سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور بندے کا ایک شام یا ایک صبح اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن پہرے داری پر کھڑے رہنا یا ایک صبح اللہ کی راہ میں نکلنا اور جنت میں کسی کے کوڑے کے برابر جگہ ، یہ سب دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں کیوں کہ جنت باقی رہنے والی جگہ ہے جب کہ دنیا فانی ہے اور تھوڑی باقی رہنے والی چیز بہت زیادہ فنا ہوجانے والی چیز سے بہتر ہوتی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 35) (2892).
صحيح مسلم (3/ 1500) (1881).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص739).
عن كَعْب بن مالك رضي الله عنه قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إن مِن تَوبتي أن أَنْخَلِعَ مِنْ مالي؛ صدقةً إلى الله وإلى رسولِه، فقال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم : "أمسِكْ عليك بعضَ مالِكَ؛ فهو خيرٌ لكَ".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری توبہ قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے راستے میں دے دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو، تو تمھارے حق میں یہ بہتر ہوگا۔“
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ، ان تین صحابہ میں سے ایک تھے، جو غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ گئے اور پیچھے رہ جانے کی وجہ کسی طرح کا نفاق یا عذر نہیں تھا۔ جب نبی ﷺ کی اس غزوے سے واپسی ہوئی، تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ قطع تعلق فرمالیا اور اپنے صحابہ کو بھی ان سے قطع تعلق کرنے کی ہدایت فرمادی۔ یہ قطع تعلقی کا سلسلہ جاری رہا، تاآں کہ سورۂ توبہ نازل ہوئی اور انھیں اللہ تعالیٰ کی رضامندی نصیب ہوئی اور رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام بھی ان سے راضی ہو گئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور توبے کی قبولیت سے کعب رضی اللہ عنہ اس قدر فرحاں و شادماں ہوئے کہ اپنے سارے مال کو اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی میں صدقہ کرنے کا عزم کرلیا، تاہم نبی ﷺ نے انھیں اس سے باز رہنے کی رہ نمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے پاس کچھ مال رکھ لو۔ چوں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں جب یہ بات آگئی کہ وہ اپنی نیت میں بالکل راست باز اور ان کی توبہ خالص ہے، تو اس نے ان کے گناہ بخش دیے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ فرمایا۔ ایسے میں وہ یہ صدقہ نہ بھی کرتے (تو کوئی فرق نہیں پڑتا)، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده کا مکلف نہیں بناتا۔ پھر انھوں نے اللہ کی رضا وخوش نودی سے خوش ہوکر اپنا کچھ مال صدقہ کردیا؛ تاکہ اپنے پروردگار کے پاس اجر و ثواب کے ذخائر کا ذخیرہ ہو اور کچھ مال اپنے پاس رکھ چھوڑا؛ تاکہ اپنے مصالح جیسے خود اپنے اور اپنے اہل و عیال کے واجب نفقات پر خرچ کر سکیں۔ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔
حوالہ
-صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه.
-صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
-عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
-تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414ه.
-تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
-الإلمام بشرح عمدة الأحكام, إسماعيل الأنصاري, الطبعة الثانية 1392هـ.
-الشرح الممتع على زاد المستقنع، محمد بن صالح بن محمد العثيمين، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى، 1422- 1428هـ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بچیاں اٹھا رکھی تھیں۔ میں نے اسے تین کھجوریں کھانے کے لیے دیں۔ اس عورت نے ان میں سے ہر ایک کو ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور کو کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی۔ اسی اثناء میں اس کی دونوں بیٹیوں نے اس سے کھانے کے لیے مانگا۔ وہ کھجور جسے وہ کھانا چاہ رہی تھی اس نے اس کے دو حصے کر کے دونوں کے مابین اسے تقسیم کردیا۔ مجھے اس کے اس عمل نے بہت متاثر کیا۔ میں نے اس کے اس فعل کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب کردی یا اسے جہنم سے آزاد کردیا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث بڑوں کی چھوٹوں پر شفقت کی ایک نشانِ راہ پیش کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بچیوں کو اٹھا رکھا تھا۔ انہوں نے اس عورت کو تین کھجوریں کھانے کے لیے دیں۔ اس مسکین عورت نے ایک بیٹی کو ایک کھجور دے دی اور دوسری کو دوسری۔ پھر تیسری کو اٹھا کر وہ کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی کہ اسی دوران ان دونوں نے اسے کھانے کے لیے مانگ لیا۔ یعنی یہ دونوں بچیاں اس کھجور کو دیکھ رہی تھیں جسے ان کی ماں نے اٹھایا تھا۔ چنانچہ ماں نے اسے خود نہ کھایا بلکہ اس کے دو حصے کر کے ان دونوں کے مابین تقسیم کر دیا۔ یوں ہر بچی نے ڈیڑھ کھجور کھا لی اور ماں نے کچھ بھی نہ کھایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کو آپ ﷺ کے سامنے ذکر کیا اور عورت نے جو کچھ کیا تھا اسے آپ ﷺ کو بتایا۔ نبی ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ: "اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب کر دی اور اسے دوزخ سے نجات دے دی۔" یعنی چونکہ اس نے اس بہت بڑی رحمدلی کا مظاہرہ کیا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت واجب کر دی۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2027) (2630).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص199).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 111).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 278).
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «يقول الله تعالى : ما لِعَبدِي المُؤمن عِندِي جَزَاء إِذَا قَبَضتُ صَفِيَّه مِنْ أَهلِ الدُّنيَا ثُمَّ احْتَسَبَه إِلاَّ الجنَّة».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی مومن بندے سے، اہل دنیا میں سے اس کا کوئی عزیز لے لیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے، تو اس کے لیے سوائے جنت کے میرے پاس کوئی اجر نہیں ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث قدسی میں نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے کسی قریبی عزیز وغیرہ سے محروم ہو جاتا ہےاور اپنے پسندیدہ شخص کی وفات پر صبر کرتا ہے۔ حالاںکہ وہ اس کا بہت قریبی تعلق والا ہوتا ہے، جیسے بچہ، بھائی، چچا، باپ، ماں اور دوست۔ کسی ایسے فرد کو اللہ تعالی اگر (موت دے کر) لے لے اور آدمی اس پر صبر کرے، تو جنت کے سوا اس کا کوئی بدلہ نہیں ہوتا۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ.
رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے بہتر دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے، جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپني سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے"۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز اہل و عیال سے کیا ہے۔ پھر ابو قلابہ کہتے ہيں کہ اجر و ثواب میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے، جو چھوٹے چھوٹے بچوں پر اس لیے خرچ کرتا ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں یا اللہ تعالی اس سے ان کو نفع پہنچائے اور بے نیاز کر دے"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خرچ کرنے کی کچھ صورتیں بیان کی ہیں اور بتایا ہے کہ جب خرچ کرنے کے کئی مقامات آپس میں ٹکرانے لگیں، تو جو جتنا زیادہ اہم ہو، آغاز میں اسے اتنی فوقیت دی جانے چاہیے۔ آپ نے بتایا کہ ایک مسلمان کے ذریعے خرچ کیا گیا سب سے زیادہ ثواب والا مال وہ ہے، جسے وہ ان لوگوں پر خرچ کرے، جن کا نفقہ اس پر واجب ہے۔ جیسے بیوی بچے وغیرہ۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے تیار کردہ سواری پر خرچ کیے گئے مال کا۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے اپنے دوستوں اور ساتھیوں پر خرچ کرنے کا، جو اللہ کی راہ میں جنگ کر رہے ہوں۔
فوائد
فضیلت کے معاملے میں خرچ کرنے کی ترتیب وہی ہے، جو اس حدیث میں مذکور ہے۔ ٹکراؤ کی حالت میں اس ترتیب کا خیال رکھا جائے گا۔
اہل و عیال پر خرچ کرنا دوسروں پر خرچ کرنے کی مقابلے میں زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔
اللہ کی راہ میں جہاد پر، جیسے ہتھیاروں اور مجاہدوں کو تیار کرنے میں کیا جانے والا خرچ، خرچ کرنے کی عظیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سبیل اللہ (اللہ کی راہ) سے مراد ہر نیکی کا کام ہے جیسے حج وغیرہ ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (2/ 691) (994).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (5/ 315).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 156).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 291).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 374).
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ۔ مجھ پر درود بھیجو۔ تمہارا بھیجا گیا درود مجھ تک پہنچتا ہے تم چاہے جہاں بھی رہو“۔
رواه أبو داوددرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھروں کو نماز سے خالی رکھنے سے منع کیا ہے کہ وہ قبرستان کی طرح ہو جائیں، جہاں نماز پڑھی نہيں جاتی ہے۔ آپ نے اپنی قبر کی بار بار زیارت کرنے اور وہاں ایک خاص طریقے سے جمع ہونے سے منع کیا ہے، کیوں کہ یہ شرک کا سبب ہے۔ آپ نے روئے زمین کے کسی بھی حصے سے درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، کیوں کہ آپ پر بھیجا گیا درود و سلام قریب و دور ہر جگہ سے یکساں طور پر پہنچ جاتا ہے۔ لہذا آپ کی قبر کے پاس بار بار جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
فوائد
گھروں کو اللہ کی عبادت سے خالی رکھنا منع ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کر کے جانا منع ہے؛ کیوں کہ آپ نے کہیں سے بھی درود بھیجنے کا حکم دیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ آپ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ ہاں، مسجد نبوی کے ارادے اور اس میں نماز پڑھنے کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کی زیارت ایک مخصوص طریقے سے اور مخصوص زمانے میں بار بار کر کے اسے میلے کی شکل دینا حرام ہے۔ دیگر قبروں کا بھی یہی حکم ہے۔
اللہ کے یہاں اس کے نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ پر درود و سلام بھیجنے کو ہر زمانے میں اور ہر جگہ سے مشروع کیا گیا ہے۔
قبروں کے پاس نماز پڑھنا منع ہے، یہ بات صحابہ کو اچھی طرح معلوم تھی، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھروں کو قبرستانوں کی طرح بنانے سے منع کیا ہے جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی۔
حوالہ
سنن أبي داود (3/ 385) (2042).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص202).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص185).
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص دو لڑکیوں کو ان کے جوان ہونے تک پالے، تو قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح سے آئیں گے“۔ یہ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جسے دو بیٹیاں یا بہنیں دی گئيں اور اس نے ان کے اخراجات برداشت کیے، تربیت کی، اچھائی سکھائی اور برائی سے خبردار کیا، پھر دونوں بڑی اور بالغ ہو گئيں، تو وہ اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم قیامت کے دن کچھ اس طرح آئيں گے۔ یہ کہتے وقت آپ نے اپنی شہات کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملاکر دکھایا۔
فوائد
شادی یا بلوغت تک بیٹیوں کے اخراجات برداشت کرنا اور تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا بڑے اجر وثواب کا کام ہے۔ یہی حال بہنوں کا بھی ہے۔
لڑکیوں کی پرورش کا ثواب لڑکوں کی پرورش سے زیادہ ہے۔ کیوں کہ یہاں لڑکیوں کے بارے میں جس طرح کی بات کہی گئی ہے، اس طرح کی بات لڑکوں کے بارے میں نہیں کہی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی پرورش میں خرچ بھی زیادہ ہوتا ہے اور ان کا خیال بھی زیادہ رکھنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ پردے کے اہتمام کی وجہ سے وہ اپنے کام خود سے نہیں کر سکتیں اور لڑکوں کی طرح زندگی کی دوڑ بھاگ میں بھی شامل نہيں ہو سکتیں۔ ساتھ ہی یہ کہ ان سے والد کو یہ امید نہيں ہوتی کہ بیٹوں کی طرح ان سے دشمن کے مقابلے کے وقت قوت حاصل ہوگی، اس کا نام زندہ رہے گا اور اس کا نسب جاری رہے گا۔ لہذا ان کی پرورش و پرداخت کے لیے صبر، اخلاص اور حسنِ نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا اس میں اجر وثواب بھی زیادہ ہے اور ایسے شخص کو قیامت کے دن اللہ کی معیت نصیب ہوگی۔
عورت کے بالغ ہونے کی علامتيں: پندرہ سال پورے ہو جانا، حیض آ جانا خواہ پندرہ سال سے پہلے ہی کیوں نہ ہو، ناف کے نیچے کے بال اگ آنا یا احتلام ہونا یعنی نیند کی حالت میں منی نکل جانا۔
قرطبی کہتے ہیں: دونوں کے بالغ ہونے سے مراد ایسے حال تک پہنچنے کے ہيں کہ دونوں مستقل بالذات ہو سکیں۔ اور عورتیں مستقل بالذات اس وقت ہوتی ہيں، جب ان کی شادی ہو جائے۔ اس لیے بالغ ہونے سے مراد حیض آجانا اور مکلف ہو جانا نہيں ہے۔ کیوں کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے ہی شادی ہو جائے اور کفالت کی ذمے داری شوہر کے سر پر چلی جائے۔ اس کے برخلاف ایسا بھی ہوتا ہے کہ حیض آ گیا، لیکن وہ اپنے مصالح کے بارے میں خود سے سوچنے اور فیصلے لینے کی اہل نہیں ہو سکی۔ ایسے میں اگر اسے تنہا چھوڑ دیا جائے تو ضائع ہو جائے گی اور اس کے حالات بگڑ جائيں گے۔ لہذا ایسی حالت میں اسے تحفظ اور دیکھ بھال کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تاکہ لوگوں کے اندر اس سے شادی کرنے کی رغبت پیدا ہو۔ انھیں باتوں کے مدنظر علما نے کہا ہے کہ بچی کے والد کے سر سے نان ونفقہ کی ذمے داری اس کے بالغ ہو جانے سے نہیں اترتی، بلکہ اس کی زندگی میں شوہر کے قدم رکھنے کے بعد اترتی ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2027) (2631).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 352).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص198).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (5/ 144).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 105).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 276).
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: "وقت پر نماز پڑھنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "والدین کی فرماں برداری کرنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔" ان کا کہنا ہے کہ آپ نے مجھے ان کاموں کے بارے میں بتایا۔ اگر میں مزید پوچھتا، تو آپ اور بھی بتاتے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک کون سا عمل سے سے زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا : فرض نماز کو شارع کی جانب سے معتین کیے گئے اوقات میں پڑھنا۔ پھر والدین کی فرماں برداری کرنا، بایں طور کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے، ان کے حقوق ادا کیے جائيں اور ان کی نافرمانی سے بچا جائے۔ پھر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، تاکہ اللہ کے کلمہ کو سربلند کیا جا سکے، اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کیا جا سکے اور اسلامی شعائر کا اظہار ہو سکے۔ جہاد نفس اور مال دونوں سے ہوتا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان اعمال کے بارے میں بتایا۔ اگر میں اس سے آگے پوچھتا، تو آپ آگے بھی بتاتے۔
فوائد
اعمال کی فضیلت میں اس ناحیے سے کمی بیشی ہوتی ہے کہ کون سا عمل اللہ کو کتنا محبوب ہے۔
مسلمان کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اعمال کا، ان کی فضیلت کی ترتیب کو مدنظر کو رکھتے حریص رہے۔
سب سے اچھا عمل کیا ہے، اس سوال کے جواب میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے الگ الگ باتیں اشخاص اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کہی ہيں۔ جس کے لیے جو عمل زیادہ مفید تھا، اس کے لیے اسے سب سے اچھا عمل بتایا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 112) (527).
صحيح مسلم (1/ 90) (85).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 70).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص84).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 108).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com