عن أبي واقد الحارث بن عوف رضي الله عنه أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس في المسجد، والناس معه، إذ أقبل ثلاثَةُ نَفَرٍ، فأقبل اثنان إلى رسول الله، صلى الله عليه وسلم وذهب واحد، فوقفا على رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأما أحدهما فرأى فُرْجَةً في الْحَلْقَةِ فجلس فيها، وأما الآخر فجلس خلفهم، وأما الثالث فأدْبَر ذاهبٍا، فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ألا أُخْبِرُكُم عن النَّفَرِ الثلاثة: أما أحدهم فأَوَى إلى الله فآوَاهُ الله إليه، وأما الآخر فاسْتَحْيا فاسْتَحْيَا الله منه، وأما الآخر، فأعْرَضَ، فأعرضَ اللهُ عنه».
ابو واقد حارث بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اتنے میں تین افراد آئے۔ دو تو رسول اللہ ﷺ کی طرف آ گیے اور ایک واپس چلا گیا۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کھڑے ہو گیے۔ ان میں سے ایک نے حلقے میں کچھ کشادگی دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا جب کہ تیسرا واپس لوٹ گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ (اپنی گفتگو سے) فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تین افراد کے بارے میں نہ بتاوں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کے پاس ٹھہرنا چاہا تو اللہ نے بھی اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا جب کہ دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا کی (کہ اسے مجلس کی برکت سے محروم نہ رکھا) اورتیسرے نے منہ موڑا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں لوگوں کے ہمراہ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں تین آدمی وہاں آئے۔ ان میں سے دو تو رسول اللہ ﷺ کی طرف آ گیے اور ایک واپس چلا گیا۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کےحلقے کے پاس آکر کھڑے ہوگیے۔ ان میں سے ایک کو حلقے میں خالی جگہ نظر آئی تو وہ وہاں بیٹھ گیا۔ اس حلقے میں کچھ لوگ تھے جو نبی ﷺ کے سامنے گول دائرے کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب کہ دوسرا شخص ان کے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا شخص واپس لوٹ گیا۔ نبی ﷺ جو گفتگو فرما رہے تھے اس سے جب فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟۔ ان میں سے ایک نے اللہ کے پاس ٹھہرنا چاہا تو اللہ نے بھی اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا یعنی اس نے خالی جگہ پر بیٹھ کر اللہ کا ذکر سننا شروع کر دیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس مبارک مجلس کی فضیلت سے نوازا۔ جب کہ دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا کی یعنی (کسی کو ) دھکیلے بغیر وہ حلقے کے پیچھے بیٹھ گیا چنانچہ اسے بھی اس مجلس کی برکت سے محروم نہ رکھا گیا۔ جب کہ تیسرے شخص نے منہ موڑا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا یعنی وہ بلا کسی عذر کے واپس چلا گیا اس لیے مجلس کی برکت سے محروم کر دیا گیا۔
حوالہ
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، دار طوق النجاة، ط: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي – بيروت.
رياض الصالحين، للنووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق -بيروت، ط: الأولى 1428هـ.
نزهة المتقين، لمجموعة من المؤلفين، مؤسسة الرسالة، ط: الرابعة عشر،1407هـ.
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، بإشراف مؤسسة الشيخ، دار الوطن للنشر، الرياض، ط: 1426هـ.
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي، دار ابن الجوزي، السعودية، ط: الثالثة 1418هـ.
تطريز رياض الصالحين، تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة -الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.
صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة: علوي بن عبد القادر السَّقَّاف، دار الهجرة الطبعة: الثالثة ، 1426هـ - 2006م.
عن سمرة بن جندب رضي الله عنه قال: لقد كنت على عَهْدِ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم غُلاما، فكنت أحفظ عنه، فما يمنعني من القول إلا أن هاهنا رِجَالًا هم أَسَنُّ مِنِّي.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک نو عمر لڑکا تھا اور میں آپ ﷺ سے (احادیث سن کر) یاد کر .لیا کرتا تھا۔ (ان احادیث کو) بیان کرنے میں میرے لیے سوائے اس کے کوئی شے مانع نہیں ہوتی تھی کہ یہاں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں، جو عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں وہ کم سن تھے اور وہ آپ ﷺ کے بعض فرمودات کو ذہن نشین کر لیا کرتے تھے، جنھیں بیان کرنے سے انھیں بس یہ بات روکتی تھی کہ یہاں ان سے بڑی عمر کے لوگ موجود ہیں۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة 1425هـ.
رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى 1430هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے اگر میں کرتا رہوں، تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺنے فرمایا : ’’اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰة کی ادائيگی کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔‘‘ اس دیہاتی نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس پر کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ جب وہ واپس جانے لگا، تو نبی کريم ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کو کوئی جنتی ديکھنا پسند ہو، وہ اس شخص کو دیکھ لے۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
دیہات کا رہنے والا ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، تاکہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتا دیں، جو اسے جنت میں داخل کر دے۔ لہذا آپ نے اسے بتایا کہ جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے نجات پانے کی سعادت موقوف ہے ارکان اسلام کی ادائیگی پر، جو اس طرح ہیں : ایک اللہ کی عبادت کرنا اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا، پانچ وقت کی نمازیں قائم کرنا، جنہیں اللہ نے دن ورات میں اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔ مال کی جو زکاۃ واجب ہے‘ اسے نکال کر مستحقین کو دینا، وقت پر ماہ رمضان کے روزوں کی پابندی کرنا۔ اتنا سننے کے بعد وہ شخص بولا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں آپ سے سنے ہوئے فرض اعمال سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم۔ لہذا جب وہ شخص جانے لگا، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جسے کو کوئی جنتی انسان ديکھنا پسند ہو، تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔
فوائد
دعوت کے کام کا آغاز ایک اللہ کی عبادت سے ہونا چاہیے۔
نئے نئے مسلمان ہونے والے انسان کو صرف واجبات سکھانے پر اکتفا کرنا چاہیے۔
یہ ضروری ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام بہ تدریج انجام دیا جائے۔
آدمی کو اپنے دین کی بات سیکھنے کا حریص ہونا چاہیے۔
صرف واجبات کی ادائیگی سے بھی انسان کام یاب ہو جائے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان نوافل کی ادائيگی میں سستی سے کام لے۔ کیوں کہ نوافل کے ذریعے فرائض میں رہ جانے والی کمیوں کو پورا کیا جاتا ہے۔
بطور خاص بعض عبادتوں کا ذکر ان کی اہمیت اور وجوب کی دلیل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر عبادتیں واجب نہیں ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 105) (1397).
صحيح مسلم (1/ 44) (14).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (15/ 588).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 349).
نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 861).
منار القاري، لحمزة قاسم (3/ 5).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (1/ 82).
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ کیا میں تمھیں ایک تحفہ نہ دوں؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جان گئے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، لیکن (یہ نہيں معلوم کہ) ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : "تم کہو : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ"۔ (اے اللہ ! محمد (ﷺ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد (ﷺ)پر، جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے۔ بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔ اے اللہ ! محمد (ﷺ) پر اور آل محمد (ﷺ) پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے۔ بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔)
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
صحابہ رضی اللہ عنہم کو جب پتہ ہو گیا کہ التحیات میں "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته..." کہہ کر آپ پر سلام بھیجا جائے گا، تو آپ سے پوچھا کہ آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟ جواب میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو آپ پر درود بھیجنے کا طریقہ بتا دیا، جو کچھ اس طرح ہے : "اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمد" یعنی: اے اللہ! مقرب فرشتوں کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے دین کے پیروکاروں اور آپ کے اہل ایمان رشتے داروں کی ذکر جمیل کے ذریعے تعریف کر۔ "كما صلَّيتَ على آل إبراهيم" جس طرح آل ابراہیم یعنی ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور ان کی مومن اولاد و متبعین کو تونے یہ اعزاز بخشا ہے، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی اس اعزاز سے سرفراز فرما۔ "إنك حميد مجيد" یعنی تو اپنی ذات، صفات اور افعال میں قابل تعریف اور بے پناہ عظمتوں، بلند شان و شوکت اور بیش بہا نوازشوں والا ہے۔ "اللهم بارك على محمدٍ وعلى آل محمد كما باركتَ على آل إبراهيم" یعنی آپ کو بڑی خیر و عزت عطا فرما، اس میں اضافہ فرما اور اسے قائم و دائم رکھ۔
فوائد
سلف ایک دوسرے کو علمی مسائل کا ہدیہ پیش کیا کرتے تھے۔
نماز کے آخری تشہد میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنا واجب ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو درود وسلام بھیجنے کی تعلیم دی۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کے یہ کلمات کامل ترین کلمات ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 77) (6357).
صحيح مسلم (1/ 305) (406).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص208).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 270).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 170).
عن أبي رِفَاعَةَ تَمِيم بن أُسَيدٍ رضي الله عنه قَالَ: انتهيتُ إلى رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وهو يَخطبُ، فَقُلتُ: يَا رسولَ اللهِ، رَجُلٌ غَريبٌ جاءَ يَسألُ عن دِينِهِ لا يَدرِي مَا دِينُهُ؟ فَأَقْبلَ عليَّ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وتَرَكَ خُطبتَهُ حتى انتَهى إليَّ، فأُتِيَ بكُرسِيٍّ، فَقَعَدَ عليه، وجَعَلَ يُعَلِّمُنِي ممّا عَلَّمَهُ اللهُ، ثم أتى خُطبتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا.
ابو رفاعہ تمیم بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، درآں حالے کہ آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک مسافر دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہے، اُسے نہیں معلوم کہ دین کیا ہے؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہوئے، یہاں تک کہ میرے پاس آ گئے۔ پھر ایک کرسی لائی گئی آپ ﷺ اُس پر تشریف فرما ہوئے اور جو کچھ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دین کا علم دیا تھا، اُس کی مجھے تعلیم دی۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا خطبہ پورا کیا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
یہ آپ ﷺ کا کمال تواضع تھا کہ ایک شخص اس وقت آپ کی خدمت میں آیا، جب آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ شخص کہنے لگا کہ میں ایک مسافر آدمی ہوں، جو اپنے دین کے بارے پوچھنا چاہتا ہے۔ نبی ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑ کر اس کے پاس آ گئے۔ آپ ﷺ کے لیے ایک کرسی لائی گئی اور آپ ﷺ (اس پر تشریف فرما ہوکر) اس شخص کو تعلیم دینے لگے؛ کیوںکہ وہ شخص علم کی چاہت و محبت لے کر آیا تھا اور خواہش رکھتا تھا کہ دین کو سیکھے، تاکہ اس پرعمل کر سکے۔ چنانچہ نبی ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور خطبہ چھوڑ کر اسے تعلیم دی اور پھر بعد میں اپنا خطبہ مکمل کیا۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ.
شرح صحيح مسلم؛ للإمام محي الدين النووي، دار الريان للتراث-القاهرة، الطبعة الأولى، 1407هـ.
صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا، جس سے اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کی جاتی ہے، تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوش بو تک نہیں پائے گا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہےکہ جو شخص شرعی علوم اور ان کے فہم و تفہیم میں معاون علوم، جیسے علوم عربیہ وغیرہ حاصل کرے، جن سے اللہ تعالیٰ کی خوش نودی طلب کی جاتی ہے، لیکن اس کا مقصد اللہ کی خوش نودی اور آخرت کی بجائے، محض دنیوی مال و متاع، جیسے دولت یا جاہ و منصب ہو، تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو قیامت کے دن ایسی سخت سزا دے گا کہ اس کو جنت کی خوش بو بھی نصیب نہ ہوگی؛ اس کی وجہ یہ ہے اس نے آخرت کے لیے کیا جانے والا عمل دنیا طلبی کے لیے انجام دیا۔ جنت کی خوش بو سے محرومی کی تعبیر، جنت سے محرومی کے معنی میں مبالغہ و شدت پیدا کرتی ہے؛ کیوںکہ جس کو کسی چیز کی خوش بو بھی میسر نہ آئے، تو قطعی طور پر اسے وہ چیز حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس وعید کو اس مفہوم میں لیا جائے گا کہ ایسا شخص ایسی سزا کا مستحق ہے کہ اس کو جنت میں داخل نہ کیا جائے، تاہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے گناہ گار کا معاملہ عام گناہ گار جیسا ہی ہوگا، شرط یہ کہ وہ ایمان کی حالت میں مرے۔
حوالہ
سنن أبي داود (5/ 504) (3664).
سنن ابن ماجه (1/ 169) (252).
مسند أحمد (14/ 169) (8457).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 477).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (16/ 507).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 957).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 447).
عون المعبود شرح سنن أبي داود، العظيم آبادي (10/ 70).
حاشية السندي على سنن ابن ماجه، لمحمد التتوي (1/ 110).
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ سُئِلَ عن عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يوم القيامةِ بِلِجَامٍ مِنْ نارٍ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں علم کو چھپانے پر سخت ترین تنبیہ وارد ہوئی ہے۔ جس شخص سے کوئی علمی مسئلہ دریافت کیا گیا اور دریافت کنندہ کو اس علمی مسئلہ سے واقفیت حاصل کرنے کی دینی ضرورت ہو، تو مسئول پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلے کی وضاحت کرے، لیکن اگر اس نے جواب نہ کر یا نہ لکھ کر اس مسئلے کی وضاحت نہہیں کی، تو جیسے کو تیسا کے مطابق، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈال دے گا۔ جس طرح اس نے جواب نہ دیتے ہوئے اپنےمنہ پر لگام لگا رکھی تھی۔ یقینا بدلہ عمل کی جنس سے ہی ملے گا۔ اس حدیث میں وارد وعید کے مستحق وہ لوگ ہوں گے، جو اس بات سے واقف ہو ں کہ سائل اپنے سوال سے رشد و ہدایت کا طلب گار ہے، لیکن جب مسئول کو پتہ چل جائے کہ سائل کا مقصد اس کا امتحان ہے، اس کا مقصد علم حاصل کرکے اس پر عمل کرنا نہیں ہے، تو مسئول کو اختیار ہےکہ چاہے تو اس کے سوال کا جواب دے یا نہ دے۔ ایسا شخص اس حدیث میں وارد وعید کا سزاوار نہ ہو گا۔
حوالہ
- الجامع الصحيح –وهو سنن الترمذي-؛ للإمام محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وآخرين، مكتبة الحلبي-مصر، الطبعة الثانية، 1388هـ.
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح؛ تأليف ملا علي القاري، تحقيق صدقي العطار، دار الفكر-بيروت، الطبعة الأولى، 1412هـ.
- مشكاة المصابيح؛ تأليف محمد بن عبدالله التبريزي، تحقيق محمد ناصر الدين الألباني، المكتب الإسلامي-بيروت، الطبعة الثانية، 1399هـ.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت.
- مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م.
- مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.
- بهجة الناظرين, سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م.
- سنن ابن ماجه, ابن ماجه أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي, الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
- مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، أبو الحسن عبيد الله بن محمد الرحماني المباركفوري, الناشر: إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء - الجامعة السلفية، بنارس الهند, الطبعة: الثالثة - 1404 هـ، 1984 م.
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ (اور خوش) رکھے، جس نے مجھ سے کوئی بات سنی، پھر اس نے اسے جیسے مجھ سے سنا تھا ہو بہو ویسے ہی دوسروں تک پہنچا دیا، کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات (حدیث) پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو سمجھنے والے ہوتے ہیں“۔
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا میں تازگی و سرسبزی اور آخرت میں سرسبزی وشادابی اور نعمتوں کے حصول کی دعا ہر اس شخص کے لیے فرمائی ہے، جو آپ کی حدیث سنے، اسے یاد رکھے اور دوسروں کو پہنچا دے۔ کیوں کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ناقل حدیث کے مقابلے میں اس سے اخذ کرنے والا ہی کہیں زیادہ یاد رکھنے والا، سمجھنے والا اور استنباط کی صلاحیت رکھنے والا ہوتا ہے۔ ایسے میں پہلا شخص حفظ ونقل کا کام بہتر انداز سے کرتا ہے اور دوسرا فہم واستنباط کا کام بہتر طریقے سے کرتا ہے۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو یاد کرنے اور اسے لوگوں کو پہنچانے کی ترغیب۔
اہلِ حدیث اور طلب حدیث کے مقام ومرتبہ کا بیان۔
ان علما کی فضیلت جو استنباط اور فہم کی صلاحیت رکھتے ہيں۔
صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت، جنھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث سنی اور اسے ہم تک پہنچایا۔
مناوی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی حدیث کے لیے فقیہ ہونا شرط نہیں ہے۔ اس کے لیے شرط یاد رکھنا ہے۔ فہم وتدبر کا کام فقیہ کا ہے۔
ابن عیینہ کہتے ہیں: طالب حدیث کے چہرے سے ہمیشہ تازگی جھلکتی ہے۔
محدثین کے یہاں حفظ کی دو قسمیں ہیں۔ حفظ قلب وصدر اور حفظ کتاب وسطر۔ دونوں اس حدیث میں کی گئی دعا میں شامل ہیں۔
لوگوں کی سمجھ مختلف ہوتی ہے۔ کیوں کہ بہت سے پہنچائے گئے لوگ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں اور بہت سے فقہ کے حامل لوگ فقیہ نہیں ہوا کرتے۔
حوالہ
سنن الترمذي (4/ 394) (2657).
سنن ابن ماجه (1/ 157) (232).
مسند أحمد (7/ 221) (4157).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 476).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 446).
فيض القدير شرح الجامع الصغير، لعبدالرؤوف المناوي (3/ 206).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (16/ 496).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 956).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com