جس نے صبح (صادق) سے پہلے وتر نہيں پڑھی تو اس کی وتر نہيں ہے
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من أدركه الصبح ولم يوتر؛ فلا وتر له».
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”جس نے صبح (صادق) سے پہلے وتر نہيں پڑھی تو اس کی وتر نہيں ہے“۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ وتر کی نماز کا وقت صبح ہونے یعنی طلوعِ فجر ثانی سے ختم ہوجاتا ہے، اوریہ وتر كا اختیاری وقت ہے، اوروترکی نماز کا اضطراری وقت جیسے دیر سے بیدار ہونے والے شخص کے لیے تو یہ فجر کی نماز تک رہتا ہے، جیسا کہ یہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت سے ثابت ہے۔
حوالہ
صحيح ابن خزيمة، لمحمد بن إسحاق بن خزيمة أبو بكر السلمي النيسابوري، المكتب الإسلامي - بيروت ، 1390 - 1970
صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان، تأليف محمد بن حبان بن أحمد بن حبان، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، مؤسسة الرسالة – بيروت، ط: الثانية، 1414 – 1993.
المستدرك على الصحيحين، محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم النيسابوري، دار الكتب العلمية - بيروت
الطبعة الأولى، 1411 - 1990، تحقيق : مصطفى عبد القادر عطا.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ.
إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني،المكتب الإسلامي – بيروت، ط. الثانية -1405 – 1985.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com