سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان أخوانِ على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وكان أحدُهما يأتي النبي صلى الله عليه وسلم والآخر يَحتَرِف، فَشَكَا الُمحتَرِف أَخَاه للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: «لعَلَّك تُرزَقُ بِهِ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو آپ ﷺ کی مجلس میں آیا کرتا اور علم کے حصول اور آپ ﷺ کے اقوال و افعال سیکھنے کے لیے ہمہ وقت آپ ﷺ کے ساتھ رہتا، جب کہ دوسرا کوئی کام کاج کرتا اور روزی کماتا تھا۔ اس کام کاج کرنے والے نے نبی ﷺ کے حضور اپنے بھائی کی شکایت کی کہ وہ کام نہیں کرتا۔ اس پر آپ ﷺ نےا سے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی دیکھ بھال اور کفالت کرنا تمھارے لیے تمھارے رزق کے حصول میں آسانی کا باعث ہو۔ کیوں کہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے، تب تک اللہ بھی اس کی مدد میں رہتا ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. جامع الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر وآخرون، ط2، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، 1395هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425هـ. صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
علم کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com