سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

لوگوں میں سے سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل بھی اچھا ہو۔

عن عبد الله بن بُسْرٍ الأسلمي رضي الله عنه مرفوعاً: «خير الناس من طَال عُمُرُه، وحَسُنَ عَمَلُهُ».
عبداللہ بن بسر اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سے سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل بھی اچھا ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی انسان کی عمر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لمبی ہوتی ہے (گزرتی جاتی ہے) تو وہ اللہ تعالی سے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے کیونکہ اس کو کوئی بھی عمل کرنے کا موقع ملنے میں اس کی عمر بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ عمل اسے اپنے اللہ سے اور زیادہ قریب کر دیتا ہے ، پس لوگوں میں سے بہترین ہے وہ شخص جسے یہ دونوں چیزیں عطا کی گئی ہوں یعنی لمبی عمر اور اچھا عمل۔ بہر حال لمبی عمر کسی انسان کے لیے خیر کی ضامن نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عمل دونوں میں اچھا ہو؛ کیونکہ بعض اوقات لمبی عمر انسان کے لیے فتنے اور نقصان کا باعِث ہوتی ہے جیسا کہ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اچھا کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ”جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو“ پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ بد تر شخص کون ہے؟ تو فرمایا ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو“۔(ابو داود، ترمذی) اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ ”کافر لوگ ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں، یہ مہلت تو اس لیے ہے کہ وہ گناہوں میں اور بڑھ جائیں ان ہی کے لیے ذلیل کرنے والے عذاب ہے“۔ ان کافروں کو اللہ تعالیٰ نے ڈھیل دی ہوئی ہے کہ انھیں رزقِ وافر ، عافیت ، درازیٔ عمر اور بیوی بچے عطا کر رکھے ہیں، اس میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے بلکہ یہ ان کے لیے باعثِ فتنہ ہے۔ اللہ کی پناہ! کہ اس فراوانی سے وہ مزید گناہوں میں گِھر جائیں گے۔ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اوقات اور گھڑیاں تاجر کے بنیادی سرمائے (پونجی) کی طرح ہیں پس چاہیے کہ تجارت اس طرح کی جائے کہ حصولِ نفع کے باعث ہو، سرمایہ جتنا بڑھتا جائے گا نفع بھی زیادہ ہوتا جائے گا ، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی بسر کرے وہ کامیاب ہو گا اور فلاح پائے گا اور جس نے اپنا سرمایا (پونجی) ضائع کیا وہ نفع نہیں پائے گا اور سخت گھاٹے میں رہے گا“۔

حوالہ

نزهة المتقين - تاليف د سعيد الخن - د. مصطفى البغا - محيي الدين مستو - علي الشرجبي - محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت - الطبعة الأولى، 1397هـ - 1977م. شرح رياض الصالحين، الشيخ: محمد بن صالح العثيمين - مدار الوطن للنشر - طبع عام 1426هـ. رياض الصالحين - د. ماهر بن ياسين الفحل - الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت. الطبعة: الأولى، 1428هـ - 2007م. سنن الترمذي - محمد بن عيسى الترمذي - تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراهيم عطوة عوض المدرس في الأزهر الشريف، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر- الطبعة الثانية، 1395هـ - 1975م. مسند الإمام أحمد بن حنبل، المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل - المحقق: شعيب الأرناؤوط - عادل مرشد، وآخرون - إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي - الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421هـ - 2001م. سنن الدارمي، المؤلف: أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن بن الفضل الدارمي، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني- الناشر: دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1412هـ - 2000م. صحيح وضعيف سنن الترمذي - المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني - مصدر الكتاب: برنامج منظومة التحقيقات الحديثية - المجاني - من إنتاج مركز نور الإسلام لأبحاث القرآن والسنة بالإسكندرية. شرح الطيبي على مشكاة المصابيح المسمى بـ (الكاشف عن حقائق السنن) - المؤلف: شرف الدين الحسين بن عبد الله الطيبي - المحقق: د. عبد الحميد هنداوي - الناشر: مكتبة نزار مصطفى الباز، مكة المكرمة - الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ - 1997م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نیک اعمال کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com