حدیث کا مفہوم: جو شخص اپنےگھر یا اپنے شہر سے شرعی علم کے حصول کے لیے نکلتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ آئے۔ کیونکہ ایسا شخص دین کے احیاء، شیطان کو نیچا دکھانے اور اپنے آپ کو مشقت میں مبتلا کرنے میں ایسے ہی ہے جیسے جہاد کرنے والا ہوتا ہے۔
- علم کا طلب کرنا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔
- طالب علم کے لیے جنگ کے میدانوں میں لڑنے والے مجاہد کے برابر ثواب ہے، کیوں کہ ان میں سے ہر ایک ایسا کام انجام دیتا ہے جس کے ذریعہ اللہ کی شریعت مضبوط ہوتی ہے اور اس کی خرد برد سے حفاظت ہوتی ہے۔
- اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ جو شخص طلب علم کے لیے نکلتا ہے، اس کو اس کے چلنے، جانے اور آنے کا ثواب ملتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنا گھر لوٹ آئے۔
جامع الترمذي، تحقيق وتعليق:أحمد محمد شاكر وآخرون، مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، ط2، مصر، 1395هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425ه. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. صحيح الترغيب والترهيب، للألباني، ط5، مكتبة المعارف – الرياض. مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للمباركفوري، الطبعة الثالثة، إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، الجامعة السلفية - بنارس الهند، 1404هـ. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للقاري، ط1، دار الفكر، بيروت، 1422هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.