سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤگے۔

عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ رضي الله عنه قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ قِبَلَهُ، وَقِيلَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ، ثَلَاثًا، فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ، فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ، عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ».
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے، تو لوگ آپ کی جانب دوڑ پڑے۔ ہر طرف شور تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں۔ یہ جملہ انھوں نے تین بار دوہرایا۔ دیکھنے کے لیے میں بھی لوگوں کی بھیڑ میں داخل ہوا۔ جب دھیان سے آپ کا چہرہ دیکھا تو میرے لیے یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہيں ہو سکتا۔ اس دوران میں نے آپ کو جو پہلی بات کہتے ہوئے سنی، وہ یہ تھی : "لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤگے۔"
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح

جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کو دیکھا، تو آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ آپ کی طرف دوڑ کر جانے والوں میں عبداللہ بن سلام بھی شامل تھے۔ وہ یہودی تھے۔ آپ کو دیکھ کر انھوں نے پہچان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے نور، جمال اور سچی ہیبت آشکارا تھی۔ اس دوران انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جو پہلی بات سنی، وہ یہ تھی کہ آپ نے لوگوں کو کچھ ایسے اعمال کی ترغیب دی، جو دخول جنت کا سبب ہیں۔ جیسے: 1- سلام عام کرنا اور بہت زیادہ سلام کرنا۔ جان پہچان والے کو بھی اور ان جان کو بھی۔ 2- کھانا کھلانا۔ شکل صدقہ کی ہو، ہدیہ کی ہو یا ضیافت کی ہو۔ 3- رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔ رشتہ داری والد کی جانب کی ہو یا والدہ کی جانب کی۔ 4- رات کے وقت، جب لوگ سو رہے ہوں، جاگ کر نفل نماز پڑھنا۔

فوائد
  1. مسلمانوں کے درمیان سلام عام کرنا مستحب ہے۔ لیکن غیر مسلم کو سلام نہیں کیا جائے گا۔ اگر وہ السلام علیکم کہہ کر سلام کر دے، تو جواب میں بس و علیکم کہا جائے گا۔
حوالہ

سنن ابن ماجه (4/ 397) (3251). سنن الترمذي (4/ 264) (2485). مسند أحمد (39/ 201) (23784). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 454). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (3/ 299). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 440). سبل السلام بشرح بلوغ المرام، لمحمد الصنعاني (2/ 693).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قیام اللیل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com