سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ أَيْضًا».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔"
رواه أبو داوددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ایک مسلمان جب بھی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے۔ حتی کہ اگر دونوں ساتھ چل رہے ہوں اور اسی دوران بیچ میں پیڑ، دیوار اور کوئی بڑا پتھر وغیرہ آ جائے، تو دوبارہ ملتے وقت پھر سے اسے سلام کرے۔

فوائد
  1. سلام کو عام کرنا اور ہر تغیر حال کے وقت پھر سے سلام کرنا مستحب ہے۔
  2. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سلام کی سنت کو عام کرنے کا بے حد اہتمام کیا کرتے تھے، کیوں کہ اس سے مسلمانوں کے درمیان محبت والفت پیدا ہوتی ہے۔
  3. سلام کرنے سے مراد "السلام علیکم" یا "السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ" کہنا ہے۔ اس کے اندر مصافحہ، جو پہلی بار ملتے وقت کیا جاتا ہے، شامل نہيں ہے۔
  4. سلام دعا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔ خواہ بار بار ہی کیوں نہ ملاقات ہو۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 494) (5200). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص520). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 138). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 667). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 410).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
سلام کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com