سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

علم کی فضیلت

16 احادیث

میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کر تا ہے۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللهَ، قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟ قَالُوا: وَاللهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي: وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «مَا أَجْلَسَكُمْ؟» قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ، وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا، قَالَ: «آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟» قَالُوا: وَاللهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں لوگوں کے ایک حلقے کے پاس آئے اور پوچھا : تم یہاں کس لیے بیٹھے ہو؟ لوگوں نے جواب دیا : ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم کھاکر بتاؤ کہ تم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہو؟ لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ہم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہیں۔ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نےکہا کہ میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک تھا۔ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو میری طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قربت رکھتا ہو اور آپ سے اتنی کم حدیثيں روایت کرتا ہو۔ بات یہ ہےکہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے صحابہ کے ایک حلقے کے پاس آئے اور پوچھا : "تم کس لیے بیٹھے ہو؟" صحابہ نے جواب دیا : ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کر ر ہے ہیں کہ اس نے ہمیں دین اسلام کی راہ دکھائی اور ہمیں اپنے فضل وکرم سے یہ دین عطا کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "قسم کھاؤ کہ تم اسی غرض سے بیٹھے ہو"۔ انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ہم اسی غرض سے بیٹھے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کر تا ہے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

معاویہ بن ابو سفیان مسجد میں موجود ایک حلقے کے پاس پہنچے اور حلقے میں شامل لوگوں سے پوچھا کہ وہ کس مقصد سے بیٹھے ہوئے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا : اللہ کا ذکر کرنے کے ارادے سے۔ چنانچہ انھوں نے ان کو قسم کھانے کو کہا کہ کیا واقعی ان کے بیٹھنے اور یکجا ہونے کا مقصد اللہ کے ذکر کے سوا کچھ اور نہيں ہے؟ جب انھوں نے قسم کھا لی، تو فرمایا : میں نے تم کو قسم کھانے کو اس لیے نہيں کہا کہ میں تمھیں جھوٹا سمجھتا ہوں اور تمھارے سچے ہونے میں مجھے شبہ ہے۔ پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں ان کو کیا مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ بتایا کہ ان کو آپ سے جو قربت حاصل تھی، وہ کسی اور کو نہيں تھی۔ کیوں کہ ان کی بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی تھیں اور خود وہ کاتبین وحی میں شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے آپ سے بہت کم حدیثیں نقل کی ہیں۔ پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن گھر سے نکلے، تو دیکھا کہ کچھ صحابہ مسجد میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہيں اور اسلام کی ہدایت دینے پر اس کی تعریف کر رہے ہيں۔ چنانچہ آپ نے ان سے بیٹھنے کا مقصد پوچھا اور قسم بھی کھانے کو کہا، جیسا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ پھر آپ نے اپنے ساتھیوں کو بیٹھنےکا سبب پوچھنے اور قسم کھانے کو کہنے کی وجہ بھی بتا دی۔ بتایا کہ آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے اور بتا رہے تھے کہ اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے ان پر فخر و مباہات کر رہا ہے، ان کی فضیلت کا اظہار کر رہا ہے، ان کا حسن عمل دکھا رہا ہے اور ان کی تعریف کر رہا ہے۔

فوائد
  1. معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کا علم کی نشر و اشاعت کے جذبے سے سرشار ہونا۔
  2. جھوٹ کا اندیشہ نہ ہونے کے باجود اس ارادے سے قسم کھلانا جائز ہے کہ خبر کی اہمیت واضح ہو جائے۔
  3. ذِکر اور علمی اجتماعات کی فضیلت۔ اللہ اس طرح کے اجتماعات سے محبت رکھتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2075) (2701). نزهة المتقين (2/ 993). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 522). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 271).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان أخوانِ على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وكان أحدُهما يأتي النبي صلى الله عليه وسلم والآخر يَحتَرِف، فَشَكَا الُمحتَرِف أَخَاه للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: «لعَلَّك تُرزَقُ بِهِ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو آپ ﷺ کی مجلس میں آیا کرتا اور علم کے حصول اور آپ ﷺ کے اقوال و افعال سیکھنے کے لیے ہمہ وقت آپ ﷺ کے ساتھ رہتا، جب کہ دوسرا کوئی کام کاج کرتا اور روزی کماتا تھا۔ اس کام کاج کرنے والے نے نبی ﷺ کے حضور اپنے بھائی کی شکایت کی کہ وہ کام نہیں کرتا۔ اس پر آپ ﷺ نےا سے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی دیکھ بھال اور کفالت کرنا تمھارے لیے تمھارے رزق کے حصول میں آسانی کا باعث ہو۔ کیوں کہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے، تب تک اللہ بھی اس کی مدد میں رہتا ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. جامع الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر وآخرون، ط2، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، 1395هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425هـ. صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص طلب علم میں (اپنے گھر سے) نکلتا ہے وہ ایسے ہے جیسے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے۔

عن أنس رضي الله عنه مرفوعاً: «من خَرج في طلب العلم فهو في سَبِيلِ الله حتى يرجع».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص طلب علم میں (اپنے گھر سے) نکلتا ہے وہ ایسے ہے جیسے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

حدیث کا مفہوم: جو شخص اپنےگھر یا اپنے شہر سے شرعی علم کے حصول کے لیے نکلتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ آئے۔ کیونکہ ایسا شخص دین کے احیاء، شیطان کو نیچا دکھانے اور اپنے آپ کو مشقت میں مبتلا کرنے میں ایسے ہی ہے جیسے جہاد کرنے والا ہوتا ہے۔

فوائد
  1. علم کا طلب کرنا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔
  2. طالب علم کے لیے جنگ کے میدانوں میں لڑنے والے مجاہد کے برابر ثواب ہے، کیوں کہ ان میں سے ہر ایک ایسا کام انجام دیتا ہے جس کے ذریعہ اللہ کی شریعت مضبوط ہوتی ہے اور اس کی خرد برد سے حفاظت ہوتی ہے۔
  3. اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ جو شخص طلب علم کے لیے نکلتا ہے، اس کو اس کے چلنے، جانے اور آنے کا ثواب ملتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنا گھر لوٹ آئے۔
حوالہ

جامع الترمذي، تحقيق وتعليق:أحمد محمد شاكر وآخرون، مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، ط2، مصر، 1395هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425ه. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. صحيح الترغيب والترهيب، للألباني، ط5، مكتبة المعارف – الرياض. مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للمباركفوري، الطبعة الثالثة، إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، الجامعة السلفية - بنارس الهند، 1404هـ. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للقاري، ط1، دار الفكر، بيروت، 1422هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بادل کی طرح ہے جو زمین پر برسا ، زمین کا کچھ حصہ اچھا تھا اُس نے اس پانی کو جذب کر لیا اور اس نے چارہ اور بہت سا سبزہ اُگایا اور زمین کا بعض حصہ سخت تھا ، اس نے پانی کو روک لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع دیا ، انہوں نے وہ پانی خود پیا ، جانوروں کو پلایا اور کھیتیاں بھی کیں۔

عَنْ أَبِي مُوسَى رَضيَ اللهُ عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ مِنَ الهُدَى وَالعِلْمِ كَمَثَلِ الغَيْثِ الكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ، قَبِلَتِ المَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الكَلَأَ وَالعُشْبَ الكَثِيرَ، وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ، أَمْسَكَتِ المَاءَ، فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا، وَأَصَابَتْ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لاَ تُمْسِكُ مَاءً وَلاَ تُنْبِتُ كَلَأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی، زمین کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے اس پانی کو جذب کر لیا اور اس نے چارہ اور بہت سا سبزہ اگایا اور زمین کا بعض حصہ سخت تھا ، اس نے پانی کو روک لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع دیا ، انہوں نے وہ پانی خود پیا ، جانوروں کو پلایا اور کھیتیاں کیں۔ جب کہ زمین کا بعض حصہ چٹیل میدان تھا ، جس پر بارش ہوئی تو اس نے نہ پانی کو روکا اور نہ کسی قسم کی گھاس اگائی۔ پہلی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اس کا فیض پہنچایا اور اللہ تعالیٰ نے جس ہدایت کے ساتھ مجھے مبعوث کیا ہے اس کا علم حاصل کیا اور وہ علم آگے پہنچایا (آنے والی نسلوں تک منتقل کیا) اور دوسری مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس کی طرف سر اٹھاکر نہیں دیکھا اور جس ہدایت کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے اس کو قبول نہیں کیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

آپ ﷺ نے فرمایا ” اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی“ آپ ﷺ نے علم و ہدایت کے ذریعے دوسروں کو نفع پہنچانے والوں کو زمین کی پیداوار پر ہونے والی بارش سے تشبیہ دی ہے۔ زمین کی تین قسمیں ہیں: پاک زمین جس نے پانی کو قبول کر لیا اور بہت ساری گھاس اور کھیتی اُگائی، لوگ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ دوسری وہ زمین جو کچھ اُگاتی تو نہیں تاہم پانی جمع کر لیتی ہے، لوگ اس پانی سے نفع حاصل کرتے ہیں، اس سے پانی پیتے ہیں، آسودہ ہوتے ہیں، اور اس سے اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں۔ تیسری وہ زمین جو نہ ہی پانی کو روکتی ہے اور نہ ہی کچھ اُگاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اپنے نبی کو دیے ہوئے علم وہدایت کے اعتبار سے لوگوں کی مختلف قسمیں ہیں۔ بعض لوگ اللہ کے دین کی سمجھ رکھتے ہیں، علم حاصل کرکے دوسروں کو سکھاتے ہیں اور لوگ بھی اس کے علم سے مستفید ہوتے ہیں اور وہ خود بھی مستفید ہوتا ہے۔ دوسری قسم میں وہ لوگ جو ہدایت یافتہ ہیں، لیکن انہیں دین میں تفقّہ حاصل نہیں، بایں طور کہ وہ علم اور حدیث کو روایت کرتے ہیں، لیکن علمِ فقہ ان کے پاس نہیں۔ تیسری قسم میں وہ لوگ جو علم و ہدایت بالکل بھی حاصل نہ کریں، اس سے اعراض کر کے لاپرواہی کا مظاہرہ کریں۔ یہ لوگ نہ خود علم سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو نفع پہنچاتے ہیں۔

حوالہ

صحيح البخاري (1/ 27) (79). صحيح مسلم (4/ 1787) (2282). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 464). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 294). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 950).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمِ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ اس پر دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی عیب پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلا اللہ تعالیٰ اس كی وجہ سے اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردیتا ہے۔ جب کوئی قوم اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتی ہے اور اسے آپس میں پڑھتی پڑھاتی ہے، تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، (اللہ تعالیٰ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ اور جس کا عمل اسے پیچھے کردے، اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکتا۔“
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک مسلمان کو اسی نوعیت کا اجر وثواب ملتا ہے، جو وہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتا ہے۔ جس نے کسی مسلمان سے دنیا کی کوئى بھى پریشانی اور سختى دور کى، تو اللہ تعالیٰ بدلے کے طور پر اسے قیامت کے دن کى پریشانیوں اور مشکلات میں سے کسى ایک پریشانی اور سختى سے نجات عطا فرمائے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اسے سہولت فراہم کی اور اس کی تنگ دستی کو دور کیا، اللہ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی کی راہیں نکالے گا۔ جو شخص کسی مسلمان سے ہونے والی کسی لغزش سے واقف ہو گیا، جس کا شکار اسے نہيں ہونا چاہیے تھا، پھر اس پر پردہ ڈال دیا، تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کی لغزشوں پر پردہ ڈالے گا۔ اللہ بندے کی مدد اس وقت تک کرتا رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کے دینی و دنیوی کاموں میں اس کی مدد کرنے کی راہ پر گام زن رہتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مدد دعا کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے، بدن کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے اور مال وغیرہ کے ذریعے بھی۔ جو شخص اللہ کی رضا جوئی کی خاطر علم شرعی کی تلاش میں چل پڑا، اس کے بدلے میں اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ جب کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں جمع ہوتے ہيں، اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے آپس میں پڑھتے پڑھاتے ہيں، تو ان پر وقار و اطمینان کی بارش ہوتی ہے، ان کو اللہ کی رحمت اپنے سایے میں لے لیتی ہے، فرشتے انھیں گھیر لیتے ہيں اور اللہ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے ان کی تعریف کرتا ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کا ذکر اللہ اپنے مقرب فرشتوں میں کر دے۔ جس کا عمل ناقص ہو، اس کا نسب اسے سرگرم عمل رہنے والے لوگوں کے مرتبے تک پہنچا نہیں سکتا۔ لہذا انسان کو اپنے اونچے حسب نسب اور آبا و اجداد کے فضل و شرف پر بھروسہ کر کے عمل کے میدان میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔

فوائد
  1. ابن دقیق العید کہتے ہیں : یہ حدیث مختلف طرح کے علوم، قواعد اور آداب پر مشتمل ایک عظیم ترین حدیث ہے۔ اس میں مسلمانوں کی ضرورتیں پوری کرنے اور انھیں اپنے علم، مال، تعاون، مشورہ یا خیرخواہی وغیرہ سے مستفید کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
  2. تنگ دست انسان کے ساتھ آسانی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
  3. مسلم بندہ کی مدد کرنے پر ابھارا گیا ہے، کیوں کہ بندہ جس قدر اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے، اسی قدر اللہ تعالی بھی اس کی مدد کرتا ہے۔
  4. مسلمان کی پردہ پوشی کے اندر اس کی کمیوں کی کھوج بین نہ کرنا بھی شامل ہے۔ کسی سلف نے کہا : میں نے کچھ لوگوں کو پایا جن کے عیوب نہيں تھے، لیکن جب انھوں نے لوگوں کے عیوب کا چرچا کرنا شروع کر دیا، تو لوگوں نے بھی ان کے عیوب کا ذکر کرنا شروع کر دیا۔ اس کے برخلاف میں نے کچھ لوگوں کو پایا، جن کے عیوب تھے، لیکن انھوں نے لوگوں کے عیوب کا ذکر نہيں کیا، تو ان کے عیوب بھلا دیے گئے۔
  5. پردہ پوشی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برائی کو ہونے دیا جائے اور اس کی نکیر کرنا چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ برائی کی نکیر بھی کی جائے گی اور پردہ پوشی سے بھی کام لیا جائے گا۔ دراصل پردہ پوشی ایسے شخص کی کرنی ہے، جو برائی اور سرکشی میں معروف نہ ہو۔ جو برائی اور سرکشی میں معروف ہو چکا ہو، اس کا معاملہ حکومتی اہل کاروں تک پہنچا دیا جائے گا۔ بہ شرط یہ کہ اس سے کوئی دوسری برائی جنم لینے کا اندیشہ نہ ہو۔ کیوں کہ اس طرح کے شخص کی پردہ پوشی اس کی حوصلہ افزائی کرے گی، اسے بندوں کو تکلیف دینے پر آمادہ کرے گی اور دوسرے برائی کرنے والوں کو جری بنائے گی۔
  6. طلب علم، تلاوت قرآن اور قرآن کا دور کرنے کی ترغیب۔
  7. نووی کہتے ہیں : اس حدیث میں قرآن کریم کی تلاوت کے لیے مسجد میں یکجا ہونے کی دلیل موجود ہے۔ اس فضیلت کے حصول میں مدرسہ اور رباط وغیرہ میں جمع ہونے کو مسجد میں جمع ہونے کے زمرے میں رکھا جائے گا۔
  8. جزا و ثواب اعمال کی بنیاد پر ملتا ہے۔ حسب نسب کی بنیاد پر نہیں۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2074) (2699). التحفة الربانية، لإسماعيل الأنصاري (ص82). الأحاديث الأربعون النووية وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله المحسن (ص69). شرح الأربعين النووية ، لابن عثيمين (ص355).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے

عن معاوية رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ، وَاللهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللهِ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ».
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : ”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ میں تو بس تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا اللہ ہے۔ یہ امت اللہ کے دین پو قائم رہے گی، اس کی مخالفت کرنے والے اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے اپنے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات ایک بانٹنے والے کی ہے۔ آپ اللہ کا دیا ہوا مال اور علم وغیرہ لوگوں کے بیچ بانٹنے کا کام کرتے ہيں۔ جب کہ اصل دینے والا اللہ ہے۔ اس کے سوا دوسرے لوگ اسباب ہیں، جو اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کا کچھ بھلا نہیں کر سکتے۔ تیسری بات آپ نے یہ بتائی کہ یہ امت قیامت کے دن تک اللہ کے دین پر قائم رہے گی اور اس کی مخالفت کرنے والے اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔

فوائد
  1. شرعی علم کی عظمت، اسے سیکھنے کی فضیلت اور زیورِ علم سے آراستہ ہونے کی ترغیب۔
  2. اس امت کے اندر سچے دین پر عمل کرنے والے ہمیشہ موجود رہیں گے۔ اگر ایک گروہ اس سے بے رخی برتے گا تو دوسرا گروہ اس پر قائم ہوجائے گا۔
  3. کسی شخص کو دین کی سمجھ اس وقت حاصل ہوتی ہے، جب اللہ اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے۔
  4. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے دیتے ہيں۔ آپ کسی چیز کے مالک نہيں ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 25) (71). صحيح مسلم (2/ 718) (1037). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 485). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 324). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 424). سبل السلام بشرح بلوغ المرام، للصنعاني (2/ 688).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے۔

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ البَاهِلِيِّ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ العَالِمِ عَلَى العَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرَضِينَ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الخَيْرَ».
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے، جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے دعائيں کرتی ہیں، جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَن لغيره
تشریح

اس حدیث میں علم اور اس شرعی علوم کے حامل شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جو فرض عبادات کی ادائیگی کے ساتھ حتی المقدور نوافل کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ ”عابد“ یعنی خود کو عبادت کے لیے وقف کردینے والے پر۔ ”جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر“ یعنی عالم کا فضل و شرف، عابد کے مقابلے میں ویسا ہی ہے، جیسا رسول اللہ ﷺ کا فضل و شرف ایک ادنی صحابی کے مقابلے میں۔ ادنی صحابی رسول، مراد لینے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت آپ کےاس قول”ادناکم“ کے مخاطب صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم ہی تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:”یقینا اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور آسمانوں اور زمین میں بسنے والے“ یعنی زمین پر رہنے والے تمام انسان، جنات اور تمام حیوانات، یہاں تک کہ بلوں یعنی سوراخوں میں رہنے والی چیونٹیاں اور مچھلیاں بھی لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والوں کے حق میں خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔ یہاں خیر سے مراد علم دین اور وہ چیزیں ہیں، جن سے دنیا و آخرت کی نجات وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے صلاۃ سے مراد، اس کے مقرب فرشتوں کے گروہ کے روبرو، بندے کی تعریف و ستائش ہے اور فرشتوں کی جانب سے صلاۃ سے مراد بندے کے حق میں استغفار ہے۔ اس شخص سے بڑھ کر کسی کا کوئی مقام نہیں ہوسکتا، جس کے حق میں روزقیامت تک فرشتے اور تمام مخلوقات، استغفار اور دعا میں مصروف ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے اجر وثواب کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔

حوالہ

سنن الترمذي (4/ 416) (2685). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (16/ 481). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (1/ 298). فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي (4/ 432). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 469). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص758). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 954).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے

عن أبي الدرداء رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ سَلَكَ طَريقا يَبْتَغي فيه عِلْما سَهَّل الله له طريقا إلى الجنة، وإنَّ الملائكةَ لَتَضَعُ أجْنِحَتها لطالب العلم رضًا بما يَصنَع، وإنَ العالم لَيَسْتَغْفِرُ له مَنْ في السماوات ومَنْ في الأرض حتى الحيتَانُ في الماء، وفضْلُ العالم على العَابِدِ كَفَضْلِ القمر على سائِرِ الكواكب، وإنَّ العلماء وَرَثَة الأنبياء، وإنَّ الأنبياء لم يَوَرِّثُوا دينارا ولا دِرْهَماً وإنما وَرَّثُوا العلم، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بحَظٍّ وَافِرٍ».
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور یقینا عالم کے لیے آسمانوں و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے، جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔ بے شک علما، انبیا کے وارث ہیں اور انبیا نے کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انھوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے یہ علم حاصل کر لیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

طلب علم کے بعض فضائل کی توضیح و تشریح کے ضمن میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے: ان فضائل میں سب سے پہلی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص کسی راہ پر نکل پڑے اوراس راہ پر نکلنے کا مقصد محض طلب علم یا علم کی تحقیق ہو؛ چاہے وہ طالب علم گھر ہی میں کیوں نہ ہو، اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے طلب علم کا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ یعنی اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردے گا۔ علمی راہ اپنانے میں جس طرح حسی راستہ شامل ہے، جس میں انسان اپنے قدموں کے ذریعے چل کر جاتا ہے، اسی طرح اس میں معنوی راستہ بھی شامل ہے۔ مثلا انسان علما کی مجالس اور کتابی ذخیروں سے علم حاصل کرے۔ کیوں کہ جو شخص کسی شرعی مسئلے کا حکم جاننے کی غرض سے کتابوں کی تحقیق و مراجعہ کرتا ہے یا کسی شیخ کی مجلس میں بیٹھ کر اس سے استفادہ کرتا ہے،وہ بھی طلب علم کی راہ طے کر رہا ہوتا ہے، گرچہ وہ بیٹھا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔ اس حدیث میں مذکور فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین کی ساری مخلوقات یہاں تک کہ سمندر میں موجود مچھلیاں اورخشکی میں پائے جانے والے چوپائے بھی ان علما کے حق میں مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔ طلب علم کے فضائل میں یہ بھی ہے کہ اللہ عز وجل کی مکرم ومعزز مخلوق فرشتے بھی طالب علم کو علمی مشاغل میں مصروف دیکھتے ہوئے خوشی سے علم اور اہل علم کے روبرو اپنی فروتنی اور ان کی عظمت کے اعتراف میں اپنے پنکھ بچھا دیتے ہیں۔ اس حدیث میں نبی ﷺ کے ذکرکردہ فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ علما، انبیا کے وارث و جانشین ہوتے ہیں۔ یہ اس طرح سے کہ انھیں انبیا سے علم اور عمل کی دولت وراثت میں حاصل ہوئی۔ نیز دعوت الی اللہ اور انسانوں کی اللہ اور اس کے دین کی طرف رہ نمائی کا فریضہ بھی انھیں وراثت میں ملا ہے۔ اس میں یہ فضیلت بھی بیان کی گئی ہے کہ عابد پر عالم دین کو ایسے ہی امتیاز و برتری حاصل ہے، جیسے رات کے وقت کامل چاند کو دیگر سارے ستاروں پر حاصل ہوتی ہے؛ کیوں کہ عبادت کا نوراور اس کا کمال محض عابد تک محدود رہتا ہے، جس میں عابد کے علاوہ کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا اور اس نور کی حیثیت محض کسی ستارے جیسی ہے۔ جب کہ علم کانور اور اس کا کمال یہ ہے کہ وہ عالم کے علاوہ دیگر انسانوں کو بھی مستفید ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس بات کا بھی ذکر فرمایا کہ انبیا نے اپنے جانشینوں کے لیے دنیا کی کوئی بھی چیز وراثت میں نہ رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے دنیا میں درہم و دینار کی بجائے علم جیسی انتہائی عظیم میراث باقی رکھی۔ لہٰذا جس شخص نے اس علمی ورثے کو لے لیا، تو حقیقتا اس نے بھرپور انداز میں انبیا کی میراث پائی اور یہی حقیقی اور نفع بخش میراث ہے۔ یہاں مسلمان کو اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ فضیلت یافتہ عالم کی زندگی عمل سے اور عابد کی زندگی علم سے خالی ہو سکتی ہے؛ بلکہ اگر عابد کا دامن علم سے بھر جائے، تو وہ اپنے عمل میں قوی ہوجائے گا اور اگر عالم اپنے علم پر عمل پیرا ہوجائے، تو وہ اپنے علم میں قوی ہوگا۔ اسی بنا پر انہی علما کو انبیا کا وارث قرار دیا گیا، جو علم اور عمل کی اعلی خوبیوں کے حامل ہوں گے اور کمال (علم) اور تکمیل (اس کے مطابق عمل) کی فضیلتوں کو حرز جاں بنائے ہوئے ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والوں اور اس کی راہ کے راہ گیروں کا یہی طریقہ و منہج رہا ہے۔

حوالہ

- الجامع الصحيح -وهو سنن الترمذي-؛ للإمام محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وآخرين، مكتبة الحلبي-مصر، الطبعة الثانية، 1388هـ. - رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. - سنن أبي داود؛ للإمام أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني، تعليق عزت الدعاس وغيره، دار ابن حزم-بيروت، الطبعة الأولى، 1418هـ. - سنن ابن ماجه؛ للحافظ محمد بن يزيد القزويني، حققه محمد فؤاد عبدالباقي، دار إحياء الكتب العربية. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - صحيح الترغيب والترهيب؛ تأليف محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف-الرياض، الطبعة الخامسة. - كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. - سنن الترمذي، تأليف: محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وغيره ، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، الطبعة: الثانية، 1395 هـ. - مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001 م. - صَحِيحُ التَّرْغِيب وَالتَّرْهِيب, محمد ناصر الدين الألباني, مكتَبة المَعارف لِلنَشْرِ والتوزيْع، الرياض - المملكة العربية السعودية, الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2000 م. - بهجة الناظرين, سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. - مفتاح دار السعادة ومنشور ولاية العلم والإرادة, محمد بن أبي بكر بن أيوب بن سعد شمس الدين ابن قيم الجوزية, دار الكتب العلمية – بيروت. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, محمد علي بن محمد البكري الصديقي الشافعي, اعتنى بها: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان, الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م. - تطريز رياض الصالحين, فيصل بن عبد العزيز بن فيصل ابن حمد المبارك الحريملي النجدي, المحقق: د. عبد العزيز بن عبد الله آل حمد, دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض, الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. - حاشية السندي على سنن ابن ماجه = كفاية الحاجة في شرح سنن ابن ماجه, محمد بن عبد الهادي التتوي، أبو الحسن، نور الدين السندي, دار الجيل - بيروت، بدون طبعة. - تاج العروس من جواهر القاموس, محمّد بن محمّد بن عبد الرزّاق الحسيني، الملقّب بمرتضى، الزَّبيدي, مجموعة من المحققين, الناشر: دار الهداية.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
13 میں سے 8
13 احادیث
  1. میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کر تا ہے۔
  2. نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو۔
  3. جو شخص طلب علم میں (اپنے گھر سے) نکلتا ہے وہ ایسے ہے جیسے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے۔
  4. اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بادل کی طرح ہے جو زمین پر برسا ، زمین کا کچھ حصہ اچھا تھا اُس نے اس پانی کو جذب کر لیا اور اس نے چارہ اور بہت سا سبزہ اُگایا اور زمین کا بعض حصہ سخت تھا ، اس نے پانی کو روک لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع دیا ، انہوں نے وہ پانی خود پیا ، جانوروں کو پلایا اور کھیتیاں بھی کیں۔
  5. ”جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔
  6. ”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے
  7. عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے۔
  8. جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے
  9. انسان، کانوں کی طرح ہیں جیسے سونا اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی، ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں یہاں بھی وہ ایک دوسرے سے نا آشنا رہتی ہیں۔
  10. ”اللہ اس شخص کو تروتازہ (اور خوش) رکھے، جس نے مجھ سے کوئی بات سنی، پھر اس نے اسے جیسے مجھ سے سنا تھا ہو بہو ویسے ہی دوسروں تک پہنچا دیا، کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات (حدیث) پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو سمجھنے والے ہوتے ہیں“۔
  11. ”قیامت کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ علم دین اٹھا لہا جائے گا، جہالت زیادہ ہو جائے گی، بدکاری بکثرت پھیل جائے گی، شراب نوشی زیادہ ہو جائے گی، مرد کم رہ جائیں گے اورعورتیں زیادہ ہو جائیں گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگہبان ہوگا۔“
  12. وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں پڑھتے اور اس سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک کہ ان آیتوں میں موجود علم اور عمل کو سیکھ نہ لیتے
  13. اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس موجود اللہ کی کتاب کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ میں نے عرض کیا: ﴿اللَّهُ لَا إِلہ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ ان کا کہنا ہے کہ یہ سننے کے بعد آپﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ’’اللہ کی قسم ! ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو"۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com