 1999م. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. قوت المغتذي على جامع الترمذي لعبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي، إعداد الطالب: ناصر بن محمد بن حامد الغريبي، إشراف: فضيلة الأستاذ الدكتور/ سعدي الهاشمي، الناشر: رسالة الدكتوراة - جامعة أم القرى، مكة المكرمة - كلية الدعوة وأصول الدين، قسم الكتاب والسنة، عام النشر: 1424 هـ. اختيار الأولى في شرح حديث اختصام الملأ الأعلى، زين الدين عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن، السَلامي، البغدادي، ثم الدمشقي، الحنبلي، المحقق: جسم الفهيد الدوسري، الناشر: مكتبة دار الأقصى – الكويت، الطبعة: الأولى، 1406 – 1985. سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، تأليف محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، لمكتبة المعارف. تاج العروس من جواهر القاموس، للزبيدي، نشر: دار الهداية.