سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أفضل الصِّيام، بعد رمضان، شَهر الله المُحَّرم، وأفضل الصلاة، بعد الفَريضة، صلاة الليل».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ماہ محرم، جو کہ ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے اس کا روزہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل ہے۔ کیونکہ یہ سال کی ابتداء ہے اور اس کا آغاز روزے جیسے بہترین عمل سے کیا جاتا ہے۔ ہر مسلمان کےلیے ضروری ہے کہ وہ اس کے روزوں کا اہتمام کرے اور بغیر عذر کے یہ روزے نہ چھوڑے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ ”شَهر الله“ (اللہ کا مہینہ ہے) یہ دوسرے مہینوں کی بنسبت اس کی قدر و منزلت پر دلالت کرتا ہے۔ نماز تہجد (صلوۃ اللیل) فرائض کے بعد نوافل میں سے سب سے بہترین عبادت ہے کیوں کہ اس میں خشوع وخضوع، حضورِ قلب اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلوت کا بھرپور موقع موجود ہوتا ہے۔ ﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا﴾ ”رات کا اٹھنا یقیناً (نفس کو) بہت زیر کرنے والا ہے اور قرآن پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں وقت ہے“ (سورہ مزمل:6) کیونکہ رات کا وقت آرام و سکون کا ہوتا ہے اور جس وقت عبادت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو نفس پر بڑا شاق گزرتا ہے اور باعث مشقت ہوتا ہے نیز بدن تھکاوٹ سے چور ہوتا ہے تو گویا اس کو تکلیف میں ڈالا جاتا ہے اور یہ اللہ کے ہاں بڑا فضیلت والا کام ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. فيض القدير شرح الجامع الصغير، تأليف: محمد عبد الرؤوف بن زين العابدين المناوي، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى – مصر، الطبعة الأولى، 1356هـ. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قیام اللیل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com