سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

بیمار پرسی کے آداب

8 احادیث

جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا اپنے کسی دینی بھائی سے ملاقات کی، تو اس کو ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: ”تو خوش رہے، تیرا چلنا مبارک ہو اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا“۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «مَنْ عَادَ مَرِيضًا أَو زَارَ أَخًا لَهُ فِي الله، نَادَاهُ مُنَادٍ: بِأَنْ طِبْتَ، وَطَابَ مَمْشَاكَ، وَتَبَوَّأتَ مِنَ الجَنَّةِ مَنْزِلاً».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا اپنے کسی دینی بھائی سے ملاقات کی، اس کو ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: ”تو خوش رہے، تیرا چلنا مبارک ہو اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے یا پھر اللہ کی خاطر اپنے کسی بھائی سے ملاقات کے لیےجاتا ہے، اللہ کے ہاں سے ایک فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے کہ تو گناہوں سے پاک ہو، اللہ کے ہاں تیرے لیے جو بے پناہ اجر ہے اس سے تو خوش ہو اور جنت کا محل تیرا مسکن بنے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418 هـ. تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى 1423هـ، 2002م. رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ. سنن ابن ماجه، ابن ماجه محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء الكتب العربية، فيصل عيسى البابي الحلبي. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، الطبعة: 1426هـ. صحيح الأدب المفرد، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، حقق أحاديثه وعلق عليه: محمد ناصر الدين الألباني، دار الصديق للنشر والتوزيع، الطبعة: الرابعة 1418هـ. مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط وعادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى 1421هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا ،جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا‘‘

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا ،جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر عائد ہونے والے کچھ حقوق بتا رہے ہیں۔ پہلا حق : سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دینا۔ دوسرا حق : مریض کی عیادت اور زیارت کرنا۔ تیسرا حق : جنازے کے پیچھے پیچھے گھر سے نماز گاہ اور وہاں سے قبرستان تک جانا اور تدفین کا کام پورا ہو جانے تک ساتھ رہنا۔ چوتھا حق : دعوت قبول کرنا، جب کوئی شخص شادی کے ولیمہ وغیرہ کی دعوت دے۔ پانچواں حق : چھینکنے والے کا جواب دینا۔ یعنی جب چھینکنے والا الحمد للہ کہے تو جواب میں یرحمک اللہ کہنا۔ پھر اس کے جواب میں چھینکنے والا يهديكم الله ويصلح بالكم کہے۔

فوائد
  1. مسلمانوں کے آپسی حقوق کی تاکید اور ان کے درمیان محبت و بھائی چارہ کو فروغ دینے کے سلسلے میں اسلام کی عظمت۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 71) (1240). صحيح مسلم (4/ 1704) (2162). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (4/ 512). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 327). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 253). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 591). بهجة قلوب الأبرار، لابن سعدي (ص81).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے۔

عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قَال: عَادَنِي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً».
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! سعد کو شفا دے، اے اللہ ! سعد کو شفا دے ۔ اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح

سعد بن ابی وقاص کی حدیث یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سعد رضی اللہ عنہ جب بیمار تھے تو ان کی عیادت کی اور دعا فرمائی کہ ”اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے“ ایسا آپ ﷺ نے تین دفعہ کہا۔ اس حدیث میں دلیل ہے کہ آدمی کا کسی مسلمان مریض کی عیادت کے لیے جانا سنت ہے۔اس حدیث میں آپ ﷺ کے اپنے صحابہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور انداز معاملت کی بھی وضاحت ہے۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ میں سے جو مریض ہوتے ان کی عیادت کے لیے جاتے اور ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے ۔ اس حدیث میں اس طرح کی دعا مانگنے کے استحباب کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ”اے اللہ ! فلاں شخص کو شفا عطا فرما “، تین دفعہ نام لے کر ایسا کہیں گے ۔ مریض کے شفایاب ہونے کے اسباب میں سے یہ بھی ایک سبب ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. شرح رياض الصالحين لابن عثيمين , دار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة: 1426 هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے اللہ، اے لوگوں کے پروردگار، اے پریشانی کو دورکرنے والے! تو شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔

عن أنس رضي الله عنه أنه قَالَ لِثابِتٍ رحمه اللهُ: ألاَ أرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ؟ قال: بلى، قال: «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ البَأسِ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي، لاَ شَافِيَ إِلاَّ أنْتَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ثابت رحمہ اللہ سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا بتلایا ہوا دم نہ کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے یہ دعا پڑھی: ”اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ البَأسِ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي، لاَ شَافِيَ إِلاَّ أنْتَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً“ اے اللہ، اے لوگوں کے پروردگار، اے پریشانی کو دورکرنے والے! تو شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ثابت البنانی رحمہ اللہ کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ کیا میں تمہیں وہ دم نہ کروں جو نبی ﷺ کیا کرتے تھے؟۔ آپ ﷺاپنے رب سے مریض کے لیے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ اس سے مرض کی شدت، اس کی سختی اور تکلیف کو دور کردے اور ایسی شفا دے دے جس کے بعد پھر سے مرض لوٹ کر نہ آئے۔ علماء کا دَم (رقیہ) کے جائز ہونے پر اتفاق ہے بشرطیکہ تین شرائط پائی جائیں: 1۔ یہ کلام اللہ یا اس کے اسماء و صفات کے ساتھ ہونا چاہئے۔ 2۔ یہ عربی زبان میں ہو اور اس کا معنی سمجھ میں آنے والا ہو۔مستحب یہ ہے کہ یہ ان الفاظ کے ساتھ ہو جو احادیث میں آئے ہیں۔ 3۔ اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ دَم (رقیہ) میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں بلکہ اس میں تاثیر اللہ کی طرف سے آتی ہے۔

حوالہ

تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے اللہ لوگوں کے پروردگار! تکلیف دور کر دے، شفایابی سے نواز کہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المؤْمنينَ رَضيَ اللهُ عنها قَالَت: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ يَدْعُو لَهُ قَالَ: «أَذْهِبِ الْبَاسَ، رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا».
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ بعض ازواج مطہرات کی عیادت کرتے، اپنا دایاں ہاتھ پھیر کر یوں دعا کیا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أذْهِب البَأسَ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفاؤكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً“ اے اللہ انسانوں کے پروردگار! تکلیف کو دور کر دے۔ شفایابی سے نواز کہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو کسی قسم کی بیماری نہیں چھوڑتی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ جب اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی بیمار بیوی کی عیادت کرتے تو ان کے لیے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ اور ان پر اپنا دایاں ہاتھ پھیر کر مریض پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے اللہ جو تمام لوگوں کا پروردگار ہے“ یہاں وہ اللہ عزوجل سے اس کی ربوبیت عامہ کے وسیلہ سے دعا کر رہے ہیں۔ پس وہ رب ہے سبحانہ وتعالی، خالق ہے، مالک ہے اور تمام کاموں کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ”تکلیف دور کردے“ یعنی اس مرض کو جو مریض کو لاحق ہے۔ ”شفا“ در اصل مرض کا ازالہ اور مریض کی خلاصی ہے۔ شافی اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کیوں کہ وہی ہے جو مرض سے شفا دیتا ہے۔ ”اور تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں“ یعنی اللہ کی شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں۔ پس اس کی شفا کسی اور کی نہیں۔ جب کہ مخلوق کی شفا محض ایک سبب ہے۔ شافی صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے شفاۓ کاملہ کا سوال کیا یعنی ایسی شفا جس کے بعد کوئی بیماری باقی نہ رہے۔

حوالہ

صحيح البخاري (7/ 134) (5750). صحيح مسلم (4/ 1721) (2191). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 162). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 477). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (11/ 539). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 687).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک وہ جنت کے تازہ پھلوں کے چننے میں مصروف رہتا ہے۔

عن ثوبان رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قَالَ: "إنَّ المسلِمَ إذا عادَ أخاه المسلِمَ، لم يَزَلْ في خُرْفَةِ الجَنَّةِ حتى يرجعَ"، قيل: يا رسولَ اللهِ ما خُرْفَةُ الجنَّةِ؟، قال: "جَنَاها".
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک وہ جنت کے تازہ پھلوں کے چننے میں مصروف رہتا ہے“۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! ”خُرْفَةُ الجنَّةِ“ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے تازہ پھل“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی، اس کی بیماری میں عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے تازہ پھلوں کے چننے میں مصروف رہتا ہے۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ: ”خُرْفَةُ الجنَّةِ“ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے مراد جنت کے تازہ پھل چننا ہے۔ یعنی جب تک وہ اس مریض کے پاس بیٹھا رہتا ہے تب تک وہ جنت کے پھل توڑ رہا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے بیمار پرسی کرنے والے شخص کو حاصل ہونے والے اجر و ثواب کو اس چیز سے تشبیہ دی جو پھل توڑنے والے شخص کو حاصل ہوتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے یہاں راستہ مراد ہے، یعنی عیادت کرنے والا شخص ایسے راستے پر چل رہا ہوتا ہے جو اسے جنت تک لے جاتا ہے۔ جب کہ پہلی تفسیر بہتر ہے۔ مریض کے پاس بیٹھنا مختلف حالات اور افراد کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ چنانچہ کبھی تو مریض کے پاس بیٹھنے کی ضرورت ہوتی ہے، اور کبھی تو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اگر یہ معلوم ہو جائے کہ مریض اس شخص سے سکون محسوس کرتا ہے اور اسے پسند ہے کہ وہ اس کے پاس دیر تک رہے تو افضل یہ ہے کہ وہ اس کے پاس دیر تک ٹھہرے۔ لیکن اگر یہ معلوم ہو کہ مریض چاہتا ہے کہ بیمار پرسی کرنے والا اس کے پاس کم وقت بتائے تو اسے وہاں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ چنانچہ ہر صورت حال کے لیے الگ حکم ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، اِن شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔

عن عبدالله بن عباس رضي الله عنهما أنّ النبي صلى الله عليه وسلم دخلَ على أعرابيٍّ يَعُودُه، وكان إذا دَخَلَ على مَن يَعودُه، قال: «لا بأس؛ طَهُور إن شاء الله».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کی عیادت کرنے کے لیے گئے، اور نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، ان شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کے بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرنے کے لیے گئے اور نبی ﷺ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے، تو کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی کوئی سختی اور تکلیف کی بات نہیں اور تمہارا یہ مرض تمہارے گناہوں، عیبوں کو إن شاء اللہ پاک کرنے والا ہو گا، نیز آخرت میں بلندیٔ درجات کا سبب بھی بنے گا۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. كنوز رياض الصالحين، فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف ملا علي القاري، تحقيق صدقي العطار، دار الفكر-بيروت، الطبعة الأولى، 1412هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے، تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔

عن علي رضي الله عنه قال: سمعتُ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يقول: « مَا مِنْ مُسْلِم يَعُودُ مُسْلِماً غُدْوة إِلاَّ صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ ألْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِي، وَإنْ عَادَهُ عَشِيَّةً إِلاَّ صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ ألْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ في الْجَنَّةِ».
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے، تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی شام کے وقت کسی مسلمان کی عیادت کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہو گا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ انسان جب اپنے مریض مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کی کیاری یعنی جنت کے باغ میں ہوگا۔ اللہ کا فضل وسیع ہے۔ یہ حدیث مریض کی عیادت کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ صبح عیادت کرے تو اس کے لیے یہ اجر ہے اور شام کو عیادت کرے تو بھی اس کے لیے یہ اجر ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. الجامع الصحيح –وهو سنن الترمذي-؛ للإمام محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق محمد فؤاد عبدالباقي، مكتبة الحلبي-مصر، الطبعة الثانية، 1388هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. سنن أبي داود؛ للإمام أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني، تعليق عزت الدعاس وغيره، دار ابن حزم-بيروت، الطبعة الأولى، 1418هـ. سنن ابن ماجه؛ للحافظ محمد بن يزيد القزويني، حققه محمد فؤاد عبدالباقي، دار إحياء الكتب العربية. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح الترغيب والترهيب؛ تأليف محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف-الرياض، الطبعة الخامسة. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. المسند؛ للإمام أحمد بن حنبل، نشر المكتب الإسلامي-بيروت، مصور عن الطبعة الميمنية. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com