سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

شرعی آداب

184 احادیث

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے ہم کو منع فرمایا تھا۔

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ: أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، أَوِ الْمُقْسِمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ -أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ- بِالذَّهَبِ، وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے منع فرمایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے، جنازے کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب میں ”يرحمك الله“ کہنے، قسم (یا قسم کھانے والے کی قسم) كو پورا کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے اور سلام پھیلانے کا حکم فرمایا تھا اور آپ صﷺ نے ہمیں سونے کی انگوٹھیوں سے-یاسونے کیانگوٹھیاں پہننے سے-، چاندی کے برتن میں پینے سے، 'میثر' (کجاوے کے اوپر کے ریشمی گدے) اور 'قسی' (قس نامی مصری بستی کی طرف منسوب ریشمی کپڑے) کے استعمال کرنے سے اور ریشم، 'استبرق' (دیباج سے زیادہ دبیز اور موٹن ریشمی کپڑا) اور 'دیباج' (باریک ریشمی کپڑا) پہننے سے منع فرمایا تھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ کو دنیا میں اس مقصد سے مبعوث کیا گیا کہ آپ اعلی اخلاق کی تکمیل فرمادیں؛ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ ہر طرح کے اعلی و عظیم اخلاق و اعمال کی ترغیب فرماتےاور ہر قبیح و ناشائستہ اخلاق و اعمال سے منع فرمایا کرتے۔ آپ ﷺ کے انھی اوامر میں سے کچھ اشیا کا ذکر اس حدیث میں ہے۔ ان میں سے پہلا یہ ہے کہ مریض کی عیادت کی جائے۔ جو درحقیقت ایک اسلامی حق کی ادائیگی، اسے قدرے راحت رسانی اور اس کے حق میں دعاسے عبارت ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ جنازہ کے پیچھے چلا جائے؛ کیوں کہ یہ جنازے کے پیچھے چلنے والےکے لیے اجرو ثواب، میت کے حق میں دعا، اہل قبور کے حق میں سلام، وعظ و نصیحت اور عبرت و سبق آموزی وغیرہ پر مشتمل ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ چھینکنے والے کے "الحمدللہ" کہنے کے جواب میں "یرحمک اللہ" کہا جائے۔ چوتھا ہے قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنا۔ جب وہ تمھیں (قسم دے کر) کسی کام کے لیے بلائے اوراس کی قسم پوری کرنے میں تمھیں کسی طرح کا نقصان نہ ہو، تو اس کی قسم کو پوری کردو؛ تاکہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرنے پر مجبور نہ ہوجائے۔ اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس کی دل جمعی کا سامان کردو۔ پانچواں یہ ہے کہ مظلوم کی ظالم کے خلاف مدد کی جائے؛ کیوں کہ اس عمل میں ظلم کا تدارک، ظالم کو اس کی دست درازیوں سے روکنا، اس کو ایذا رسانی سے باز رکھنا، منکر و برائی سے منع کرنا، جیسے امور شامل ہیں۔ چھٹا امر ہے دعوت دینے والے کی دعوت پر لبیک کہنا؛ کیوں کہ دعوت قبول کرنا در اصل دلوں میں قربت پیدا کرنے اور شکوک وشبہات سے پاک رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس سے باز رہنے کی صورت میں احساس بے گانگی اور باہمی نفرت انگیزیاں پروان چڑھتی ہیں۔ دعوت اگر شادی کی ہو، تو اس کا قبول کرنا واجب ہے اور دیگر دعوتوں کا قبول کرنا مستحب ہے۔ ساتواں امر یہ ہے کہ سلام کو عام کیا جائے۔ یہ دراصل ہر کس و ناکس کے لیے سلامتی کا اعلان و اظہار، سنت کی تعمیل، مسلمانوں کی ایک دوسرے کے حق میں سلامتی کی دعا اور محبت و یگانگت پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس حدیث میں جن چیزوں سے منع کیا گيا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مرد حضرات سونے کی انگوٹھیا ں نہ پہنیں؛ کیوں کہ اس سے نسوانیت و زنانہ پن کی طرف میلان اور مردانگی کی نفی ہوتی ہے۔ دوسری یہ ہے کہ چاندی کے برتن میں نہ پیا جائے؛ کیوں کہ اس میں مال کی تباہی اور تکبر کا اظہار ہےاور جب ان برتنوں میں پینے سے روک دیا گیا، جو انسانی زندگی کی اہم ضرورت ہے، تو مابقی دیگر تمام استعمالات میں یہ ممانعت اور حرمت بدرجۂ اولی ثابت ہوتی ہے۔ تیسری یہ ہے کہ میاثر (زین یا کجاوہ کے اوپر ریشم کا گدا)، قسی (مصر کے قس نامی ایک دیہات سے منسوب اوراطراف مصر میں تیار کیا جانے والا ایک کپڑا، جس میں ریشم کے دھاگے بھی استعمال ہوتے تھے)، حریر (ریشمی لباس)، دیباج (باریک ریشمی کپڑا) اور استبرق (دیباج سے زیادہ دبیز اور موٹا ریشمی کپڑا) جیسے ریشمی لباس کی تمام انواع کو مردوں کے لیے حرام قرار دیا گیا؛ کیوں کہ ملبوسات کی یہ تمام انواع، انسانی مزاج میں سستی اور عیش پرستی پیدا کرتی ہیں اور یہ دونوں چیزیں مزاج میں جمود و تعطل اور بے راہ روی کا سبب بنتی ہیں، جب کہ مردوں کی مردانگی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ چاق و چوبند رہیں اور جفاکشی اور اولو العزمی کی صفات کے حامل ہوں؛ تاکہ اپنے دین، اپنے اہل و عیال اور اپنے وطن کے دفاعی فرائض کی انجام دہی میں ہمیشہ کمر بستہ رہیں۔

حوالہ

صحيح البخاري (2/ 71) (1239). صحيح مسلم (3/ 1635) (2066). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص731).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص طاعون کے مرض میں مبتلا ہوا اور صبر اور اجر وثواب کی نیت رکھتے ہوئے وہ اپنے علاقےمیں ہی مقیم رہا، یہ یقین رکھا کہ اسے صرف وہی تکلیف پہنچے گی، جو اللہ نے اس کے لیے لکھ رکھی ہے، تو اسے شہید کے اجر کے مساوی اجر ملے گا۔

عن عائشة رضي الله عنها أَنَّها سَأَلَت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الطَّاعُون، فَأَخبَرَها أَنَّه كَان عَذَابًا يَبعَثُه الله تعالى على من يشاء، فَجَعَلَه الله تعالى رحمَة للمؤمنين، فليس من عبدٍ يقع في الطَّاعُون فَيَمكُث فِي بَلَدِه صَابِرًا مُحتَسِبًا يعلَم أَنَّه لايُصِيبُه إِلاَّ مَا كتَب الله له إلا كان له مِثلُ أجرِ الشَّهيدِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں پوچھا۔ آپﷺ نے انھیں بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا، جسے اللہ تعالی جس پر چاہتا، نازل کردیتا۔ تاہم ایمان والوں کے لیے اللہ تعالی نے اسے رحمت بنا دیا۔ چنانچہ جو شخص بھی طاعون کے مرض میں مبتلا ہوا اور صبر اور اجر وثواب کی نیت رکھتے ہوئے وہ اپنے علاقےمیں ہی مقیم رہا، اس یقین کے ساتھ کہ اسے صرف وہی تکلیف پہنچے گی، جو اللہ نے اس کے لئے لکھ رکھی ہے، تو اسے شہید کے اجر کے مساوی اجر ملے گا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں پوچھا، تو آپﷺ نے انھیں بتایا کہ طاعون ایک عذاب ہے، جسے اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، نازل کر دیتا ہے۔ چاہے یہ معین طاعون ہو یا پھر عام وبا ہو، جیسے ہیضہ وغیرہ؛ طاعون اللہ عز و جل کا بھیجا ہوا عذاب ہے۔ لیکن یہ مؤمن کے لیے رحمت ہے، بایں طور کہ یہ کسی کے علاقےمیں پھیل جائے اور وہ صبر کا دامن تھام کر، اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے، اس یقین کے ساتھ اسی علاقے میں رہے کہ اسے وہی مصیبت پہنچ سکتی ہے، جو اللہ نے اس کے لیے لکھ رکھی ہے، تو اللہ تعالی اس کے لیے شہید کے برابر اجر لکھ دیتا ہے۔ اسی لیے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: "جب تمھیں یہ معلوم ہو کہ کسی جگہ طاعون پھیلا ہوا ہے، تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقےمیں طاعون پھیل جائے اور تم وہاں ہو، تو اس سے بچنے کے لیے وہاں سے نہ نکلو"۔ جب کسی جگہ طاعون پھیل چکا ہو، تو وہاں ہم نہیں جائیں گے؛ کیوں کہ وہاں جانا اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ تاہم جب وہ کسی علاقے میں پھیل چکا ہو، تواس سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے ہم وہاں سے نہیں نکلیں گے۔ کیوں کہ اللہ کی طرف سے مقدر کردہ شے جب زمین پر نازل ہوجائے، تو آپ اس سے جتنا بھی بھاگ لیں، آپ کا یہ بھاگنا اللہ کےمقابلے میں آپ کو کچھ بھی فائدہ نہیں دے گا؛ کیوں کہ اللہ کی قضا سے سوائے اس کی ذات کے اور کوئی مفر نہیں ہے۔ طاعون پر صبر کرنے والے اور اجر و ثواب کی امید رکھنے والے شخص کو شہدا کا درجہ حاصل ہونے کا راز یہ ہے کہ جب انسان کے علاقے میں طاعون پھیلتا ہے، تو اس کے لیے جان قیمتی ہوتی ہے، اس وجہ سے وہ اس سے بھاگ اٹھے گا اور طاعون سے خوف زدہ ہو جائے گا۔ تاہم اگر وہ صبر کرے، وہیں مقیم رہے اور اجر کی امید رکھے اور یقین کر لے کہ اسے صرف وہی مصیبت لاحق ہو گی، جسے اللہ نے اس کے لیے لکھ رکھا ہے اور پھر اس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو جائے، تو اس شخص کے لیے شہید کے مساوی اجر لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ اللہ عز و جل کی طرف سے ایک نعمت ہے۔

حوالہ

رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428ه. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى 1418هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com