سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے ننانوے، ایک کم سو نام ہیں، جس نے انہیں یاد کیا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور اللہ وتر (طاق) ہے، وتر کو پسند کرتا ہے

عن أبي هريرة رضي الله عنه روايةً قال: «للهِ تسعةٌ وتسعون اسمًا، مائةً إلَّا واحدًا، لا يحفظُها أحدٌ إلَّا دخل الجنةَ، وهو وِترٌ يحبُّ الوِتر».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ننانوے، ایک کم سو نام ہیں، جس نے ان کی حفاظت کی (یعنی انہیں یاد کیا) وہ جنت میں داخل ہو گا، اور اللہ وتر (طاق) ہے، وتر کو پسند کرتا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اللہ تعالی کے ننانوے نام ہیں جو کوئی شخص ان کی حفاظت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور حفاظت سے مراد زبانی پڑھنا ہے اور کہا گیا ہے کہ: اس کا مفہوم ان پر ایمان لانا، ان پر عمل کرنا، ان تمام اسماء حسنیٰ کے معانی کے مطابق فرمانبرداری کرنا ہے اور ان کے ذریعہ اللہ تعالی سے دعا کرنا۔ اس حدیث میں ان ناموں کا اثبات ہے، ان ننانوے ناموں کے علاوہ جو زائد نام ہیں ان کا انکار نہیں۔ ان ناموں کا ذکر یہاں پر بطور خصوص ان کی شہرت اور معانی کے اعتبار سے واضح ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں کہ زید کے پاس سو درہم ہیں جسے اس نے صدقہ کے لئے جمع کر رکھا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے پاس اس سے زائد دراہم نہیں ہیں، یہ جملہ صرف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے جو صدقہ کے لئے تیار کر رکھا ہے وہ یہ ہیں۔ اس تفسیر کی تائید ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے (جس میں ہے کہ) میں تیرے ہر اس نام کے واسطے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لئے پسند فرمایا یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا یا اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھلا دیا یا اسے اپنے خزانۂ غیب میں مخفی رکھا ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے اور بھی نام ہیں جن کو اپنی کتاب میں نازل نہیں فرمایا، اس کو اپنی مخلوق سے پوشیدہ رکھا۔ اور اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے یعنی اللہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور وہ وتر کو پسند کرتا ہے یعنی طاق کو بہت سارے اعمال وعبادات میں فضیلت دیتا ہے اور اسی ناطے اللہ نے نمازوں کی تعداد پانچ مقرر کی ہے اور طواف سات اور (اسی طرح) تین کو اکثر اعمال میں مستحب قرار دیا گیا ہے۔ آسمان سات پیدا کئے اور زمین بھی سات وغیرہ۔

حوالہ

صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. كشف المشكل من حديث الصحيحين، لجمال الدين أبي الفرج الجوزي، المحقق: علي حسين البواب، الناشر: دار الوطن – الرياض.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نیک اعمال کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com