سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ مِنَ الجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَالرَّوْحَةُ يَرُوحُهَا العَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ الغَدْوَةُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا».
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور بندے کا ایک شام یا ایک صبح اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن پہرے داری پر کھڑے رہنا یا ایک صبح اللہ کی راہ میں نکلنا اور جنت میں کسی کے کوڑے کے برابر جگہ ، یہ سب دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں کیوں کہ جنت باقی رہنے والی جگہ ہے جب کہ دنیا فانی ہے اور تھوڑی باقی رہنے والی چیز بہت زیادہ فنا ہوجانے والی چیز سے بہتر ہوتی ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري (4/ 35) (2892). صحيح مسلم (3/ 1500) (1881). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص739).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نیک اعمال کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com