سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب تم میں سے کسی شخص کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آئے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے، یہاں تک کہ اس کی نیند دور ہوجائے۔

عن عائشة رضي الله عنها مرفوعاً: «إذا نَعَسَ أحدكم وهو يصلي فَلْيَرْقُدْ حتى يذهب عنه النوم، فإن أحدكم إذا صلى وهو نَاعِسٌ لا يدري لعله يذهب يستغفر فَيَسُبُّ نَفْسَهُ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آئے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے، یہاں تک کہ اس کی نیند دور ہوجائے۔ کیوں کہ جب تم میں سے کوئی اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا، تو ہوسکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے کی بجائے اپنے آپ ہی کو برا کہنے لگ جائے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث کا موضوع یہ ہے کہ عبادت سے نفس کو تھکانا ناپسندیدہ ہے۔ لہٰذا جب نمازی دورانِ نماز نیند کا غلبہ محسوس کرے تو اسے چاہيے کہ نماز توڑ کر یا پوری کر کے سوجائے اور اپنے نفس کو راحت و آرام پہنچائے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ تکان کی حالت میں وہ اپنے آپ پر بد دعا کر بیٹھے۔

حوالہ

صحيح البخاري, تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, ط 1422. صحيح مسلم ،تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي. مقاييس اللغة, تأليف: أحمد بن فارس الرازي, المحقق: عبدالسلام محمد هارون, الناشر: دار الفكر, عام 1399 بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي،الطبعة الأولى1418. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين, تأليف: مصطفى الخن ومصطفى البغا ومحي الدين مستو وعلي الشربجي ومحمد لطفي, مؤسسة الرسالة, ط 14 عام 1407 - 1987. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، تحقيق خليل مأمون شيحا-دار المعرفة-بيروت-الطبعة الرابعة1425ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اسلام کی فضیلت اور اس کی خوبیاں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com