سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے“۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم رشتے داروں کی صلہ رحمی کی ترغیب دے رہے ہیں۔ مثلا یہ کہ ان کی زیارت کی جائے اور ان کی جسمانی اور مالی مدد کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ صلہ رحمی روزی میں کشادگی اور درازئ عمر کا سبب ہے۔

فوائد
  1. عربی لفظ "الرَّحِم " سے مراد والد اور والدہ دونوں کی طرف کے رشتے دار ہیں۔ رشتہ جتنا قریب کا ہوگا، صلہ رحمی کا اتنا ہی حق دار ہوگا۔
  2. انسان کو جزا اسی نوعیت کی دی جاتی ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل ہوتا ہے۔ چنانچہ جو شخص حسن سلوک اور احسان کے ذریعے صلہ رحمی کرتا ہے، اللہ اس کی عمر اور روزی میں برکت عطا کرتا ہے۔
  3. صلہ رحمی روزی میں کشادگی اور درازئ عمر کا سبب ہے۔ حالاں کہ ویسے تو روزی اور عمر دونوں چیزیں متعین ہوتی ہیں، لیکن کبھی کبھی عمر اور روزی میں برکت ہو جاتی ہے اور انسان اپنی زندگی میں دوسرے لوگوں سے زیادہ مقدار میں اور زیادہ نفع بخش کام کر جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ روزی اور عمر میں زیادتی سے مراد حقیقی زیادتی ہے۔ واللہ اعلم
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 5) (5986). صحيح مسلم (4/ 1982) (2557). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 320). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 188). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 275). تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص224). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 81).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نیک اعمال کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com