سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب دو مسلمان آپس ميں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہيں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے"۔

عَنِ الْبَرَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا».
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے: "جب دو مسلمان آپس ميں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہيں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے"۔
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح بمجموع طرقه
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب دو مسلمان کسی راستے وغیرہ میں ملتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں مصافحہ کرتے ہوئے، تو دونوں کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہيں۔ یاد رہے کہ یہاں الگ ہونے سے مراد جسمانی طور پر الگ ہونا بھی ہو سکتا ہے اور مصافحہ سے فارغ ہونا بھی۔

فوائد
  1. ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا مستحب عمل ہے اور اس کی ترغیب دى گئى ہے۔
  2. مناوی کہتے ہيں: سنت یہ ہے کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو دائيں ہاتھ کو دائيں ہاتھ پر رکھا جائے۔
  3. سلام کو عام کرنے کی ترغیب اور ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان بھائی سے مصافحہ کرنے کے عظیم اجر و ثواب کا بیان۔
  4. اس حدیث سے حرام مصافحہ مستثنی ہے۔ جیسے کسی اجبنی عورت سے مصافحہ کرنا۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 502) (5212). سنن الترمذي (4/ 447) (2727). سنن ابن ماجه (4/ 654) (3703). مسند أحمد (30/ 517) (18547). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 152). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 680).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نیک اعمال کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com