عن عَبدُ اللَّهِ بنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قال: «بِتُّ عِندَ خَالَتِي مَيمُونَة، فَقَام النَبيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِن اللَّيل، فَقُمتُ عَن يَسَارِه، فَأَخَذ بِرَأسِي فَأَقَامَنِي عن يَمِينِه».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری۔ نبی اکرم ﷺ رات میں نمازِ (تہجد) کے لیے اٹھے، میں بھی اٹھا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے میرے سر سے پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر دیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
جلیلُ المرتبت صحابی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایک رات اپنی خالہ کے پاس گزاری جو نبی ﷺ کی زوجہ تھیں تاکہ وہ بذات خود آپ ﷺ کو تہجد پڑھتا ہوا دیکھ سکیں۔جب نبی ﷺ رات کو نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ وہ آپ ﷺ کی اقتدا میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑے ہوئے اور چونکہ دائیں طرف زیادہ اشرف ہے اور جب مقتدی اکیلا ہو تو وہ امام کے دائیں جانب ہی کھڑا ہوتا ہے اس لیے آپ ﷺ نے انہیں ان کے سر سے پکڑ کر اپنے پیچھے سے گھماتے ہوئے اپنی داہنی جانب کھڑا کر دیا۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
عن عائشة رضي الله عنها : أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي صلاته بالليل، وهي مُعْتَرِضَةٌ بين يديه، فإذا بقي الوتر، أيقظها فأوترت. وفي رواية له: فإذا بقي الوتر، قال: «قومي فأوْتِري يا عائشة».
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے اور وہ ان کے سامنے لیٹی ہوتیں۔ جب وتر باقی رہ جاتی، تو آپ ﷺ انھیں بھی جگا دیتے اور وہ اٹھ کر وتر پڑھتیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب وتر باقی رہ جاتی، تو آپ ﷺ فرماتے:”اے عائشہ! اٹھو اور وتر پڑھو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
حدیث کا مفہوم: نبی ﷺ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے: ”نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ ﷺ کے اور قبلہ کے مابین ایسے پڑی ہوتی، جیسے جنازہ پڑا ہوتا ہے“۔
جب نبی ﷺ نماز تہجد سے فارغ ہو جاتے، تو وتر کی نماز شروع کرنے سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کو جگا دیتے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جب وتر باقی رہ جاتی، تو آپ ﷺ فرماتے: اے عائشہ! اٹھو اور وتر پڑھو۔
ابوداود کی روایت میں ہے: ”یہاں تک کہ جب آپ ﷺ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے، تو انھیں جگا دیتے اور وہ وتر پڑھتیں“۔
یعنی آپ ﷺ رات کے ابتدائی حصے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کو چھوڑے رکھتے اور انھیں نہیں جگاتے تھے۔ یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو جاتے اور صرف وتر باقی رہ جاتی، تو انھیں جگا دیتے؛ تاکہ وہ اپنی وتر پڑھ لیں اور وہ اٹھنے کے فورا بعد وتر پڑھا کرتی تھیں، اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں ان پر نیند کی سستی غالب نہ آ جائے اور تاخیر کی صورت میں کہیں یہ چھوٹ ہی نہ جائے۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م
المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392 هـ
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت
رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ
دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ
المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392 هـ
صحيح البخاري-المحقق : محمد زهير بن ناصر الناصر-الناشر : دار طوق النجاة-الطبعة : الأولى 1422هـ
الموسوعة الفقهية الكويتية-صادر عن: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت-عدد الأجزاء: 45 جزءا-الطبعة: من 1404 - 1427 هـ.
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «بادروا الصبح بالوتر».
ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبح کے وقت وِتر کی ادائیگی میں جلدی کیا کرو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وتر کی نماز کو رات کے آخری حصے تک مؤخر کرنا مستحب ہے، تاہم وتر مؤخر کرنے والے کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس کی ادائیگی میں احتیاط کیا کرے اور فجر سے پہلے اسے ادا کر لے۔ اس لیے کہ رات کی نماز کا آخری وقت طلوع فجر ہے۔لہٰذا اگر وتر کی ادائیگی سے پہلے فجر طلوع ہوجائے تو اس سے فضیلت فوت ہوجائے گی۔
حوالہ
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
صحيح مسلم -المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا قَام أحَدُكُم من الليل، فَاسْتَعْجَمَ القرآن على لِسَانه، فلم يَدْرِ ما يقول، فَلْيَضْطَجِع».
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز کے لیے کھڑا ہو اور اس کی زبان قرآن مجید پڑھنے میں اٹک رہی ہو اور وہ نہ سمجھ رہا ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تہجد کی نماز میں نیند کے غلبے کی وجہ سے اگر انسان پر قرآن پڑھنا دشوار ہو جائے کہ اسے پتہ نہ چلے وہ کیا کہہ رہا ہے، تو اسے لیٹ جانا چاہیے، تاکہ اس کی نیند چلی جائے، کہیں وہ اللہ کے کلام کو تبدیل نہ کر بیٹھے اور کوئی ایسا جملہ نہ کہہ دے جس کا کہنا جائز نہیں جس سے معنی بالکل بدل جائے، کلمات میں تحریف ہو جائے اور بسا اوقات انسان اپنے لیے بددعا کر جائے۔
بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی نماز میں اونگھتا ہے تو اسے سو جانا چاہیے، تاکہ اسے معلوم ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے“۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير - دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى 1418ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى 1430ه.
- إِكمَالُ المُعْلِمِ بفَوَائِدِ مُسْلِم، لعياض بن موسى اليحصبي السبتي أبو الفضل - المحقق: الدكتور يحْيَى إِسْمَاعِيل - دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر- الطبعة: الأولى، 1419 هـ - 1998 م.
عن عائشة رضي الله عنها ، قالت: كُنَّا نُعِدُّ لرسول الله صلى الله عليه وسلم سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ الله ما شاء أن يَبْعَثَهُ من الليل، فَيَتَسَوَّكُ، ويتوضَّأ ويُصلي.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے۔ رات کو اللہ تعالی جب چاہتا، آپ ﷺ کو بیدار کر دیتا اور آپ ﷺ مسواک اور وضو کرکے نماز پڑھتے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی مسواک اور پانی تیار کر کے رکھ دیتیں، جس سے آپ ﷺ رات کو وضو فرماتے تھے۔ پھر رات کو اللہ تبارک وتعالی آپ ﷺ کو نیند سے جب چاہتا، بیدار کرتا۔ آپ ﷺ جب اٹھتے تو منہ کی اس بو کو دور کرنے کے لیے دانتوں پر مسواک کرتے، جو عموما نیند کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے وضو فرماتے اور نماز تہجد ادا کرتے۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423 هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ.
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جوایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے شب قدر میں قیام کرتا ہے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی ﷺ یہاں شب قدر کی فضیلت بیان کر رہے ہيں، جو ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوا کرتی ہے۔ اس رات کی فضیلت یہ ہے کہ جس نے اس رات کی فضیلت پر یقین رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنے کی نیت سے اس میں جاگ کر نماز پڑھی، دعا کی، قرآن کی تلاوت کی، ذکر و اذکار میں مشغول رہا اور اپنے عمل کو ریاکاری اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے پاک رکھا، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
فوائد
شب قدر کی فضیلت اور اس میں قیام کی ترغیب۔
نیک اعمال اسی وقت قبولیت سے سرفراز ہوتے ہيں، جب انہیں نیک نیتی کے ساتھ انجام دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہی ہے کہ ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرنے والے کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 16) (35).
صحيح مسلم (1/ 523) (760).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (14/ 435).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 337).
نزهة المتقين، (2/ 846).
شرح النووي على مسلم (6/ 40).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 220).
شرح صحيح البخاري، لابن بطال (4/ 21).
عن عائشة رضي الله عنها والمغيرة بن شعبة رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقوم من الليل حتى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ فقلت له: لم تَصْنَعُ هذا يا رسول الله، وقد غفر اللهُ لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر؟ قال: «أَفَلَا أحب أن أكونَ عبدا شَكُورًا».
عائشہ رضی اللہ عنہا اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف کر دی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا پھر میں شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟“
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ رات کو تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے -یہ گمان کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ ایسا گناہ کے خوف سے اور مغفرت اوررحمت کی طلب میں کرتے ہیں؛ حالاں کہ آپ کے لیے تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت پکی ہو چکی ہے اور آپ ﷺ کو اس کی ضرورت نہیں ہے- آپ ﷺ سے عرض کی کہ اے اللہ کےرسول ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف کر دی ہیں، تو پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا میں شکز گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ عبادت مغفرت پر اظہار شکر کے لیے ہے۔
حوالہ
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
عن عائشة رضي الله عنها قالت: «من كلِّ الليل أَوْتَرَ رسول الله صلى الله عليه وسلم : من أول الليل، وأوسطه، وآخره، وانتهى وِتْرُهُ إلى السَّحَرِ».
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں نمازِ وتر پڑھی ہے۔ رات کے ابتدائی حصہ میں بھی، درمیان میں بھی اور آخر میں بھی اور آپ ﷺ کی وتر سحر تک ختم ہوجاتی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا وتر پڑھنے کے حوالے سے رسول اللہﷺ کے بارے میں بتا رہی ہیں کہ آپ رات کو وتر کس وقت پڑھتے تھے۔ وتر پڑھنے میں آپ ﷺ نے کوئی وقت خاص نہیں مقرر کیا تھا بلکہ رات کے پورے حصہ میں وتر پڑھتے تھے۔ کبھی رات کے شروع میں عشاء کی نماز کے بعد اور کبھی اس وقت کے جب اللہ تعالی چاہتا، اور کبھی رات کے درمیانی حصے میں جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر چکا ہوتا اور کبھی رات کے آخری حصہ میں پڑھتے جب رات دو تہائی گزر چکی ہوتی حتیٰ کہ رات کے بالکل آخری حصے تک چلے جاتے۔
حوالہ
تيسير العلام، للبسام، الناشر: مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة العاشرة، 1426 هـ - 2006 م.
تنبيه الأفهام، للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة، الامارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة الأولى 1426هـ.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، طبعة دار الفكر، دمشق، الطبعة الأولى 1381هـ.
صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، لأبي الحسين مسلم بن الحجاج النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com