سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

سلام کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب

24 احادیث

اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولا ــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے او ر تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں۔

عن أبي هُريرة -رضي اللهُ عنه- مرفوعًا: «لو أن رجلا -أو قال: امْرَأً- اطَّلَعَ عليك بغير إِذْنِكَ؛ فَحَذَفْتَهُ بحَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عينه: ما كان عليك جُنَاحٌ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولاــــــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے اور تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کی اجازت کے بغیر اس کے دروازے کے پیچھے سے یا دیوار وغیرہ کے اوپر سے جھانکے اور وہ کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے یا پھر اس کی آنکھ میں کوئی آہنی چیز گھونپ دے تو اس آنکھ تلف کرنے والےکو نہ تو کوئی گناہ ہو گا اور نہ ہی اس پر اس کا قصاص آئے گا کیوں کہ زیادتی اور جرم کا ارتکاب اس جھانکنے والے شخص کی طرف سے ہوا ہے، جس نے ایسا کیا۔

حوالہ

1- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. 2- صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. 3- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. 4- تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں آج رسول اللہ ﷺ کے دربان کی ذمہ داری سر انجام دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے دروازے کو دھکیلا، تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکر!۔ میں نے کہا: ذراٹھہریے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابوبکر دروازے پر موجود ہیں اور اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انھیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی۔

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه أَنَّهُ تَوَضَّأ في بيتِهِ، ثُمَّ خَرَج، فقَال: لَأَلْزَمَنَّ رسُول الله صلى الله عليه وسلم ولَأَكُونَنَّ مَعَهُ يَومِي هَذَا، فَجَاءَ الْمَسْجِدَ، فَسَألَ عَنِ النبيِّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- فَقَالُوا وَجَّهَ هَاهُنَا، قال: فَخَرَجْتُ عَلَى أَثَرِهِ أَسأَلُ عنْهُ، حتَّى دخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ، فَجَلَستُ عِندَ البَابِ حتَّى قَضَى رسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأ، فَقُمتُ إِلَيهِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَلَسَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا، وكَشَفَ عَنْ سَاقَيهِ وَدلَّاهُمَا فِي البِئرِ، فَسَلَّمتُ علَيه ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَجَلَسْتُ عِند البَابِ، فقُلتُ: لأَكُونَنَّ بَوَّابَ رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- اليَومَ، فجَاءَ أَبُو بَكر -رضِيَ الله عنْهُ- فَدَفَعَ البَابَ، فقُلتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، فقُلتُ: عَلَى رِسْلِكَ، ثُمَّ ذَهَبتُ، فَقُلْتُ: يَا رسُولَ الله، هَذَا أبُو بكرٍ يَسْتَأذِنُ، فقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالجَنَّةِ» فَأَقْبَلْتُ حتَّى قُلتُ لَأَبِي بَكْرٍ: ادْخُلْ وَرَسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ، فَدَخَلَ أَبُو بَكرٍ حَتَّى جَلَسَ عَن يَمِينِ النبيِّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- مَعَهُ فِي القُفِّ، ودَلَّى رِجْلَيهِ فِي البِئْرِ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيهِ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَجَلَسْتُ، وَقَدْ تَرَكْتُ أَخِي يَتَوَضَّأ وَيَلْحَقُنِي، فَقُلْتُ: إِنْ يُرِدِ اللهُ بِفُلاَنٍ - يُريِدُ أَخَاهُ - خَيرًا يَأتِ بِهِ، فَإِذَا إِنسَانٌ يُحَرِّكُ البَّابَ، فقُلتُ: مَنْ هَذَا؟ فقَالَ: عُمَرُ بن الخَطَّابِ، فقُلتُ: عَلَى رِسْلِكَ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- فَسَلَّمْتُ عَلَيهِ وقُلْتُ: هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ؟ فَقَال: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالجَنَّةِ» فَجِئْتُ عُمَرَ، فَقُلتُ: أَذِنَ وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- بِالجَنَّةِ، فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رسُولِ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- فِي القُفِّ عَنْ يَسَارِهِ وَدَلَّى رِجْلَيهِ فِي البِئْرِ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ، فَقُلتُ: إِن يُرِدِ اللهُ بِفُلاَنٍ خَيرًا -يعنِي أَخَاهُ- يَأتِ بِهِ، فَجَاءَ إِنسَانٌ فَحَرَّكَ البَابَ، فقُلتُ: مَنْ هَذَا؟ فقَالَ: عُثمَانُ بنُ عَفَّان، فقُلتُ: عَلَى رِسْلِكَ، وَجِئتُ النبِيَّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- فَأَخبَرتُهُ، فقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرهُ بِالجَنَّةِ مَعَ بَلوَى تُصِيبُهُ» فَجِئتُ، فقُلتُ: ادْخُل وَيُبَشِّرُكَ رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- بِالجَنَّةِ مَعَ بَلوَى تُصِيبُكَ، فَدَخَلَ فَوَجَدَ القُفَّ قَدْ مُلِئَ، فَجَلَسَ وِجَاهَهُم مِنَ الشِقِّ الآخَرِ. قال سعيد بنُ الْمُسَيِّبِ: فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُم. وزاد في رواية: وَأَمَرَنِي رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- بِحفظِ البابِ، وفيها: أنَّ عُثمَانَ حِينَ بَشَّرَهُ حَمِدَ الله -تَعَالَى-، ثُمَّ قَالَ: اللهُ الْمُسْتَعَانُ.
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے گھر میں وضو کیا اور جب باہر آئے، تو ارادہ کیا کہ آج دن بھر رسول اللہ ﷺکا ساتھ نہ چھوڑوں گا اور آپ ﷺ کے ساتھ رہوں گا۔ چنانچہ وہ مسجد میں آئے اور نبی ﷺ کے بارے میں پوچھا، تو لوگوں نے بتایا کہ آپ ﷺ اس طرف تشریف لے گئے ہیں۔ ابوموسی اشعری کہتے ہیں: میں آپ کے متعلق پوچھتا ہوا آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑا، حتی کہ (میں نے دیکھا کہ) آپ ﷺ بئر اریس میں داخل ہوگئے ہیں۔ میں دروازے پر بیٹھ گیا۔ جب آپ ﷺ قضاے حاجت کر چکے اور آپ ﷺ نے وضو بھی کر لیا، تو میں آپﷺ کی طرف گیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ بئر اریس کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اپنی پنڈلیاں کھول رکھی ہیں اور انھیں کنویں میں لٹکایا ہوا ہے۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا اور پھر واپس آ کر باغ کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا کہ آج رسول اللہ ﷺ کے دربان کی ذمہ داری سر انجام دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے دروازے کو دھکیلا تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکر!۔ میں نے کہا: ذراٹھہریے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابوبکر دروازے پر موجود ہیں اور اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انھیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی۔ میں نے آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اندر تشریف لے جائیے اور رسول اللہ ﷺ نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور اسی کنویں کی منڈیر پر نبی ﷺ کی داہنی طرف بیٹھ گئے اور اپنے دونوں پاؤں ویسے ہی کنویں میں لٹکالیے، جس طرح رسول اللہ لٹکائے ہوئے تھے اور اپنی پنڈلیوں کو بھی کھول لیا۔ میں واپس آ کر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ میں آتے وقت اپنے بھائی کو وضو کرتا ہوا چھوڑ آیا تھا۔ جو میرےپیچھے ہی آ رہا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ کاش اللہ فلاں( یعنی ان کے بھائی) کے ساتھ خیر کا ارادہ کر لے اور اسے یہاں تک لے آئے۔ اتنے میں کسی صاحب نے دروازہ پر دستک دی میں نے پوچھا کون ہیں؟ جواب ملا کہ عمر بن خطاب۔میں نے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جائیے۔ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کے بعد عرض کیا کہ عمر بن خطاب دروازے پر کھڑے ہیں اوراندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انھیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی پہنچا دو۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اجازت دے دی ہے اور ساتھ ہی آپ ﷺ نے آپ کو جنت کی بشارت بھی دی ہے۔ چنانچہ وہ اندر آئے اور آپ ﷺ کے ساتھ اسی منڈیر پر بائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکالیے۔ میں پھر دروازے پر آ بیٹھا اور دل میں سوچا کہ کاش اللہ فلاں (یعنی ان کے بھائی) کے ساتھ خیر کا ارادہ کرلے تو اسے یہاں لے آئے۔ اتنے میں ایک اور صاحب آئے اور دروازے پر دستک دی۔ میں نے پوچھا کون ہیں؟ بولے کہ عثمان بن عفان۔ میں نے کہا: تھوڑی دیر کے لیے رک جائیے۔ میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انھیں اجازت دے دو اور انھیں جنت کی بشارت کے ساتھ ساتھ اس آزمائش کے بارے میں بھی بتا دو، جو ان پر آئے گی۔ میں دروازے پر آیا اور میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے جائیے اور رسول اللہ ﷺ نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہےاور ساتھ ہی ایک آزمائش کے بارے میں بھی بتایا ہے، جو آپ پر آئے گی۔ وہ جب داخل ہوئے، تو دیکھا منڈیر پر جگہ نہیں ہے، اس لیے وہ دوسری جانب ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے ان کی قبروں کی تاویل لی ہے (کہ وہ اسی طرح بنیں گی)۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ: "اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے دروازے کی نگہبانی پر مامور فرمایا"۔ اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ: "جب انھوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بشارت دی، تو انھوں نے اللہ کی حمد بیان کی اور کہا: اللہ ہی وہ ذات ہے، جس سے مدد مانگی جا سکتی ہے"۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کا بیان ہےکہ ایک دن انھوں نے گھر میں وضو کیا اور نبی ﷺ کی تلاش میں نکل پڑے۔ انھوں نے دل میں سوچا کہ میں آج رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہوں گا۔ یعنی آپ ﷺ جہاں بھی آئیں جائیں گے، میں آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہوں گا۔ چنانچہ وہ نبی ﷺ کی تلاش میں نکلے اور مسجد آ پہنچے، کیوںکہ آپ ﷺ یا تو مسجد میں ہوتے یا اپنے گھر میں اہل خانہ کا کام کاج کر رہے ہوتے یا پھر اپنے صحابہ کے کاموں میں مصروف ہوتے۔ جب مسجد میں انھیں آپ ﷺ نہ ملے، تو انھوں نے آپ ﷺ کے بارےمیں دریافت کیا۔ لوگوں نے "اریس "کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ آپ ﷺ اس جانب تشریف لے گئے ہیں۔ یہ قبا کے گرد ونواح میں واقع ایک کنواں ہے۔ چنانچہ ابو موسی آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے کنویں تک پہنچ گئے۔ انھیں وہاں نبی ﷺ مل گئے اور وہ اس باغ کے دروازے پربیٹھ گئے، جس میں کنواں واقع تھا۔ رضی اللہ عنہ۔ نبی ﷺ نے قضاے حاجت کے بعد وضو فرمایا اور پھر کنویں کی منڈیر یعنی کنویں کے کنارے کے درمیان میں بیٹھ گئے اور پنڈلیوں کو کھول کر اپنے پاؤں اس میں لٹکالیے۔ ابو موسی رضی اللہ عنہ کنویں کے دروازے پر رسول اللہ ﷺ کے پہرے دار کے طور پر موجود تھے۔ ایسے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت چاہی، لیکن ابو موسی رضی اللہ عنہ نے انھیں تب تک اجازت نہیں دی، جب تک انھوں نے نبی ﷺ کو نہ بتا دیا کہ ابوبکر اجازت طلب کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "انھیں آنے کی اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی "۔ چنانچہ انھوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی اور ساتھ ہی انہھیں بتایا کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ جنت کی بشارت دے رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی خوشخبری تھی۔ ابوموسی رضی اللہ عنہ نے انھیں بشارت بھی دی اور اندر آنے کی اجازت بھی، تا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو جائیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ اندر تشریف لائے اور دیکھا کہ نبی ﷺ منڈیر کے درمیان میں تشریف فرما ہیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے دائیں طرف بیٹھ گئے اور انھوں نے ویسا ہی کیا، جیسا آپ ﷺ نے کر رکھا تھا کہ اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا لیے اور اپنی پنڈلیاں کھول لیں؛ کیوںکہ انھيں یہ گوارا نہ تھا کہ بیٹھنے کی اس ہیئت میں وہ نبی ﷺ کی مخالفت کریں۔ ابو موسی رضی اللہ عنہ جب (آپ ﷺ کی تلاش میں) نکلے تھے، تو ان کا بھائی وضو کر رہا تھا اور اسے ان کے پیچھے ہی آنا تھا۔ انھوں نے سوچا کہ اگر اللہ ان کے بھائی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہوئے اسے بھی یہاں تک لے آئے، تو بہت اچھا ہوگا۔ تاکہ آنے پر وہ بھی اجازت طلب کرے اور اسے بھی جنت کی بشارت مل جائے۔ لیکن (ان کی بجائے) کسی اور شخص نے اجازت چاہی۔ ابو موسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور بتایا کہ عمر رضی اللہ عنہ آئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "انھیں اجازت دے دو اور ساتھ ہی انھیں جنت کی بشارت بھی سنا دو"۔ چنانچہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے انھیں داخلےکی اجازت دے دی اور انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ آپ کو جنت کی بشارت دے رہے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ اندار داخل ہوئے اور دیکھا کہ نبی ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ منڈیر پر بیٹھے ہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے بائیں جانب بیٹھ گئے۔ کنواں تنگ تھا اور اتنا کھلا نہیں تھا۔ یہ تینوں ایک طرف تشریف فرما تھے۔ اس کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت چاہی، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے ویسا ہی کیا، جیسا پہلے اجازت مانگے جانے پر کیاتھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”انھیں اجازت دے دو، انھیں جنت کی بشارت کے ساتھ ساتھ ایک آزمائش کے بارے میں بھی بتا دو، جو ان پر آنے والی ہے“۔ چنانچہ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے انھیں اجازت دے دی اور بتایا کہ رسول اللہ ﷺ آپ کو جنت کی بشارت دے رہے ہیں اور ایک آزمائش کے بارے میں بھی بتا رہے ہیں، جو آپ پر آنے والی ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیےنعمت اور آزمائش دونوں اکٹھی تھیں۔ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”الحمدللہ، اس آزمائش پر اللہ ہی سے مدد طلب کی جا سکتی ہے اور اس بشارت پر میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں“۔ جب اندر داخل ہوئے، تو دیکھا کہ منڈیر بھری ہوئی ہے، کیوںکہ وہ زیادہ کشادہ نہیں تھی۔ چنانچہ وہ ان کے سامنے دوسری طرف چلے گئے اور اس پر بیٹھ کر اپنے پاؤں لٹکا لیے اور پنڈلیوں کو کھول لیا۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ جو جلیل القدر تابعین میں سے ہیں، اس سے یہ تاویل لیتے ہیں کہ ان کی قبریں اس طرح سے ہوں گی؛ کیوںکہ ان تینوں کی قبریں ایک ہی جگہ پر تھیں۔ نبی ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سب ایک حجرے میں تھے اور سب ایک ہی جگہ دفن ہوئے۔ دنیا میں یہ لوگ (جہا ں بھی آتے جاتے) اکٹھے آتے جاتے۔ نبی ﷺ ہمیشہ کہا کرتے تھے: ”میں، ابو بکر اور عمر گئے۔ میں، ابو بکر اور عمر آئے“۔ یہ دونوں آپ ﷺ کے ساتھی اور وزیر تھے اور روزِ قیامت اپنی قبروں سے بھی یہ اکٹھے ہی اٹھیں گے۔ چنانچہ یہ دنیا اور آخرت میں ایک ساتھ رہیں گے۔ عثمان رضی اللہ عنہ ان کے سامنے بیٹھ گے۔ نبی ﷺ نے انھیں جنت کی بشارت کے ساتھ ساتھ انھیں پیش آنے والی ایک آزمائش کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ یہ آزمائش وہی تھی، جس میں لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اختلاف کے شکار ہو کر آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئےاور آپ کے گھر میں آپ کو شہید کر دیا۔ لوگ مدینے میں واقع ان کے گھر میں گھس آئے۔ قرآن کریم عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے تھا اور وہ اس کی تلاوت کر رہے تھے۔ اسی حالت میں ان لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. تطريز رياض الصالحين للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. شرح رياض الصالحين للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے، تو سلام کرے اور جب اٹھ کر جانے لگے، تو بھی سلام کرے اور پہلا دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ فَلْيُسَلِّمْ، فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے، تو سلام کرے اور جب اٹھ کر جانے لگے، تو بھی سلام کرے اور پہلا (موقع) دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ہے“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث میں سلام کے آداب کا بیان ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب آدمی مجلس میں داخل ہو، تو سلام کرے۔ پھر جب لوٹنے کا ارادہ کرے اور کھڑا ہو کر مجلس سے جدا ہونا چاہے، تو سلام کرے۔ پیارے نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے۔ ”پہلا دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ہے“ یعنی جس طرح داخل ہوتے ہوئے سلام کیا تھا، اسی طرح جدا ہو تو سلام کرے۔ اسی طرح جب آدمی مسجد میں داخل ہو، تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور جب نکلے، تب بھی نبی ﷺ پر سلام بھیجے۔ جس طرح پہلا سلام اس بات کی خبر دیتا ہے کہ لوگ اس کی موجودگی میں اس کی برائی سے محفوظ ہیں، اسی طرح دوسرا سلام خبر دیتا ہے کہ لوگ اس کی عدمِ موجودگی میں بھی اس کے شر سے محفوط ہیں اور یہ کمالِ شریعت کی وجہ سے ہے کہ اس نے اس طرح کے امور میں ابتدا و انتہا کو یکساں کر دیا اور شریعت جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ حکیم و خبیر کی جانب سے ہے۔

حوالہ

سنن أبي داود (7/ 500) (5208). سنن الترمذي (4/ 432) (2706). السنن الكبرى للنسائي (9/ 144) (10129). مسند أحمد (12/ 47) (7142). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (11/ 360). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 142). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص523). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 672).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ جب کوئی بات کہتے، تو اسے تین بار دوہراتے، تاکہ آپ ﷺ کی بات کو پوری طرح سمجھ لیا جائے اور جب کچھ لوگوں کے پاس آ کر سلام کرتے، تو انھیں تین بار سلام کرتے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أَنَّ النَبيَّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- كَان إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ، وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيهِم سَلَّمَ عَلَيهِم ثَلاَثًا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب کوئی بات کہتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ آپ ﷺ کی بات کو پوری طرح سمجھ لیا جائے اور جب کچھ لوگوں کے پاس آ کر سلام کرتے تو انہیں تین بار سلام کرتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ جب کوئی بات کرتے، تو اسے تین دفعہ دوہراتے، تاکہ آپ ﷺ کی بات کو پوری طرح سے سمجھ لیا جائے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تاکہ آپ ﷺ کی بات پوری طرح سمجھ لی جائے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر بغیر دہرائے بات سمجھ میں آ جائے، تو پھر بات کرنے والا اپنی بات کو نہ دہرائے۔ تاہم اگر انسان کو بات سمجھ میں نہ آئے، بایں طور کہ وہ اس کا معنی اچھی طرح سے نہ جانتا ہو اور اسے سمجھانے کے لیے وہ بات کو دوہرائے یا اس کی قوت سماعت کمزور ہو اور اس وجہ سے وہ سن نہ پائے یا پھر شور شرابہ ہو، تو ان صورتوں میں مستحب ہے کہ آپ اپنی بات کو دوہرائیں، تا کہ وہ سمجھ میں آ جائے۔ نبی ﷺ جب کچھ لوگوں کو سلام کرتے، تو تین دفعہ سلام کرتے۔ یعنی آپ ﷺ تین سے زیادہ دفعہ سلام نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ ایک دفعہ سلام کرتے، اگر وہ شخص سلام کا جواب نہ دیتا، تو دوسری دفعہ سلام کرتے۔ وہ اگر جواب نہ دیتا، تو پھر تیسری دفعہ سلام کرتے اور پھر بھی اگر وہ جواب نہ دیتا، تو اسے چھوڑ دیتے۔ اجازت مانگنے کے بارے میں بھی آپ ﷺ کا یہی معمول تھا کہ آپ ﷺ تین دفعہ اجازت مانگا کرتے تھے۔ یعنی آپ ﷺ جب کسی کے پاس آتے، تو اس کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت چاہتے اور تین دفعہ دروازہ کھٹکھٹاتے۔ اگر وہ جواب نہ دیتا تو واپس لوٹ جاتے۔ یہ آپ ﷺ کی سنت تھی کہ آپ ﷺ امور کو تین دفعہ دوہراتے اور پھر چھوڑ دیتے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، 1423ه - 2002م. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى، 1428هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، الطبعة: الرابعة، 1428هـ. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن، الرياض، الطبعة: 1426هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى، 1422هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ أَيْضًا».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔"
رواه أبو داوددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ایک مسلمان جب بھی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے۔ حتی کہ اگر دونوں ساتھ چل رہے ہوں اور اسی دوران بیچ میں پیڑ، دیوار اور کوئی بڑا پتھر وغیرہ آ جائے، تو دوبارہ ملتے وقت پھر سے اسے سلام کرے۔

فوائد
  1. سلام کو عام کرنا اور ہر تغیر حال کے وقت پھر سے سلام کرنا مستحب ہے۔
  2. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سلام کی سنت کو عام کرنے کا بے حد اہتمام کیا کرتے تھے، کیوں کہ اس سے مسلمانوں کے درمیان محبت والفت پیدا ہوتی ہے۔
  3. سلام کرنے سے مراد "السلام علیکم" یا "السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ" کہنا ہے۔ اس کے اندر مصافحہ، جو پہلی بار ملتے وقت کیا جاتا ہے، شامل نہيں ہے۔
  4. سلام دعا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔ خواہ بار بار ہی کیوں نہ ملاقات ہو۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 494) (5200). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص520). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 138). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 667). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 410).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں حکم دیا کہ جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو جو بیٹھی ہے سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لما خلق الله آدم صلى الله عليه وسلم قال: اذهب فَسَلِّمْ على أولئك -نَفَرٍ من الملائكة جلوس- فاستمع ما يُحَيُّونَكَ؛ فإنها تَحِيَّتُكَ وتحية ذُرِّيتِكَ. فقال: السلام عليكم، فقالوا: السلام عليك ورحمة الله، فَزَادُوهُ: ورحمة الله».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں حکم دیا کہ جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو جو بیٹھی ہے، سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔چنانچہ انہوں نے کہا: السلام علیکم۔ فرشتوں نے جواب دیا:السلام علیک و رحمۃ اللہ۔ ان فرشتوں نے لفظ رحمۃ اللہ کا اضافہ کیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو انہیں حکم دیا کہ فرشتوں کی ایک جماعت کو جا کر سلام کریں اور وہ انہیں جو جواب دیں اسے سنیں۔ یہ باہمی سلام و جواب ان کے لیے اور ان کے بعد ان کی اولاد کے لیے، جو رسولوں کے لائے گئے دین پر قائم ہوں گے، مشروع سلام ہو گا۔ چنانچہ آدم علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم۔ اوراس کے جواب میں فرشتوں نے کہا: السلام عليك ورحمة الله۔ فرشتوں نے ”ورحمۃ اللہ“ کے الفاظ کا اضافہ کیا۔ چنانچہ سلام کرنے اور اس کا جواب دینے کے لیے یہی الفاظ مشروع ٹھہرے۔دیگر احادیث میں ”ورحمۃ اللہ و برکاتہ“ کے الفاظ کی زیادتی آئی ہے چاہے یہ سلام کرنے میں ہو یا اس کا جواب دینے میں۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية، عام النشر: 1410 هـ - 1990 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے ابو بطن! ہم لوگوں کو سلام کرنے کی غرض سے بازار جاتے ہیں، کہ جس سے ملیں اسے سلام کریں۔

عن الطُّفَيْلَ بن أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أنه كان يأتي عبد الله بن عمر، فيَغْدُو معه إلى السوق، قال: فإذا غَدَوْنَا إلى السوق، لم يَمُرَّ عبد الله على سَقَّاطٍ ولا صاحب بَيْعَةٍ ، ولا مسكين، ولا أحد إلا سَلَّمَ عليه، قال الطُفيل: فجئت عبد الله بن عمر يوما، فَاسْتَتْبَعَنِي إلى السوق، فقلت له: ما تصنع بالسوق، وأنت لا تَقِف على البيع، ولا تسأل عن السِّلَعِ، ولا تَسُومُ بها، ولا تجلس في مجالس السوق؟ وأقول: اجلس بنا هاهنا نَتَحَدَثُ، فقال: يا أبا بَطْنٍ -وكان الطفيل ذا بَطْنٍ- إنما نَغْدُو من أجل السلام، فنُسَلِّمُ على من لَقيْنَاهُ.
طفیل بن ابی بن کعب سے روایت ہے کہ وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آتے تھے، پھر ان کے ساتھ بازار کی طرف نکلتے۔ طفیل نے فرمایا کہ جب ہم بازار جاتے، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ کسی چھوٹی یا بڑی دکان والے، کسی مسکین یا کسی اور شخص کے پاس سے گزرتے تو اسے سلام کرتے۔ طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا ایک دن میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ مجھے اپنے پیچھے پیچھے بازار لے گئے۔ میں نے ان سے کہا۔ آپ بازار میں کیا کرنے جارہے آپ وہاں نہ کوئی چیز خریدتے ہیں، نہ کسی چیز کے بارے میں پوچھتے ہیں، نہ بھاؤ تاؤ کرتے ہیں اور نہ ہی بازار میں کہیں بیٹھتے ہیں؟ میں تو کہتا ہوں یہیں بیٹھ جائیں باتیں کرتے ہیں۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو البطن –طفیل بڑے پیٹ والے تھے- ہم لوگوں کو سلام کرنے کی غرض سے بازار جاتے ہیں، کہ جس سے ملیں اسے سلام کریں۔
اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

طفیل بن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وعن ابیہ ہمیشہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس جاتے تھے، پھر ان کے ساتھ بازار جاتے۔ طفیل فرماتے ہیں کہ جب ہم بازار میں داخل ہوتے تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی بساطی چیز بیچنے والے کے پاس سے گزرتے۔ بیاع السقاط سے مراد ہے ردِّی وُدِّی بیچنے والا۔ ”ولا صاحب بَيْعَةٍ“ اس سے مراد مہنگی اور نفیس اشیاء بیچنے والا۔ ”ولا مسكين ولا أحد إلا سلَّم عليه“ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما جس سے ملتے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب، ہر ایک کو سلام کرتے۔ طفیل رضی اللہ عنہ وعن ابیہ نے کہا ”فجئت عبد الله ابن عمر يوماً“ یعنی میں کسی کام کے لیے ان کے پاس آیا تو انہوں نے بازار جانے کے لیے مجھے اپنے پیچھے آنے کو کہا۔ میں نے ان سے کہا: ”ما تصنع بالسوق وأنت لا تقِف على البَيع“ یعنی آپ بازار جا کر کوئی چیز بیچتے یا خریدتے نہیں، بلکہ سامان کے بارے میں پوچھتے بھی نہیں اور نہ ہی لوگوں کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرتے ہیں اور نہ کوئی اور ایسا کام کرتے ہیں جو بازاروں میں ہوتے ہیں! جب آپ کے پاس بازار لے جانے والا کوئی سبب نہیں ہے تو پھر جانے کا فائدہ ہی کیا جب کہ آپ کو بازار جانے کی کوئی ضرورت بھی تو نہیں ہے؟! ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اے بڑے پیٹ والے – راوی کا بیان ہے کہ طفیل کا پیٹ بڑا تھا – یعنی طفیل کا پیٹ ان کے سینے کے برابر نہیں تھا، بلکہ اس سے بڑھا ہوا تھا۔ ”إنما نَغْدُو من أجل السلام ، فنسلِّم على من لقيناه“ یعنی بازار جانے کا مقصد کوئی چیز خریدنا یا وہاں بیٹھنا نہیں، بلکہ سلام کرکے نیکیاں کمانا ہے۔ یہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کا لوگوں میں سلام پھیلا کر سنت پر عمل کرنے کی حرص تھی۔ اس لیے کہ انہیں یہ علم تھا کہ یہ تو ٹھنڈی غنیمت (یعنی بلا تعب و مشقت ثواب پانا) ہے، مختصر کلمات ہیں جو انسان پر کچھ بھی گراں نہیں۔ اس میں بہت زیادہ خیر ہے۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر. نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ، الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428 هـ الموطأ، تأليف: مالك بن أنس الأصبحي، تحقيق: محمد مصطفى الأعظمي ، الناشر: مؤسسة زايد بن سلطان آل نهيان للأعمال الخيرية والإنسانية، الطبعة: الأولى، 1425 هـ الأدب المفرد، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: دار الصديق للنشر والتوزيع، الطبعة: الرابعة، 1418 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ”السلام علیکم“ کہا، نبی ﷺ نے اس کا جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا دس (نیکیاں)، دوسرا آیا اور اس نے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ” کہا، نبی ﷺ نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس۔

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَشْرٌ» ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ، فَقَالَ: «عِشْرُونَ» ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ، فَقَالَ: «ثَلَاثُونَ».
عمران بن حُصين رضی الله عنهما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ”السلام علیکم“ کہا، نبی ﷺ نے اس کا جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا دس (نیکیاں)، دوسرا آیا اور اس نے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ” کہا، نبی ﷺ نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس، پھر تیسرا آیا اور اس نے ”السلام علیکم وحمۃ اللہ وبرکاتہ“ کہا، نبی ﷺ نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا تیس۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا ، اس نے کہا ’’السلام عليكم ‘‘ آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا پھر وہ بیٹھ گیا تو نبی ﷺ نے خبر دیا کہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھی گئی ہیں، جو شخص اس جملے کو کہے گا اس کے لیے یہ اجر ہے، اگر اللہ تعالی چاہے تو اسے اپنی طرف سے مزید دے سکتا ہے، پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے کہا ’’السلام عليكم ورحمة الله‘‘ آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا نبی ﷺ نے فرمایا اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی گئی ہیں، کیونکہ اس نے پہلے شخص کے مقابلے ’’ورحمة الله‘‘ کا اضافہ کیا، پھر تیسرا آدمی آیا اس نے کہا ’’السلام عليكم ورحمة الله وبركاته‘‘ آپ نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا نبی ﷺ نے فرمایا اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی گئی ہیں ، یہی سلام کے صیغوں کا آخری حصہ ہے۔

حوالہ

سنن أبي داود (7/ 491) (5195). سنن الترمذي (4/ 420) (2689). مسند أحمد (33/ 170) (19948). كنوز رياض الصالحين ، لمجموعة من الباحثين (11/ 246). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (3/ 132). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (1/ 663). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 399).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
24 میں سے 8
24 احادیث
  1. اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولا ــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے او ر تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں۔
  2. میں آج رسول اللہ ﷺ کے دربان کی ذمہ داری سر انجام دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے دروازے کو دھکیلا، تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکر!۔ میں نے کہا: ذراٹھہریے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابوبکر دروازے پر موجود ہیں اور اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انھیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی۔
  3. جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے، تو سلام کرے اور جب اٹھ کر جانے لگے، تو بھی سلام کرے اور پہلا دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ہے
  4. نبی ﷺ جب کوئی بات کہتے، تو اسے تین بار دوہراتے، تاکہ آپ ﷺ کی بات کو پوری طرح سمجھ لیا جائے اور جب کچھ لوگوں کے پاس آ کر سلام کرتے، تو انھیں تین بار سلام کرتے۔
  5. جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔
  6. جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں حکم دیا کہ جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو جو بیٹھی ہے سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔
  7. اے ابو بطن! ہم لوگوں کو سلام کرنے کی غرض سے بازار جاتے ہیں، کہ جس سے ملیں اسے سلام کریں۔
  8. ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ”السلام علیکم“ کہا، نبی ﷺ نے اس کا جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا دس (نیکیاں)، دوسرا آیا اور اس نے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ” کہا، نبی ﷺ نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس۔
  9. لوگوں میں اللہ کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے، جو ان میں سے سلام کرنے میں پہل کرتا ہے۔
  10. ایک شخص نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آنے کی اجازت دے دو۔ یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی برا شخص ہے۔
  11. ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا ،جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا‘‘
  12. ہم نبی ﷺ كے لیے آپ کے حصے كا دودھ اٹھاکر رکھ دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ رات کو تشریف لاتے اور اس طرح سلام کرتے کہ سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے اور بیدار کو سنا دیتے۔
  13. عليك السلام نہ کہو۔ عليك السلام سے تو مردوں کو سلام کیا جاتا ہے۔
  14. سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کريں۔
  15. ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کسی سے تمھارا آمنا سامنا ہو جائے، تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“۔
  16. چھوٹا بڑے کو، راہ گیر بیٹھے ہوئے کو اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔
  17. جب ایک جماعت کسی کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک آدمی کا سلام کرنا کافی ہے۔ اور جماعت میں سے ایک آدمی کا جواب دینا کافی ہے
  18. ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ رشتہ منقطع رکھے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملیں اور یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے، جو سلام میں پہل کر لے“
  19. کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں مصافحہ کا معمول تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔
  20. ان کا گزر چند بچوں کے پاس سے ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا اور فرمایا: نبی ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
  21. ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اسلام کا کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور جانے پہچانے اور ان جانے سب کو سلام کرو۔
  22. اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔
  23. ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسولﷺ! ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے، تو کیا وہ اس کے سامنے جھک جائے؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اس نے کہا : پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں!
  24. جب دو مسلمان آپس ميں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہيں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے"۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com