عن البراء بن عازب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «زَيِّنُوا القرآنَ بأصواتِكم».
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کیا کرو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
مراد یہ ہے کہ تلاوت کرتے ہوئے اپنی آوازوں کو خوبصورت بنا کر قرآن کو مزین کرو۔ کیونکہ اچھی آواز سے اچھے کلام کا حسن اور زینت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے معانی میں زیادہ سے زیادہ غور و تدبر ہو اور اوامر و نواہی اور وعدو وعید پر مشتمل آیات کی سمجھ پیدا ہو ۔ کیونکہ نفس طبعی طور پر اچھی آوازوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ خوبصورت آواز کی بدولت سوچ تمام آمیزشوں سے تہی ہو کر ذہنی یکسوئی کا سبب بن جائے۔ جب ذہن یکسو ہوتا ہے تو مطلوبہ شے یعنی خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے۔ حدیث میں آواز کو خوبصورت بنانے سے مراد وہ خوبصورتی ہے جس سے خشوع پیدا ہو نہ كہ گانے کے سروں اور لہو و لعب کی آوازیں جو قرأت کی تعریف کے دائرے سے نکل جاتی ہیں۔
حوالہ
- سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، نشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت.
- السنن الصغرى للنسائي "المجتبى"، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، نشر: مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، الطبعة: الثانية، 1406ه – 1986م.
- مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م.
- سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
- صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي.
- شرح كتاب التوحيد من صحيح البخاري، لعبد الله بن محمد الغنيمان، الناشر: مكتبة الدار، المدينة المنورة، الطبعة: الأولى، 1405 هـ.
- الميسر في شرح مصابيح السنة, فضل الله بن حسن شهاب الدين التُّورِبِشْتِي, المحقق: د. عبد الحميد هنداوي, مكتبة نزار مصطفى الباز, الطبعة: الثانية، 1429 هـ - 2008 هـ.
- شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى»، المؤلف: محمد بن علي بن آدم الإثيوبي الوَلَّوِي، الناشر: دار المعراج الدولية للنشر - دار آل بروم للنشر والتوزيع, الطبعة الأولى, 1416- 1424.
- شرح الطيبي على مشكاة المصابيح المسمى بـ (الكاشف عن حقائق السنن), شرف الدين الحسين بن عبد الله الطيبي, المحقق: د. عبد الحميد هنداوي, الناشر: مكتبة نزار مصطفى الباز - مكة المكرمة - الرياض - الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1997 م.
- إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري, أحمد بن محمد بن أبى بكر القسطلاني القتيبي المصري, الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر, الطبعة: السابعة، 1323 هـ.
ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سے ان صحابۂ کرام نے بیان کیا، جو ہمیں پڑھاتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں پڑھتے اور اس سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک کہ ان آیتوں میں موجود علم اور عمل کو سیکھ نہ لیتے۔ وہ کہتے کہ اس طرح ہم نے علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔
رواه أحمددرجہحسن
تشریح
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی دس آیتیں اخذ کرتے اور ان سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک ان دس آیتوں میں موجود علم کو سیکھ نہ لیتے اور اس پر عمل نہ کر لیتے۔ چناں چہ انہوں نے علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔
فوائد
صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت اور قرآن سیکھنے کی تئیں ان کی حرص و رغبت۔
قرآن سیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا علم حاصل کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، نہ یہ کہ صرف اس کی تلاوت کی جائے اور اسے یاد کیا جائے۔
قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قراءت کیسی تھی؟ تو انھوں نے فرمایا: ”مد والی تھی“، پھر انھوں نے بسم الله الرحمن الرحيم پڑھ کر سنائی؛ آپ بسم اللہ کو کھینچتے، الرحمن کو کھینچتے اور الرحیم کو کھینچتے تھے۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ قرآن کیسے پڑھتے تھے؟ تو انھوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ کی قراءت مد والی تھی؛ آپ ﷺ الله کے لام کو، الرحمن کے میم کو اور الرحیم کی حا کو کھینچتے تھے۔“
فوائد
مد سے مراد حروفِ مدہ یعنی الف، واو اور یاء کو کھینچ کر پڑھنا ہے، جب وہ ساکن ہوں اور ان سے پہلے ان کے مناسب حرکت ہو۔
تلاوتِ قرآن کے سلسلے میں نبی ﷺ کے طریقے کا بیان۔
نبی اکرم ﷺ کی قراءت کی کیفیت بیان کرنے کی عملی تطبیق۔
سندھی کہتے ہيں: ان کے قول ”يمد صوته مدًا“ سے مراد یہ ہے کہ وہ ان حروف کو دراز کرتے ہیں جو دراز کیے جانے کے لائق ہوں، تاکہ اس کے ذریعے تدبر وتفکر میں مدد حاصل کریں اور نصیحت قبول کرنے والوں کو یاد دہانی کرائیں۔
تجوید اور علوم قرآن جاننے کی اہمیت۔
نصوص کو سمجھنے کے لیے علماء کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے سائل کے لیے وضاحت فرما دی۔
حوالہ
صحيح البخاري (6/ 195) (5046).
عمدة القاري (20/55).
ابن ابی مُلَیکَہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے -ابو عامر کہتے ہیں کہ نافع نے کہا: میرے خیال میں وہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں- کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”تم لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔“ ان سے عرض کیا گیا کہ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے ٹھہر ٹھہر کر قراءت کی۔ ابو عامر کہتے ہیں کہ نافع نے کہا: پھر ابن ابی مُلَیکَہ نے ہمیں {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} پڑھ کر سنایا، پھر {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} پر ٹھہرے، پھر {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} پر ٹھہرے۔
رواه أحمددرجہصحيح
تشریح
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قرأتِ قرآن کیسی تھی؟ اس پر انہوں نے کہا: تم لوگ اس جیسی قراءت نہیں کر سکتے، تو ان سے کہا گیا: ہمیں بتا دیجیے۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن ابی مُلَیکَہ نے نبی ﷺ کی قراءت کا طریقہ بیان کرنے کے لیے ہمارے سامنے ٹھہر ٹھہر کر قراءت کی، چنانچہ انہوں نے پڑھا: {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}، پھر ٹھہر گئے، {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، پھر ٹھہر گئے، {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}۔
فوائد
قرآن کریم کی تلاوت میں نبی ﷺ کے طریقے کا بیان۔
نبی اکرم ﷺ کی قراءت کی کیفیت کا عملی بیان۔
قرآن کی قراءت میں ترتیل کی مشروعیت، کیونکہ یہ قرآن میں تدبر کا زیادہ باعث ہے۔
قرآن کریم اور نبی ﷺ کے عمل کے تئیں سلف صالحین کا اہتمام۔
تجوید اور علومِ قرآن جاننے کی اہمیت۔
حوالہ
مسند أحمد (44/ 70) (26470).
الفتح الرباني لترتيب مسند أحمد الشيباني (3/237).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com