سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما : أن عليَّ بنَ أبي طالبٍ رضي الله عنه خَرَجَ من عندِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم في وَجَعِهِ الذي تُوُفِّيَ فيه، فقالَ الناسُ: يا أبَا الحَسَنِ، كيفَ أَصْبَحَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ؟ قالَ: أَصْبَحَ بِحَمدِ اللهِ بَارِئًا.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس مرض میں رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، اس میں علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ہاں سے باہر آئے۔ لوگ پوچھنے لگے: اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے صبح کیسے کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ہاں سے باہرآئے، جب کہ آپ ﷺ اس مرض میں مبتلا تھے، جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے داماد اور چچا زاد تھے۔ علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ: آج نبی ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ یہ سوال صحابۂ کرام کی نبی ﷺ کےساتھ چاہت و محبت اور آپ ﷺ کےلیے ان کی فکرمندی کی بنا پر تھا۔ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
سلام کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com