سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تم میں ہر شخص کو چاہیے جب تک دل لگے نماز پڑھے، تھک جائے تو سوجائے۔

عن أنس رضي الله عنه قال: دخل النبي صلى الله عليه وسلم المسجد فإذا حبل ممدود بين الساريتين، فقال: «ما هذا الحبل؟» قالوا: هذا حبل لزينب، فإذا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ به. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «حُلُّوهُ، لِيُصَلِّ أحدكم نشاطه فإذا فَتَرَ فليرقد».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپ کی نظر ایک رسّی پر پڑی جو دو ستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اِسے زینب رضی اللہ عنہا نے باندھ رکھا ہے۔ جب وہ (نماز میں کھڑی کھڑی) تھک جاتی ہیں تو اس کا سہارا لے لیتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اسے کھول ڈالو، تم میں ہر شخص کو چاہیے کہ جب تک دل لگے نماز پڑھے، تھک جائے تو سوجائے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے تو آپ ﷺ کو مسجد کے ستونوں میں سے دو ستونوں کے مابین ایک رسّی تنی ہوئی دکھائی دی۔ آپ ﷺ نے اسے لٹکانے کا سبب دریافت کیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کو بتایا کہ یہ زینب رضی اللہ عنہا کی رسی ہے جو خوب دیر تک نوافل ادا کرتی ہیں اور جب تکان محسوس کرتی ہیں تو رسی کو تھام لیتی ہیں اور تب بھی نماز پڑھتی رہتی ہیں۔ آپ ﷺ نے رسی کو ہٹانے کا حکم دیا اور عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے کی ترغیب دی اور اس میں بہت ہی زیادہ مستغرق ہوجانے سے منع فرمایا تاکہ عبادت پوری بشاشت کے ساتھ ہو۔

حوالہ

الجامع المسند الصحيح (صحيح البخاري), تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, ط 1422 المسند الصحيح (صحيح مسلم), تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي. تطريز رياض الصالحين, تأليف: فيصل مبارك, دار العاصمة, ط1423 - 2002 بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قیام اللیل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com