سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مناظرہ کے آداب

1 احادیث

قرآن کے معاملے میں جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تُجادِلوا في القرآن؛ فإنَّ جِدالًا فيه كُفرٌ».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”قرآن کے معاملے میں جھگڑے نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے“۔
اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ نے قرآن کریم کے معاملے میں جھگڑنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ اس طرح ہوتا ہے کہ کسی شخص نے کسی آیت کی تلاوت یا کلمے کو سنا جو اس کے پاس نہیں یا اس کا اسے علم نہیں تو جلدبازی کرتے ہوئے پڑھنے والے کو خطا کار گردان دے اور جو اس نے پڑھا ہے اسے غیرِقرآن سے منسوب کر دے، یا پھر وہ کسی آیت کے معنی میں جھگڑتا ہے جس کا اسے علم نہیں تو اسے گمراہ قرار دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ جھگڑا اس کے سامنے حق کے ظاہر ہونے کے باوجود اس کو حق سے پھیر دیتا ہے۔ اسی لیے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کا نام کفر رکھا گیا ہے کیونکہ یہ معاملہ صاحبِ جدال کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ کوئی بھی انسان اس سے اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے یا یہ مباح اور محمود اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب سوال کرنے والا حصولِ علم یا اظہارِ حق کے لیے سوال کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ ”ان سے اچھے انداز میں بحث ومباحثہ کیجیے“۔

حوالہ

-مسند أبي داود الطيالسي، المؤلف: أبو داود سليمان بن داود بن الجارود الطيالسي البصرى، المحقق: الدكتور محمد بن عبد المحسن التركي، الناشر: دار هجر – مصر، الطبعة: الأولى، 1419 هـ - 1999 م. -فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي، المكتبة التجارية الكبرى – مصر، الطبعة: الأولى. -سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، تأليف محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، لمكتبة المعارف. -النهاية في غريب الحديث والأثر, مجد الدين أبو السعادات المبارك بن محمد ابن الأثير , الناشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م, تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي. -التيسير بشرح الجامع الصغير, زين الدين محمد المدعو بعبد الرؤوف بن تاج العارفين بن علي بن زين العابدين الحدادي ثم المناوي, مكتبة الإمام الشافعي – الرياض, الطبعة: الثالثة، 1408هـ - 1988م. -التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ, محمد بن إسماعيل بن صلاح بن محمد الحسني، الكحلاني ثم الصنعاني، المعروف بالأمير, المحقق: د. محمَّد إسحاق محمَّد إبراهيم, مكتبة دار السلام، الرياض, الطبعة: الأولى، 1432 هـ - 2011 م -العواصم والقواصم في الذب عن سنة أبي القاسم, محمد بن إبراهيم ابن الوزير, حققه: شعيب الأرنؤوط, مؤسسة الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت, الطبعة: الثالثة، 1415 هـ - 1994 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com