’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا ،جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا ،جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر عائد ہونے والے کچھ حقوق بتا رہے ہیں۔ پہلا حق : سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دینا۔
دوسرا حق : مریض کی عیادت اور زیارت کرنا۔
تیسرا حق : جنازے کے پیچھے پیچھے گھر سے نماز گاہ اور وہاں سے قبرستان تک جانا اور تدفین کا کام پورا ہو جانے تک ساتھ رہنا۔
چوتھا حق : دعوت قبول کرنا، جب کوئی شخص شادی کے ولیمہ وغیرہ کی دعوت دے۔
پانچواں حق : چھینکنے والے کا جواب دینا۔ یعنی جب چھینکنے والا الحمد للہ کہے تو جواب میں یرحمک اللہ کہنا۔ پھر اس کے جواب میں چھینکنے والا يهديكم الله ويصلح بالكم کہے۔
فوائد
مسلمانوں کے آپسی حقوق کی تاکید اور ان کے درمیان محبت و بھائی چارہ کو فروغ دینے کے سلسلے میں اسلام کی عظمت۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 71) (1240).
صحيح مسلم (4/ 1704) (2162).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (4/ 512).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 327).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 253).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 591).
بهجة قلوب الأبرار، لابن سعدي (ص81).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com