سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”ہر دن، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا واجب ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ سُلاَمَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلاَةِ صَدَقَةٌ، وَيُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”ہر دن، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے تمہارا دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، کسی آدمی کو اس کی سواری پر بٹھانے یا اس کا سامان اٹھا کر اس پر رکھوانے میں اس کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کی طرف جانے کے لیے اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہر مکلف مسلمان کو ہر روز اس کی ہڈی کے ہر جوڑ کے بدلے میں ایک ایک نفلی صدقہ اس بات کے شکر کے طور پر کرنا ہے کہ اللہ نے اسے عافیت دی اور اس کی ہڈیوں میں جوڑ بنائے، جن کی وجہ سے اعضاے جسم کو سمیٹنا اور پھیلانا ممکن ہو سکا۔ یہ صدقہ تمام طرح کی نیکی کے کاموں سے ادا ہو سکتا ہے۔ مال دینے پر موقوف نہيں ہے۔ مثلا : دو جھگڑ رہے لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اور صلح کرا دینا صدقہ ہے۔ کسی ایسے شخص کو جو سواری پر چڑھ نہ پا رہا ہو، سواری پر چڑھا دینا یا اس کا سامان لاد دینا صدقہ ہے۔ اچھی بات، جیسے ذکر، دعا اور سلام وغیرہ صدقہ ہیں۔ نماز کے لیے جاتے وقت اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ راستے سے کسی تکلیف دہ چيز کو ہٹا دینا صدقہ ہے۔

فوائد
  1. انسان کی ہڈیوں کا جڑاؤ اور ان کی سلامتی اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ چنانچہ ہر ایک ہڈی کا یہ حق ہے کہ اس کی طرف سے خاص صدقہ کیا جائے، تاکہ اس نعمت پر اللہ کا شکر بجا لایا جا سکے۔
  2. ان نعمتوں کی بقا کے لیے ہر روز نئے سرے سے شکر ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
  3. ہر روز نوافل اور صدقوں کا اہتمام کرنے کی ترغیب۔
  4. لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی فضیلت۔
  5. اپنے بھائی کی مدد کرنے کی ترغیب۔ کیوں کہ اپنے بھائی کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے۔
  6. نماز باجماعت میں شریک ہونے، اس کے لیے چل کر جانے اور مسجد کو آباد کرنے کی ترغیب۔
  7. مسلمانوں کے راستوں کا احترام کرنا واجب ہے، بایں طور کہ ان راستوں پر ایسا کوئی کام نہ کیا جائے، جس سے ان کو تکلیف یا نقصان پہنچے۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 56) (2989). صحيح مسلم (1/ 498) (720). -التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، مطبعة دار نشر الثقافة، الإسكندرية، الطبعة: الأولى، 1380 هـ. -شرح الأربعين النووية، للشيخ ابن عثيمين، دار الثريا للنشر. -فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، دار ابن القيم، الدمام المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1424هـ/2003م. -الفوائد المستنبطة من الأربعين النووية، للشيخ عبد الرحمن البراك، دار التوحيد للنشر، الرياض.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اسلام کی فضیلت اور اس کی خوبیاں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com