عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: ««إذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھا چکے، تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے، یہاں تک کہ اس کو خود چاٹ لے یا اسے کسی اور کو چٹا دے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے حکم دیا کہ جو شخص کھانا کھا چکے، وہ اپنے ہاتھ کو اس وقت تک نہ تو پونچھے اور نہ ہی دھوئے، جب تک اسے چاٹ نہ لے یا اسے چٹا نہ دے۔ بعض روایات میں اس حکم کی علت یہ آئی ہے کہ اس شخص کو نہیں معلوم کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے انگلیوں کے چاٹنے کا حکم دیا کہ ہو سکتا ہے کہ برکت اس کھانے میں ہو، جو ان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تأسس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
عن عائشة رضي الله عنها: «أَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم سُئِل عن الْبِتْعِ؟ فقال: كل شَرَابٍ أَسْكَر فهو حَرَامٌ».
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے شہد کی شراب (الْبِتْعِ) کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”ہر پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی کریم ﷺ سے شہد کی شراب پینے کا حکم دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے ایک ایسا جواب مرحمت فرمایا، جو عام نوعیت کا حامل اور اس جیسے ہر مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، جس کا لب لباب یہ ہے کہ عنوان اور تعبیرات کی تبدیلی سے حقائق نہیں بدل سکتے، جب تک کہ معنی اور حقیقت ایک ہو۔ لہٰذا ہر وہ پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہی ہوگی؛ چاہے کسی بھی نوع سے اسے تیار کیا گیا ہو۔
نبی کریم ﷺ کا یہ مختصر سا جملہ آپ کے جامع کلمات (دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف) اور اپنے پروردگار کی جانب سےآپ کو عطا کردہ عمدہ و دل نشین اندازِبیان کا ایک نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی بعثت کی مدت میں اس قدر علم عام فرمایا کہ تمام نوع انسانی کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں نصیب ہوجائیں۔
حوالہ
- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه.
- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ
- عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ
- تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ.
- الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381ه
- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ.
عن عَبْدُ الله بن عمر رضي الله عنهما أن عمر قال -على منبر رسول الله- صلى الله عليه وسلم : "أما بعد، أيها الناس، إنه نزل تحريم الخمر وهي من خمسة: مِنَ العنب، والتمر، والعسل، والحنطة، والشعير. والخمر: مَا خَامَرَ العَقْلَ. ثَلاثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم كَانَ عَهِدَ إلَيْنَا فِيهَا عَهْداً نَنْتَهِي إلَيْهِ: الجَدُّ، والكَلالَةُ، وأَبْوَابٌ مِنَ الرِّبَا".
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اما بعد، اے لوگو! شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت یہ ان پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جَو سے۔ خمر ہر وہ شے ہے، جو عقل کو زائل کردے۔ تین مسائل کی نسبت میری تمنا ہی رہ گئی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے سلسلے میں ہمیں کوئی ایسی وصیت کر دیتے، جس کی طرف ہم رجوع کر سکتے: دادا کی میراث، کلالہ اور سود کے کچھ مسائل“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
یہ خطبہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی ﷺ میں آپ ﷺ کے منبر شریف پر کھڑے ہو کر دیا اور اس میں انھوں نے ہر اس شے کو خمر قرار دیا، جو عقل کو زائل کر دیتی ہو۔ چنانچہ ”خمر“ کا اطلاق صرف اس شراب پر نہیں ہوتا، جو انگور سے بنائی گئی ہو، بلکہ ہر وہ نشہ آور مشروب خمر کہلاۓ گا، جو کھجور، شہد یا گندم سے تیار کردہ ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ تین مسائل ایسے ہیں، جن میں لوگوں کو اشکال پیش آتا ہے اور ان کی تمنا ادھوری رہ گئی کہ نبی ﷺ ان تین مسائل کے بارے میں اپنی امت کو کوئی ایسی وصیت فرما جاتے،جس کی طرف وہ رجوع کر سکتے۔ یہ تین مسائل یہ ہیں: دادا کی میراث، ہر اس شخص کی میراث جس کی نہ اولاد ہو اور نہ ہی والد اور سود کے کچھ مسائل۔ الحمدللہ ان تینوں مسائل کا حکم معلوم ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ نبی ﷺ نے انھیں بیان نہیں فرمایا۔ آپ ﷺ نے رسالت کی ذمہ داری پوری فرمادی، امانت ادا کر دی اور اللہ تعالی کی وہ باتیں بھی پہنچا دیں، جو ان تینوں امور سے کم اہمیت کی حامل تھیں۔ در اصل عمر رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ ان امور میں کوئی ایسی صریح اور واضح نص ہوتی، جس میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہوتی۔
حوالہ
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ.
المعجم الوسيط، مجمع اللغة العربية بالقاهرة، (إبراهيم مصطفى، أحمد الزيات، حامد عبد القادر، محمد النجار)، الناشر: دار الدعوة.
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو نہ پکڑے اور نہ قضائے حاجت کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کجھ آداب بیان کیے ہيں۔ پیشاب کرتے وقت دائيں ہاتھ سے شرمگاہ کو پکڑنے اور دائيں ہاتھ سے قبل یا دبر کی نجاست کو صاف کرنے سے منع فرمایا ہے، کیوں کہ دایاں ہاتھ اچھے کاموں کے لیے عطا ہوا ہے۔ اسی طرح جس برتن سے کچھ پیا جا رہا ہو، اس میں سانس لینے سے منع فرمایا ہے۔
فوائد
آداب اور نظافت میں اسلام کو سبقت حاصل ہے۔
گندی چيزوں سے اجتناب ضروری ہے۔ اگر ہاتھ لگانا ضروری ہو جائے، تو بایاں ہاتھ لگایا جائے۔
دائیں ہاتھ کو بائيں ہاتھ پر شرف اور فضیلت حاصل ہے۔
اسلامی شريعت ایک مکمل شریعت ہے اور اس کی تعلیمات شمولیت کی حامل ہيں۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 42) (154).
صحيح مسلم (1/ 225) (267).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص41).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 45).
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ کے پاس بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا۔ لہذا آپ نے اس سے کہا : "اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ"۔ لیکن اس نے جواب دیا : میں (دائیں ہاتھ سے) کھا نہیں سکتا۔ اس پر آپ ﷺ نے (اس کے حق میں بد دعا کے طور پر) کہا : "تو ایسا کر بھی نہیں سکتا"۔ دراصل اس نے محض تکبر کی وجہ سے آپ کی بات کو ٹھکرایا تھا۔ راوی حدیث کہتے ہيں : چنانچہ وہ شخص اپنا ہاتھ اپنے منہ تک کبھی نہ لے جا سکا۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا، تو دائیں ہاتھ سے کھانے کا حکم دیا۔ لیکن اس نے تکبر کی وجہ سے جھوٹ بول دیا کہ وہ ایسا کر نہیں سکتا۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں بد دعا کر دی کہ وہ کبھی دائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھا سکے۔ چنانچہ اللہ نے اپنے نبی کی بد دعا قبول کر لی اور اس کا دایاں ہاتھ بے کار ہو گیا۔ وہ کبھی اپنا ہاتھ کھانے یا پینے کے لیے منہ تک نہیں اٹھا سکا۔
فوائد
دائیں ہاتھ سے کھانا واجب اور بائیں ہاتھ سے کھانا حرام ہے۔
شرعی احکام پر عمل کرنے سے تکبر کرنا انسان کو سزا کا حق دار بنا دیتا ہے۔
اللہ نے اپنے نبی کو ایک اعزاز یہ دیا تھا کہ ان کی دعا قبول کرتا تھا۔
اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے کا کام ہر حالت میں کرنا ہے۔ کھانے کی حالت میں بھی۔
حوالہ
صحيح مسلم (3/ 1599) (2021).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 239).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 183).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (3/ 396).
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی ﷺ کے ساتھ کھانا کھاتے تھے تو ہم اپنے ہاتھوں کو (کھانے میں) اس وقت تک نہیں ڈالتے تھے جب تک کہ رسول اللہ ﷺ شروع نہ کردیتے اور اپنا ہاتھ مبارک نہ ڈال دیتے۔ ایک مرتبہ ہم آپ ﷺ سے ساتھ کھانا کھانے میں موجود تھے کہ اچانک ایک لڑکی آئی گویا کہ اسے کوئی ہانک رہا ہے وہ اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آدمی دوڑتا ہوا آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس دیہاتی کا بھی ہاتھ پکڑ لیا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شیطان اپنے لیے ایسے کھانے کو حلال کرلیتا ہے کہ جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے چنانچہ شیطان اس لڑکی کو لایا تاکہ وہ اپنے لیے کھانا حلال کرے تو میں نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ شیطان اس دیہاتی آدمی کو لایا تاکہ وہ اس کے ذریعہ اپنا کھانا حلال کرلے تو میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شیطان کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور کھانا کھایا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب ہم لوگ آپ ﷺ کے ساتھ کھانے میں شریک ہوتے، تو آپ ﷺ کے کھانا شروع کرنے اور ہاتھ آگے بڑھانے سے پہلے ہم کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے تھے، یہ آپ ﷺ کے احترام کی وجہ سے تھا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ بڑھانے سے پہلے وہ ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے۔ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے پاس کھانا آیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے ابھی شروع نہیں کیا تھا یا ان کے سامنے پیش کیا گیا، تو ایک بچی اس طرح آئی جیسے اسے دوڑایا جا رہا ہو، وہ بغیر بسم اللہ کے اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے لگی، آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ایک بدّو آیا جیسے اسے بھی دوڑایا جارہا ہو، اس نے اپنا ہاتھ کھانے کی طرف بڑھایا تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ بھی روک لیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس بدّو اور بچی کو شیطان لے کر آیا تھا یعنی اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا تھا اور آنے پر ابھارا، تاکہ ان دونوں کے بغیر بسم اللہ کے کھانا شروع کرنے کی وجہ سے وہ اسے اپنے لیے حلال کر لے۔
یہ دونوں اپنی جہالت کی وجہ سے معذور تھے، یہ لڑکی اپنی کم سنی اور یہ ایک بدّو ہونے کی وجہ سے، لیکن شیطان انھیں ہانک کر اس لیے لے آیا کہ جب یہ دونوں بغیر باسم اللہ پڑھے کھانے لگ جائیں تو وہ بھی کھانے میں شریک ہو جائے گا۔
پھر نبی ﷺ نے قسم کھا کر کہا کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھ کے ساتھ نبی ﷺ کے ہاتھ میں میں موجود تھا۔
حوالہ
صحيح مسلم (3/ 1597) (2017).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 51).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 192).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (10/ 202).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 600).
عن عائشة رضي الله عنها كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ طَعَامًا في سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، فقال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَمَّى لَكَفَاكُمْ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایسے میں ایک اعرابی آیا جس نے دو ہی لقموں میں سارا کھانا کھا لیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے بسم اللہ پڑھی ہوتی تو وہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ اپنے چھے صحابہ کرام کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ اس دوران میں ایک دیہاتی آ کر ان کے ساتھ شامل ہو گیا اور اس نے دو ہی لقموں میں کھانا ختم کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا لیکن اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی اور باقی کھانا سارے کا سارا دو لقموں میں کھا گیا اور وہ اس کے لیے کافی نہ ہوا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان جب بسم اللہ نہیں پڑھتا تو اس کے کھانے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
حوالہ
- سنن الترمذي لمحمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض -شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م
- سنن ابن ماجه لابن ماجه أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي- دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
- مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين، تأليف مصطفى سعيد الخن-مصطفى البغا-محي الدين مستو-علي الشربجي-محمد أمين لطفي-مؤسسة الرسالة-بيروت –لبنان-الطبعة الرابعة عشرة 1407.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم بن عيد الهلالي دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى 1418.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين -المؤلف: محمد علي بن محمد بن علان الصديقي-اعتنى بها: خليل مأمون شيحا-دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان-الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م.
-المعجم الوسيط-المؤلف: مجمع اللغة العربية بالقاهرة- (إبراهيم مصطفى / أحمد الزيات / حامد عبد القادر / محمد النجار)-الناشر: دار الدعوة.
- مختصر الشمائل المحمدية- محمد بن عيسى الترمذي، الناشر: المكتبة الإسلامية - عمان – الأردن- اختصره وحققه محمد ناصر الدين الألباني.
وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔؟ آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تم الگ الگ کھاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”اپنا کھانا اکٹھے ہو کر کھایا کرو اوراللہ کا نام لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ وہ کھاتے تو ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ اس کے کچھ اسباب یہ ہیں: الگ الگ ہو کر کھانا کھانا۔ کیونکہ یہ برکت اٹھ جانے کا ایک سبب ہے اس لیے کہ الگ الگ کھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہر کسی کا خاص برتن ہو۔ اس سے کھانا بٹ جائے گا اور برکت اٹھ جائے گی۔ اس کی ایک اور وجہ کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھنا بھی ہے۔ انسان جب کھانے پر اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان اس کے ساتھ کھاتا ہے اور اس کے کھانے سے برکت کھینچ لی جاتی ہے۔
حوالہ
سنن أبي داود (5/ 588) (3764).
سنن ابن ماجه (4/ 418) (3286).
مسند أحمد (25/ 485) (16078).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 217).
نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 607).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 59).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com