ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس کے بعد کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔
عن أبي مسعود البَدْري رضي الله عنه قال: كنت أضرب غُلاما لي بالسَّوْط، فسمعت صوتا من خَلفِي: «اعلم أبَا مسعود» فلم أفْهَم الصَّوت من الغَضَب، فلمَّا دَنَا مِنِّي إذا هو رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هو يقول: «اعلم أبَا مسعود أن الله أقْدَرُ عليك مِنْك على هذا الغُلام». فقلت: لا أَضرب مملوكا بعده أبدًا.
وفي رواية: فسقط السَّوط من يَدي من هَيْبَتِه.
وفي رواية: فقلت: يا رسول الله، هو حُرٌّ لوجه الله تعالى، فقال: «أمَا لو لم تفعل، لَلَفَحَتْكَ النَّار، أو لَمَسَّتْكَ النَّار».
ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کوڑے سے اپنے ایک غلام کو ماررہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی:ابو مسعود!جان لو۔ لیکن میں غصے کی وجہ سے وہ آواز پہچان نہ سکا۔جب آوازدینے والا میرے قریب ہوا تو (معلوم ہوا کہ) وہ رسول اللہ ﷺ تھے اور فرما رہے تھے کہ ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس کے بعد کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کی ہیبت سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ ! یہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اسے (آزاد) نہ کرتے تو آگ تمہیں جھلسا دیتی یا آگ تمہیں چھو لیتی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابو مسعود رضی اللہ عنہ اپنے غلام کو کوڑے سے ما رہے تھے۔ اسی اثناء میں انہوں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی جو انہیں ڈاٹ رہی تھی۔ وہ پہچان نہ پائے کہ آواز دینے والا کون ہے۔ جب آواز دینے والا قریب آیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی آواز ہے۔ آپ ﷺ یہ فرماتے ہوئے انہیں اللہ عز و جل کی قدرت یاد دلا رہے تھے کہ ’’اے ابو مسعود! یہ جان رکھو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر رکھتے ہو‘‘۔ جب انہوں نے نبی ﷺ کی بات سنی اور کمزور پر دست درازی کے بارے میں آپ ﷺ کی تحذیر ان تک پہنچی تو رسول اللہ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے کوڑا ان کے ہاتھ سے گر گیا اور انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے عہد کیا کہ اس کے بعد وہ کسی غلام کو نہیں ماریں گے۔ نبی ﷺ سے اس ڈانٹ اور ڈراوے کو سن کر انہوں نے مار کے کفّارے کے طور پر اس غلام کو آزاد کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو قیامت کے دن تمہارے اس برے عمل کی وجہ سے تمہیں جہنم کی آگ چھو لیتی۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407هـ.
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م.
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428هـ.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com