اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا میں تازگی و سرسبزی اور آخرت میں سرسبزی وشادابی اور نعمتوں کے حصول کی دعا ہر اس شخص کے لیے فرمائی ہے، جو آپ کی حدیث سنے، اسے یاد رکھے اور دوسروں کو پہنچا دے۔ کیوں کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ناقل حدیث کے مقابلے میں اس سے اخذ کرنے والا ہی کہیں زیادہ یاد رکھنے والا، سمجھنے والا اور استنباط کی صلاحیت رکھنے والا ہوتا ہے۔ ایسے میں پہلا شخص حفظ ونقل کا کام بہتر انداز سے کرتا ہے اور دوسرا فہم واستنباط کا کام بہتر طریقے سے کرتا ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو یاد کرنے اور اسے لوگوں کو پہنچانے کی ترغیب۔
- اہلِ حدیث اور طلب حدیث کے مقام ومرتبہ کا بیان۔
- ان علما کی فضیلت جو استنباط اور فہم کی صلاحیت رکھتے ہيں۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت، جنھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث سنی اور اسے ہم تک پہنچایا۔
- مناوی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی حدیث کے لیے فقیہ ہونا شرط نہیں ہے۔ اس کے لیے شرط یاد رکھنا ہے۔ فہم وتدبر کا کام فقیہ کا ہے۔
- ابن عیینہ کہتے ہیں: طالب حدیث کے چہرے سے ہمیشہ تازگی جھلکتی ہے۔
- محدثین کے یہاں حفظ کی دو قسمیں ہیں۔ حفظ قلب وصدر اور حفظ کتاب وسطر۔ دونوں اس حدیث میں کی گئی دعا میں شامل ہیں۔
- لوگوں کی سمجھ مختلف ہوتی ہے۔ کیوں کہ بہت سے پہنچائے گئے لوگ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں اور بہت سے فقہ کے حامل لوگ فقیہ نہیں ہوا کرتے۔
سنن الترمذي (4/ 394) (2657). سنن ابن ماجه (1/ 157) (232). مسند أحمد (7/ 221) (4157). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 476). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 446). فيض القدير شرح الجامع الصغير، لعبدالرؤوف المناوي (3/ 206). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (16/ 496). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 956).