جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے، تو اسے دہرا ثواب ملے گا۔
عن ابن عمر رضي الله عنهما : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن العَبْد إذا نَصَح لسيِّده، وأحسن عِبَادة الله، فله أجْرُه مَرَّتَين».
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «المَمْلُوك الذي يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ، وَيُؤَدِّي إلى سَيِّدِهِ الذي له عليه من الحَق، والنَّصيحة، والطَّاعة، له أجْرَان».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے، تو اسے دہرا ثواب ملے گا“۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو غلام اپنے رب کی عبادت احسن طریق سے بجا لائے اور اپنے آقا کے جو اس پر خیر خواہی اور فرماں برداری کے حقوق ہیں، انھیں ادا کرتا رہے، اسے دوگنا ثواب ملتا ہے“۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح
غلام جب اپنے آقا کی خدمت، معروف میں فرماں برداری اور اس کے لیے خیر خواہی کے واجب حقوق ادا کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے؛ بایں طور کہ اس کے فرائض کی پابندی اور اس کے منہیات سے اجتناب کرتا رہے، تو اس کے لیے قیامت کے دن دوہرا اجر ہے؛ کیوں کہ وہ دو چیزوں کا مکلف ہے:
اوّل: مالک کا حق، جب وہ مالک کا حق ادا کرے، تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ دوم: اپنے رب کی اطاعت کا اجر، پس جب غلام اپنے رب کی اطاعت کرے، تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔
حوالہ
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ 1987م.
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي.
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com