”کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں مصافحے کا معمول تھا“ یعنی کیا صحابہ کرام میں ملاقات کے وقت سلام کے بعد محبت اور اکرام کی زیادتی کے لیے مصافحہ کرنے کا معمول تھا؟ مصافحہ داہنے ہاتھ سے ہوتا ہے۔ مصافحہ کرنے کے بعد جُدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ دونوں کے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یہ حدیث ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ اس وقت ہے کہ جب ملاقات کے وقت بات چیت وغیرہ کرنے کا ارادہ ہو۔ جہاں تک بازار وغیرہ میں صرف ملاقات کا تعلق ہے، تو یہ صحابہ کی سنت نہیں۔ یعنی جب تم بازار میں لوگوں کے پاس سے گزرو، تو تمھارے لیے ان کو سلام کرنا ہی کافی ہے۔
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.