ایک کتا کنویں کی منڈیر کے گرد چکر لگا رہا تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت سے مر جائے کہ اسے بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس سے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلا دیا۔ اسے اس کے اس عمل کی وجہ سے معاف کر دیا گیا۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «بينما رجلٌ يمشي بطريقٍ اشتَدَّ عليه العَطَشُ، فوَجَدَ بِئْرًا فنزل فيها فَشَرِبَ، ثم خَرَجَ فإذا كَلْبٌ يَلْهَثُ يأكل الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فقال الرجلُ: لقد بَلَغَ هذا الكَلْبَ مِنَ العَطَشِ مِثْلَ الذِي كان قَدْ بَلَغَ مِنِّي، فنَزَلَ البِئْرَ، فَمَلَأَ خُفَّهُ ماءً ثم أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الكَلْبَ، فشَكَرَ اللهُ له، فَغَفَرَ لهُ» قالوا: يا رسول الله، إنَّ لَنَا في البَهَائِمِ أَجْرًا؟ فقال: «في كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ».
وفي رواية: «فشَكَرَ اللهُ له، فغَفَرَ له، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ».
وفي رواية: «بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكْيَةٍ قد كَادَ يَقْتُلُهُ العَطَشُ إذ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَاسْتَقَتْ له بهِ فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لها بِهِ».
ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے ستایا۔ اسے ایک کنواں دکھائی دیا اور تو وہ اس میں اترا اور پانی پیا ۔ جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتاہا نپتے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے کیونکہ اسے شدید پیاس لگی ہوئی تھی‘ اس آدمی نے سوچا کہ اس کتے کو بھی اس طرح پیاس لگی ہے جیسے مجھے پیاس لگی تھی۔ لہٰذا وہ پھر کنویں میں اترا، اپنے موزے کو پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ سے تھاما اورباہر آ کر کتے کو پانی پلا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی نیکی کا صلہ دیا اور اسے بخش دیا۔ صحابہ کرام ۔ رضی اللہ عنہم۔ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جانوروں کی وجہ سے بھی ہمیں اجرو ثواب ملتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہرتر کلیجے (زندہ چیز) کی وجہ سے اجرو ثواب ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”اللہ تعالی نے (اس کے اس فعل کی قدر دانی میں) اسے صلہ دیتے ہوئے بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک کتا کنویں کی منڈیر کے گرد چکر لگا رہا تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت سے مر جائے کہ اسے بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس سے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلا دیا۔ اسے اس کے اس عمل کی وجہ سے معاف کردیا گیا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ایک شخص سفر کرتا ہوا راستے میں جا رہا تھا کہ اسے پیاس لگی۔اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا اور یوں اس کی پیاس ختم ہوئی۔ جب وہ باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے گیلی مٹی کو کھا رہا ہے تاکہ اس میں موجود پانی کو چوس سکے۔ اس پر اس آدمی نے کہا کہ: اللہ کی قسم! اس کتے کو بھی ویسے ہی پیاس لگی ہے جیسے مجھے لگی تھی۔ وہ کنویں میں داخل ہوا، اپنا موزہ پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ سے تھاما اور اپنے ہاتھوں کی مدد سے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ کنویں سے باہر آکر اس نے کتے کو پانی پلا دیا۔ جب وہ کتے کو پانی پلا چکا تو اللہ نے اس کے اس فعل کو پسند فرمایا اور اس کے بدلے میں اس کی بخشش کرتے ہوئے اسے جنت میں داخل کر دیا۔
نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو جب یہ حدیث سنائی تو انھوں نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ: اے اللہ کے رسول! کیا چوپایوں کے ساتھ نیکی کرنے میں بھی ہمیں ثواب ملتا ہے؟۔ یعنی کیا یہ بھی اجر و ثواب کا سبب ہیں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر تر کلیجے کے ساتھ نیکی کرنے میں اجر ہے یعنی ہر تر کلیجے کو سیراب کرنے میں اجر ملتا ہے۔ کلیجے کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ اگر پانی نہ ہوتا تو یہ سوکھ جاتا اور جاندار ہلاک ہو جاتا۔
اور ایک روایت میں ہے: بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کے مارے کنویں کے گرد گھوم رہا تھا، لیکن اس کی پانی تک رسائی ممکن نہیں ہوئی، چنانچہ اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اسے پانی سے بھرا اور کتے کو پلا دیا لہٰذا اس عمل کے بدلے اللہ نے اس کی مغفرت کردی۔
حوالہ
رياض الصالحين، للنووي، نشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق – بيروت، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428هـ - 2007م.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م.
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه.
كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة: الأولى، 1430ه 2009م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. ط1 -1415
المعجم الوسيط، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان، الطبعة: الثانية.
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com