سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، اِن شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔

عن عبدالله بن عباس رضي الله عنهما أنّ النبي صلى الله عليه وسلم دخلَ على أعرابيٍّ يَعُودُه، وكان إذا دَخَلَ على مَن يَعودُه، قال: «لا بأس؛ طَهُور إن شاء الله».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کی عیادت کرنے کے لیے گئے، اور نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، ان شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کے بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرنے کے لیے گئے اور نبی ﷺ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے، تو کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی کوئی سختی اور تکلیف کی بات نہیں اور تمہارا یہ مرض تمہارے گناہوں، عیبوں کو إن شاء اللہ پاک کرنے والا ہو گا، نیز آخرت میں بلندیٔ درجات کا سبب بھی بنے گا۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. كنوز رياض الصالحين، فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف ملا علي القاري، تحقيق صدقي العطار، دار الفكر-بيروت، الطبعة الأولى، 1412هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
بیمار پرسی کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com