سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں پڑھتے اور اس سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک کہ ان آیتوں میں موجود علم اور عمل کو سیکھ نہ لیتے

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمي رحمه الله قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ كَانَ يُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقْتَرِئُونَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ، فَلَا يَأْخُذُونَ فِي الْعَشْرِ الْأُخْرَى حَتَّى يَعْلَمُوا مَا فِي هَذِهِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ، قَالُوا: فَعَلِمْنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ.
ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سے ان صحابۂ کرام نے بیان کیا، جو ہمیں پڑھاتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں پڑھتے اور اس سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک کہ ان آیتوں میں موجود علم اور عمل کو سیکھ نہ لیتے۔ وہ کہتے کہ اس طرح ہم نے علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔
رواه أحمددرجہحسن
تشریح

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی دس آیتیں اخذ کرتے اور ان سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک ان دس آیتوں میں موجود علم کو سیکھ نہ لیتے اور اس پر عمل نہ کر لیتے۔ چناں چہ انہوں نے علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔

فوائد
  1. صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت اور قرآن سیکھنے کی تئیں ان کی حرص و رغبت۔
  2. قرآن سیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا علم حاصل کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، نہ یہ کہ صرف اس کی تلاوت کی جائے اور اسے یاد کیا جائے۔
  3. قول وعمل سے پہلے علم حاصل کرنا ضروری ہے۔
حوالہ

مسند أحمد (38/ 466) (23482).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
علمِ تجويد

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com