”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے
عن معاوية رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ، وَاللهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللهِ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ».
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : ”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ میں تو بس تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا اللہ ہے۔ یہ امت اللہ کے دین پو قائم رہے گی، اس کی مخالفت کرنے والے اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے اپنے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات ایک بانٹنے والے کی ہے۔ آپ اللہ کا دیا ہوا مال اور علم وغیرہ لوگوں کے بیچ بانٹنے کا کام کرتے ہيں۔ جب کہ اصل دینے والا اللہ ہے۔ اس کے سوا دوسرے لوگ اسباب ہیں، جو اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کا کچھ بھلا نہیں کر سکتے۔ تیسری بات آپ نے یہ بتائی کہ یہ امت قیامت کے دن تک اللہ کے دین پر قائم رہے گی اور اس کی مخالفت کرنے والے اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔
فوائد
شرعی علم کی عظمت، اسے سیکھنے کی فضیلت اور زیورِ علم سے آراستہ ہونے کی ترغیب۔
اس امت کے اندر سچے دین پر عمل کرنے والے ہمیشہ موجود رہیں گے۔ اگر ایک گروہ اس سے بے رخی برتے گا تو دوسرا گروہ اس پر قائم ہوجائے گا۔
کسی شخص کو دین کی سمجھ اس وقت حاصل ہوتی ہے، جب اللہ اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے دیتے ہيں۔ آپ کسی چیز کے مالک نہيں ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 25) (71).
صحيح مسلم (2/ 718) (1037).
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 485).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 324).
فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 424).
سبل السلام بشرح بلوغ المرام، للصنعاني (2/ 688).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com