سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو میں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔

عن أنس بن مالك وأبي هريرة رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما يرويه عن ربه عز وجل قال: «إذا تَقَرَّبَ العبدُ إليَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إليه ذِرَاعًا، وإذا تَقَرَّبَ إليَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وإذا أتاني يمشي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً».
انس بن مالک اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو میں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جو شخص نیکیوں کے ذریعے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہی کیوں نہ ہوں اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا زیادہ ثواب و اکرام سے نوازتا ہے اور جب جب وہ نیکی میں بڑھتا جاتا ہے تو وہ اس کے ثواب میں اضافہ کرتا ہے اور فوری طور پر اس پر اپنی رحمت اور فضل نچھاور کرتا ہے۔ اور یہ تفسیر اس اعتبار سے ہے کہ یہ حدیث صفات کی احادیث میں سے نہیں ہے، جیسا کہ اہل سنت و جماعت کے ایک بڑے گروہ کا مذہب ہے جو صفات کو ثابت کرتے ہیں اور انہی میں سے ابن تیمیہ ہیں اور ایک دوسری جماعت نے صفتِ ھرولۃ ’دوڑ کر آنے کی صفت‘ کو بغیر اس کی کیفیت میں کلام کیے اللہ تعالی کے لیے اثبات کیا ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين، تأليف مصطفى سعيد الخن -مصطفى البغا- محي الدين مستو-علي الشربجي- محمد أمين لطفي- مؤسسة الرسالة، بيروت -لبنان-الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ. - تطريز رياض الصالحين، تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. - مجموع الفتاوى، لابن تيمية، المحقق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية، عام النشر: 1416هـ/1995م. - بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية، تقي ابن تيمية الدمشقي، المحقق: مجموعة من المحققين، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، الطبعة: الأولى، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توحيدِ اسماء وصفات

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com